اشاعتیں

زبان کی حفاظت، سلف صالحین کا طرزِ عمل

تصویر
سلف صالحین فضول کلام ناپسند کرتے تھے  حفظِ زبان کی اہمیت زبان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس زبان کے ذریعے ہی انسان یا تو عزت و سرفرازی حاصل کرتا ہے یا ذلت و رسوائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسلام نے زبان کی حفاظت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اور ہر مسلمان کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے صرف بھلی، حق اور فائدہ مند بات ہی نکالے۔ سلف صالحین کا معمول تھا کہ وہ فضول اور لغو کلام سے سخت پرہیز کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہر بات کو فرشتہ لکھ رہے ہیں اور قیامت کے دن اس کا حساب لیا جائے گا۔ آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور بے فائدہ گفتگو عام ہو چکی ہے، ہمیں سلف صالحین کے طرزِ عمل کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔ سلف صالحین کا طرزِ عمل سلف صالحین رحمہم اللہ نے اپنی زندگیاں خاموشی اور ذکرِ الہی میں گزاریں۔ وہ فضول بات کو وقت کا ضیاع اور دل کی سختی کا سبب سمجھتے تھے۔ کانوا یطولون الصمت یعنی سلف خاموشی کو طول دیتے اور کم کلام کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر تمہیں بات کرنی ہو تو سوچو، اگر وہ خیر ہے تو بولو ورنہ خاموش ہو جاؤ۔ امام عطاء بن ابی رباح (114ھ) کا قول...

سعودیہ عرب میں سزائے موت کی حقیقت

تصویر
  نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے سب سے بڑے لیڈر ہیں اور ہمیں ان کی ذات پر اور ان کی تعلیمات پر فخر ہے دورِ حاضر میں ہر شخص عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مذہبی ہونے کا دکھاوا تو کرتا ہے مگر مذہبی احکامات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنا بہت گراں گزرتا ہے۔۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی چھوٹی تعلیمات اور چھوٹے چھوٹے اعمال میں بھی ہمارے لیے خیر و برکت اور بھلائی کا عنصر پوشیدہ ہے مگر افسوس ہم ان کو چھوٹا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی بنیاد پر سینکڑوں مسائل جنم لے لیتے ہیں اور معاشرے میں ایک بگاڑ کا موجب بنتا ہے  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا اصول تھا کہ جب کوئی خبر ان کے پاس پہنچتی تو اس کی ہر پہلو سے تصدیق کی جاتی اور اس کے بعد اس کو آگے پہنچایا جاتا تاکہ کسی قسم کا کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو۔ اب ہم آتے ہیں اصل وقوعہ کی طرف، ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا ایک فتنہ ہے جہاں پر ایک عام سی بات کو بہت بڑھا چڑھا کر مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا جاتا ہے اور بعض دفعہ بات کو اتنا ...

جلوت میں عیسیٰ اور خلوت میں یحییٰ

تصویر
 ہنسنے اور رونے کا معیار اللہ تعالیٰ نے انسانی چہرے کو عجیب اسرار کا مجموعہ بنایا ہے۔ اسی چھوٹے سے چہرے پر کبھی خو شی کے پھول کھلتے ہیں تو کبھی غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ آنکھ ایک ہی ہے، کبھی وہی آنکھ خوشی سے چمک اٹھتی ہے اور کبھی اسی آنکھ سے غم کے آنسو بہہ نکلتے ہیں۔ ہونٹ ایک ہی ہیں، کبھی انہی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجتی ہے اور کبھی انہی پر آہ و بکا کا پہرہ ہوتا ہے۔ یہ ہنسنا اور رونا محض عادتیں نہیں، یہ انسان کے دل کی کھڑکیاں ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ دل کے اندر کیا ہے؟ امید ہے یا مایوسی؟ خوف ہے یا غفلت؟ دنیا نے ہنسنے اور رونے کے اپنے معیار بنا رکھے ہیں۔ دنیا کہتی ہے جس چیز سے تمہیں فائدہ پہنچے اس پر ہنسو، اور جس سے نقصان ہو اس پر روؤ۔ دنیا کی نظر میں ہنسی کامیابی کی علامت ہے اور رونا ناکامی کی۔ لیکن انبیاء کی دنیا کا معیار بالکل الگ تھا۔ وہاں ہنسی اور آنسو کا تعلق دولت یا غرض سے نہیں، دل سے تھا۔ وہاں ہنسی اللہ کی رحمت کی امید پر ہوتی تھی اور رونا اس کے قہر کے خوف سے۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں تھا کہ کتنا ہنسنا ہے، بلکہ یہ تھا کہ کہاں ہنسنا ہے اور کہاں رونا ہے؟ کس کے سامنے ہنسنا ہے اور کس ...

