اشاعتیں

"بوڑھے والدین - اللہ کی نعمت, بوجھ نہیں"

تصویر
آج کل ہر اسکول میں ایک نیا رجھان آیا ہے، گرینڈ پیرنٹس ڈےمنانے کا۔ ہم بڑے جوش و خروش سے اسٹیج سجاتے ہیں، بچوں سے نظمیں پڑھواتے ہیں، دادا دادی، نانا نانی کو کارڈ دیتے ہیں اور تالیوں میں ان کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو حقیقت اس اسٹیج سے بہت مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن ہاتھوں کو ہم آج اسٹیج پر پھول دے رہے ہیں، گھروں میں وہی ہاتھ اکثر تنہا رہ جاتے ہیں۔ جن کی باتوں کو ہم آج مائیک پر بڑی عقیدت سے سن رہے ہیں، گھروں میں انہی کی باتوں کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم نے بزرگوں کو دیواروں پر لگی تصویروں اور سال میں ایک دن کی تقریب تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ وہ بوجھ نہیں، ہمارے گھروں کی برکت اور رحمت ہیں۔۔ وہ گھر جہاں اپنے نہیں رہتے بات کچھ دن پہلے کی ہے، مجھے ایک جگہ جانے کا موقع ملا جسے لوگ اولڈ ایج ہوم کہتے ہیں۔ باہر سے وہ ایک عام عمارت لگتی تھی، لیکن اندر قدم رکھتے ہی مجھے لگا جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہوں۔ وہاں سب سے پہلے میری ملاقات وہاں کی نگران سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں رہنے والے بزرگ کیسے ہیں؟ تو وہ ایک لمبی سانس لے کر بولیں کہ یہاں ہر شخص کی اپنی ا...

بچوں کی تعلیم پر نظر رکھنا - والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری

تصویر
  آج ہمارے معاشرے میں ایک عام سوچ بن گئی ہے کہ بچے کو اچھے سکول میں داخل کرا دیا، مہنگی فیس دے دی، اچھا ٹیوٹر رکھ دیا یا مسجد میں قاری صاحب کے پاس بٹھا دیا تو بس ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی۔ لیکن ہمارے سلف صالحین کا مزاج اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ بچہ صرف کتاب سے نہیں سیکھتا، وہ استاد کے لہجے، اس کی باتوں، اس کے مزاج اور اس کی ترجیحات سے بھی سیکھتا ہے۔ اسی لیے وہ استاد کے انتخاب میں جتنی سختی کرتے تھے، اتنی ہی نظر اس پر بھی رکھتے تھے کہ وہ بچوں کو سکھا کیا رہا ہے۔ اولاد کو آگ سے بچانا صرف روٹی کپڑا نہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ﴾* "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔" (سورۃ التحریم: 6) اس آیت کی تفسیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: *"عَلِّمُوهُمْ وَأَدِّبُوهُمْ"* "انہیں علم سکھاؤ اور ادب سکھاؤ۔" (تفسیر الطبری: 23/491) یعنی بچوں کو آگ سے بچانا صرف یہ نہیں کہ انہیں حرام سے روک دیا جائے، بلکہ انہیں وہ علم اور وہ ادب دینا ہے جو انہیں جہنم سے دور ل...

کامیاب شادی کا قرآنی تعلیمات

تصویر
1. قرآن کے مطابق آپ کو کس سے شادی کرنی چاہیے؟ 14 خوبیاں جو ہر رشتے میں ہونی چاہئیں 2. شادی سے پہلے قرآن کی یہ 14 نصیحتیں ضرور یاد رکھیں، زندگی جنت بن جائے گی 3. رشتہ دیکھتے وقت کیا دیکھنا چاہیے؟ قرآن نے بہترین جیون ساتھی کی پہچان بتا دی 4. کامیاب شادی کا قرآنی فارمولا - ایسا شخص جس سے شادی کرنی چاہیے قرآن آپکو بتاتا ہے کہ آپکو کس سے شادی کرنی چاہیے؟ — ایک مکمل رہنمائی آج کے دور میں جب رشتے کے لیے سب سے پہلے ذات، برادری، نوکری، تنخواہ، خوبصورتی اور گھر دیکھا جاتا ہے، تو یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ ہمارا دین ہمیں شریکِ حیات کے انتخاب کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پاک نے شادی کو صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں، بلکہ سکون، محبت اور رحمت کا رشتہ قرار دیا ہے۔ اگر ہم قرآن کی روشنی میں اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کریں تو ہماری زندگی دنیا میں بھی جنت بن سکتی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں قرآن کن 14 خوبیوں والے شخص سے شادی کا درس دیتا ہے: 1. جو حسن سلوک اور مہربانی سے پیش آئے - سورۃ النساء قرآن فرماتا ہے: وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ - عورتوں کے ...

