ابن خلدون ایک مشہور عرب ماہر عمرانیات، ماہر تاریخ اور سیاست دان تھے۔ ان کا اصل نام عبدالرحمن بن محمد بن خلدون ابوزید ولی الدین الحضرمی الاندلسی تھا۔ وہ 27 مئی 1332ء کو تونس میں پیدا ہوئے اور 17 مارچ 1406ء کو قاہرہ میں وفات پائی۔
ابن خلدون کو عمرانیات کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف "مقدمہ" ہے، جو تاریخ، سیاست، معاشیات اور عمرانیات پر ایک جامع کتاب ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے تاریخ کے فلسفے اور انسانی معاشرے کے ارتقاء پر بحث کی ہے۔
ابن خلدون کے نظریات نے دنیا بھر کے ماہرین کو متاثر کیا ہے اور ان کی کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔
سات سو سال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی یہ تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے:
“مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا شوق ہوتا ہے، فاتح کی وردی اور وردی پر سجے تمغے، طلائی بٹن اور بٹنوں پر کنندہ طاقت کی علامات، اعزازی نشانات، اس کی نشست و برخاست کے طور طریقے، اس کے تمام حالات، رسم و رواج ، اس کے ماضی کو اپنی تاریخ سے جوڑ لیتے ہیں، حتیٰ کہ وہ حملہ آور فاتح کی چال ڈھال کی بھی پیروی کرنے لگتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جس طاقتور سے شکست کھاتے ہیں اس کی کمال مہارت پر آنکھیں بند کر کے یقین رکھتے ہیں۔
محکوم معاشرہ اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جاتا ہے ، ظلمت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتا ہے، ذہنی و جسمانی طور پر محکوم سماج کا انسان اتنا ہی جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ محکوم صرف روٹی کے لقمے اور جنسی جبلت کے لیے زندہ رہتا ہے۔
جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، ناگوار آواز والے متکبر گلوکار، بھد اڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے، خوشامدی، طنز اور ہجو کرنے والے، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔
ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا ، جس میں جو وصف سرے سے نہیں ہوتا وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے، اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں، نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے اور لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست میں بدل جاتا ہے، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں، حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں اور امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔
مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔
بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں۔
بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے "ہجرت"، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے، تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے، وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے، لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔”
ابن خلدون اللہ آپ پر رحم کرے! کیا آپ ہمارے مستقبل کی جاسوسی کر رہے تھے؟ آپ سات صدیاں قبل وہ دیکھنے کے قابل تھے جو ہم آج تک دیکھنے سے قاصر ہیں!
کتنی حیرت کی بات ہے کہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ نے سات صدیوں پہلے ہمارے موجودہ حالات کی عکاسی کر دی تھی اور ہماری قوم آج بھی آنکھوں دیکھے مکھی کھا جاتی ہے
ہم 75 سالوں میں اپنے متفقہ دشمن کو پہچان نہیں پائے اور مختلف دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک طبقہ کسی پارٹی کو پسند کرتا ہے، کوئی دوسری پارٹی کا سپورٹر ہے، کوئی کسی ادارے کو پسند کرتا ہے اور کوئی کسی تنظیم کا مدعا ہے جبکہ اس ملک اور اسلام کا دشمن ایک ہی ٹولہ ہے اور قوم کی خستہ حالی اور نظامِ سلطنت کی بربادی کی وجہ بھی یہی ٹولہ ہے
اب اس قدر کند ذہن،کند نظر ہو چکے ہیں کہ فرعون و نمرود بھی قبر سے اٹھ کر آ جائیں تو ان لوگوں کے حامی، ووٹر اور سپورٹر بھی کافی لوگ ہو جائیں گے
خدارا یزید کے خلاف متحد ہو جائیں کوفیوں کے روش ہمارے حال اور مستقبل کو تباہ و برباد کر دے گی اور بعد میں پچھتانے کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں بچے گا
اللہ پاک اسلام اور مسلمانوں کے دشمن اور غداروں کو نست و نابود فرما اور ان کے نسلوں کو عبرت کا نشان بنا اور ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرما آمین
والسلام

1 تبصرے
آمین
جواب دیںحذف کریں