صحرا کا معجزہ

تصویر
کھجور - صحرا کا میٹھا معجزہ اور سنتِ نبوی ﷺ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس کائنات میں بے شمار نعمتیں بکھیر دی ہیں۔ ان نعمتوں میں پھل ایک ایسی نعمت ہیں جو آنکھوں کو بھی بھاتے ہیں اور جسم کو بھی توانائی دیتے ہیں۔ انہی پھلوں میں کھجور کو وہ مقام حاصل ہے جو کسی اور پھل کو نہیں ملا۔ یہ بیک وقت غذا بھی ہے، مٹھائی بھی ہے، دوا بھی ہے اور سراپا برکت بھی ہے۔ یہ وہ واحد پھل ہے جسے قدرت نے صحرا کی تپتی دھوپ میں پیدا کیا۔ جہاں پانی کا نام و نشان نہیں ہوتا، جہاں ہریالی کا تصور بھی مشکل ہے، وہاں کھجور کا درخت تن تنہا کھڑا، صدیوں تک انسانوں کو اپنی مٹھاس بانٹتا رہتا ہے۔ کھجور کی دنیا بہت وسیع ہے۔ اس کی کوئی ایک دو قسم نہیں بلکہ اللہ نے اس میں اتنا تنوع رکھا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ کوئی لمبی اور پتلی ہے، کوئی گول اور موٹی، کوئی سنہری ہے تو کوئی کالی۔ دنیا بھر میں اس کی چھ سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ مدینہ منورہ کی عجوہ، عنبر اور مبروم، سعودی عرب کی سکری اور صفاوی، اور ہمارے پاکستان کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور خیرپور کی ڈھکی، اصیل اور بیگم جنگی، ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے جدا اور ہر ایک اپنی مثال ...

عورت کبھی دو ٹکے کی نہیں ہوتی

تصویر
انسانی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بڑی واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ جس معاشرے نے عورت کو عزت دی، اس معاشرے نے ترقی کی، اور جس معاشرے نے عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا، وہ معاشرہ زوال کا شکار ہو گیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کے بارے میں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید کر کے اسے صرف ایک نوکرانی سمجھتا ہے، اور دوسرا طبقہ ایسا ہے جو آزادی کے نام پر عورت کو اس کے اصل مقام سے گرا کر بازار کی زینت بنا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام نے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک معتدل اور خوبصورت راستہ دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا ہے جو نہ مشرق دے سکا نہ مغرب۔ آج سوشل میڈیا پر ایک جملہ بہت گردش کر رہا ہے کہ "عورت کبھی بھی دو ٹکے کی نہیں ہوتی"۔ بظاہر یہ ایک عام سا جملہ لگتا ہے لیکن اس جملے کی گہرائی میں اگر اترا جائے تو اس میں پورے معاشرے کی اصلاح کا راز پوشیدہ ہے۔ آئیے اسی جملے کی روشنی میں عورت کے اصل مقام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماں جنت ہے: ماں کے قدموں تلے جنت ہے، یہ صرف ایک کہاوت نہیں بلکہ نبی ک...

وجودِ کائنات کا حسن: عورت

تصویر
  عورت کا وجود کائناتِ انسانی کا حسن اور اس کی تکمیل کی ضمانت ہے۔ تاریخِ عالم گواہ ہے کہ ہر تہذیب اور ہر معاشرے نے عورت کے بارے میں اپنا ایک نقطۂ نظر پیش کیا، لیکن بدقسمتی سے اسلام سے قبل  تقریباً تمام تہذیبوں میں عورت کو کم تر، حقیر اور محض مرد کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کے جاہلی معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا اور اسے زندہ درگور کر دیا جاتا، رومی اور یونانی تہذیب میں اسے شیطان کا آلہ کار قرار دیا جاتا، جبکہ ہندو معاشرے میں شوہر کی چتا کے ساتھ اسے بھی جلا دیا جاتا۔ ایسے تاریک دور میں اسلام طلوعِ آفتاب بن کر آیا اور اس نے عورت کو وہ مقام و مرتبہ عطا کیا جس کی نظیر دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ اسلام نے عورت کو محض حقوق ہی نہیں دیے بلکہ اسے عزت، وقار، شرف اور تقدس کی چادر عطا کی۔ اسی حقیقت کو ہمارے دور کے جید محقق اور عالمِ دین شیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ (١٤٤٧ھ) نے بڑے جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔ شیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  "اسلام نے عورت پر عائد فرائض و واجبات کے مقابلہ میں اسے کہیں زیادہ حقوق سے نوازا...

"بوڑھے والدین - اللہ کی نعمت, بوجھ نہیں"

تصویر
آج کل ہر اسکول میں ایک نیا رجھان آیا ہے، گرینڈ پیرنٹس ڈےمنانے کا۔ ہم بڑے جوش و خروش سے اسٹیج سجاتے ہیں، بچوں سے نظمیں پڑھواتے ہیں، دادا دادی، نانا نانی کو کارڈ دیتے ہیں اور تالیوں میں ان کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو حقیقت اس اسٹیج سے بہت مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن ہاتھوں کو ہم آج اسٹیج پر پھول دے رہے ہیں، گھروں میں وہی ہاتھ اکثر تنہا رہ جاتے ہیں۔ جن کی باتوں کو ہم آج مائیک پر بڑی عقیدت سے سن رہے ہیں، گھروں میں انہی کی باتوں کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم نے بزرگوں کو دیواروں پر لگی تصویروں اور سال میں ایک دن کی تقریب تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ وہ بوجھ نہیں، ہمارے گھروں کی برکت اور رحمت ہیں۔۔ وہ گھر جہاں اپنے نہیں رہتے بات کچھ دن پہلے کی ہے، مجھے ایک جگہ جانے کا موقع ملا جسے لوگ اولڈ ایج ہوم کہتے ہیں۔ باہر سے وہ ایک عام عمارت لگتی تھی، لیکن اندر قدم رکھتے ہی مجھے لگا جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہوں۔ وہاں سب سے پہلے میری ملاقات وہاں کی نگران سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں رہنے والے بزرگ کیسے ہیں؟ تو وہ ایک لمبی سانس لے کر بولیں کہ یہاں ہر شخص کی اپنی ا...