عورت کبھی دو ٹکے کی نہیں ہوتی
انسانی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بڑی واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ جس معاشرے نے عورت کو عزت دی، اس معاشرے نے ترقی کی، اور جس معاشرے نے عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا، وہ معاشرہ زوال کا شکار ہو گیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کے بارے میں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید کر کے اسے صرف ایک نوکرانی سمجھتا ہے، اور دوسرا طبقہ ایسا ہے جو آزادی کے نام پر عورت کو اس کے اصل مقام سے گرا کر بازار کی زینت بنا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام نے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک معتدل اور خوبصورت راستہ دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا ہے جو نہ مشرق دے سکا نہ مغرب۔ آج سوشل میڈیا پر ایک جملہ بہت گردش کر رہا ہے کہ "عورت کبھی بھی دو ٹکے کی نہیں ہوتی"۔ بظاہر یہ ایک عام سا جملہ لگتا ہے لیکن اس جملے کی گہرائی میں اگر اترا جائے تو اس میں پورے معاشرے کی اصلاح کا راز پوشیدہ ہے۔ آئیے اسی جملے کی روشنی میں عورت کے اصل مقام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماں جنت ہے: ماں کے قدموں تلے جنت ہے، یہ صرف ایک کہاوت نہیں بلکہ نبی ک...