اصحاب الرس اور حضرت حنظلہ,اصحاب الرس کون تھے, قوم الرس کا واقعہ، قرآن میں اصحاب الرس
اصحاب الرس اور حضرت حنظلہ علیہ السلام - عبرت کا ایک بھولا ہوا باب انسانی تاریخ میں ایسی بہت سی قومیں گزری ہیں جن کے نام اور نشان مٹ گئے لیکن ان کے قصے قرآن مجید نے محفوظ کر لیے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے سبق حاصل کریں۔ انہی قوموں میں سے ایک قوم اصحاب الرس ہے۔ یہ ایک ایسی قوم تھی جس کا ذکر قرآن میں بہت اختصار کے ساتھ آیا ہے لیکن اس اختصار میں ایک بڑی عبرت چھپی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: وَعَادًا وَثَمُودَا وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا (سورۃ الفرقان: 38) اور دوسری جگہ فرمایا: كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ (سورۃ ق: 12) قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ وہ کبھی کبھی صرف ایک لفظ میں پوری تاریخ سمیٹ دیتا ہے۔ اصحاب الرس کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے۔ رس عربی زبان میں اس کنویں کو کہتے ہیں جو پختہ نہ بنایا گیا ہو، کچا کنواں، یا وہ کنواں جو گر جائے اور اس کی مرمت نہ کی گئی ہو۔ بعض لغت دانوں نے رس کے معنی گڑھا اور کھڈا بھی کیے ہیں۔ یعنی یہ وہ لوگ تھے جو کنویں کے کنارے آباد تھے۔ ان کا سارا تمدن، ساری معیشت اور ساری زندگی...