پڑوسی کے ساتھ حُسنِ اخلاق - ایک بھولی ہوئی سنت

تصویر
ہمارے معاشرے کا ایک یہ بھی المیہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز رکھتے ہوئے بھی اپنے پڑوسیوں سے بلکل ناواقف ہوتے ہیں آج ہم مسجد میں سب کے ساتھ مسکرا کر ملتے ہیں، فیس بک پر ہزاروں دوست ہیں، لیکن اپنے ساتھ والے گھر میں رہنے والے پڑوسیوں کے حال احوال کی کوئی خیر خبر نہیں۔ یہ ہے آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ۔ اسلام نے پڑوسی کو جو مقام دیا ہے، شاید ہی کسی اور مذہب نے دیا ہو۔ قرآن میں پڑوسی کا حق: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *"وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ"* (النساء) اس آیت میں اللہ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ پڑوسی کا بھی ذکر کیا۔ دو طرح کے پڑوسی بتائے، ایک رشتہ دار پڑوسی، اور ایک اجنبی پڑوسی، دونوں کا حق ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: *"مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ"* (بخاری و مسلم) ترجمہ: جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں...

بچے کی تربیت کا سنہری دور

تصویر
  عموماً ہمارے معاشرے میں دین و اسلام کی دوری اور شعور کی کمی کی وجہ سے بچوں کی تربیت کو بہت غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور بچوں کو جنم دینے کے بعد ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے وہ جس حالت میں یا جس سانچے میں ڈھلنا چاہیں اپنی مرضی سے ڈھل جاتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں جہالت اس قدر عروج پر ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال، بچوں کو نہلانا دھلانا، کھانا کھلانا اور دیگر معاملات کو تربیت سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ ان عوامل سے اپنے بچوں کو چرند پرند اور جانور بھی ایک احسن طریقے سے گزار دیتے ہیں  ،درحقیقت تربیت دین اسلام اور آخرت کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانیت حسنِ اَخلاق، سچ جھوٹ، حلال حرام اور ایک مثبت کردار کا نام ہے ڈاکٹر کہتے ہیں، انسانی دماغ کی 80 فیصد نشوونما 3 سے 6 سال کی عمر میں ہو جاتی ہے۔ اسلام بھی یہی کہتا ہے، بچپن میں جو نقش دل پر بنتا ہے، وہ پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔ یہ 3 سال آپ کے بچے کی پوری زندگی کا فیصلہ کر دیں گے، اگر آپ نے اس وقت محنت کر لی تو ساری زندگی آرام سے گزرے گی۔ اللہ فرماتا ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" (البقرہ:)  مائیں اپنے بچوں کو دو س...

مجازی خدا یا دوست، شوہر یا ہم سفر

تصویر
  (رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ گھر میں رویہ ، گھر کے کاموں میں مدد، سنت نبوی) آج ہمارے معاشرے میں مرد سمجھتا ہے کہ میری ذمہ داری صرف باہر کمانا ہے، گھر کا کام بیوی کا ہے۔ لیکن جس ہستی کو ہم اپنا نبی ﷺ مانتے ہیں، جس کی شفاعت کے بغیر جنت نہیں ملے گی، اس کا گھر میں رویہ کیا تھا؟ کیا وہ بھی ایسے ہی حکم چلاتے تھے؟ آئیے سنت کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء)  اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔  یہ صرف نصیحت نہیں، یہ اللہ کا حکم ہے۔ اور "معروف" کا مطلب ہے، وہ سلوک جو عقل، شریعت اور محبت کے مطابق بہترین ہو۔ دوسری جگہ فرمایا: "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً" (الروم)   اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت ڈال دی۔ بیوی سکون کی جگہ ہے، نوکرانی نہیں۔ نبی ﷺ کا گھر میں رویہ کیسا تھا؟ ام المومنین حضرت عائشہؓ ...

روحانی والدین، قوم کے معمار

تصویر
  یومِ اساتذہ: کیا ہم اپنے محسنوں کو بھول رہے ہیں؟ 5 اکتوبر، یومِ اساتذہ پر ہر طرف Happy Teachers Day کے پیغامات تو نظر آتے ہیں، لیکن اگر ہم دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو کیا آج استاد کو وہ عزت مل رہی ہے جس کا وہ حقدار ہے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا منظر بہت بدل گیا ہے۔ آج کل کا بچہ کلاس میں استاد کے سامنے ادب کرنا بھول گیا ہے۔ معمولی ڈانٹ پر بدتمیزی، جواب دیناعام ہو گیا ہے۔ اور دوسری طرف والدین کا رویہ، چھوٹی چھوٹی بات پر اسکول آ جانا، بغیر تحقیق کے بچے کی بات سن کر استاد کو بے عزت کر دینا، اور یہ سمجھنا کہ ہم نے فیس دے دی ہے تو استاد ہمارا ملازم ہے۔ وہ استاد جو کبھی روحانی باپ کہلاتا تھا، آج اسی معاشرے میں تنہا اور دل شکستہ کھڑا ہے۔ ہم نے بڑے بڑے عہدے تو حاصل کر لیے، لیکن وہ ہاتھ جنہوں نے ہمیں قلم پکڑنا سکھایا، ہم انہی کو بھول گئے۔ استاد صرف وہ نہیں جو بلیک بورڈ پر لکھتا ہے، استاد تو قوم کا معمار ہے۔ وہی ہے جو ہمیں پہلی بار قلم پکڑنا سکھاتا ہے، ہمیں زندگی کا ادب سکھاتا ہے۔ استاد دنیا کی وہ واحد ہستی ہے جو اپنے شاگرد کو خود سے آگے بڑھتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ وہ جلتا نہیں، بلک...