غار والے ، اصحاب کہف
غار والے نوجوان جب ایمان نے 309 سال کی نیند کو شکست دے دی کبھی کبھی دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس دور میں حق پر کھڑا رہنا کتنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہر طرف دباؤ ہے، خوف ہے، لالچ ہے، دنیا کی چمک ہے۔ لیکن جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا واقعہ ملتا ہے جو آج بھی ہمارے ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔ وہ واقعہ ہے اصحابِ کہف کا۔ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں، یہ قرآن کی سچی گواہی ہے۔ سورۃ الکہف کی آیات 9 سے 26 میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو بڑی محبت اور تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ کہتے ہیں کہ روم کی سلطنت کے مشہور شہر افسوس میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا، جس کا نام دقیانوس تھا۔ وہ اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا۔ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ سب لوگ میرے بنائے ہوئے بتوں کو سجدہ کریں۔ جو انکار کرے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا۔ حوالہ: تفسیر ابن کثیر، سورۃ الکہف، تاریخی حوالہ: رومی شہنشاہ ڈیسیئس کا دور 249 تا 251 عیسوی پورا شہر اس کے خوف سے کانپتا تھا۔ لیکن اسی شہر میں سات نوجوان ایسے تھے، جن کے دلوں میں اللہ نے ہدایت کا چراغ جلا دیا تھا۔ یہ نوجوان شہر کے معزز اور امیر گھرانوں سے تھے، شاہی دربار سے ان کا تع...