ابو عبیدہ رح کون تھے۔۔۔؟

 







  نقاب میں توانا اور گرج دار آواز: اسرائیل کو ناکوں چنے چبوانے والے ابو عبیدہ کون ہیں؟ 🥺💔

(حماس نے اسرائیل کے حملے میں ابو عبیدہ کی شہادت کی تصدیق کی ہے)

غزہ کی جنگی فضا میں اگر کوئی ایک آواز بار بار سنائی دیتی رہی ہے تو وہ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کی تھی، جو ہمیشہ چہرے کو فلسطینی رومال سے ڈھانپے نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ایسا چہرہ بن گئے جو کبھی مکمل طور پر دنیا کے سامنے نہیں آیا، مگر جن کی آواز، لہجہ اور گونجتے الفاظ نے عالمی میڈیا، اسرائیلی اور فلسطینی عوام سب کو متاثر کیا۔

ابو عبیدہ دراصل ان کا اصل نام نہیں بلکہ ایک عرفی شناخت ہے، جو اسلامی تاریخ کی معروف شخصیت حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ سے منسوب ہے۔ یہی نسبت انہیں حماس کے حامیوں میں ایک علامتی حیثیت دیتی ہے، ایک ایسا کردار جو محض ترجمان نہیں بلکہ مزاحمت کی نمائندگی بن چکا ہے۔ حماس نے تصدیق کی ہے کہ ابو عبیدہ کا اصل نام حذیفہ الکحلوت تھا، جو کئی برسوں تک القسام بریگیڈز کے ترجمان کے طور پر سامنے آئے اور غزہ میں حماس کی جانب سے سب سے نمایاں اور بااثر آواز سمجھے جاتے تھے۔

ابو عبیدہ ہمیشہ ویڈیو پیغامات میں سرخ فلسطینی کوفیہ سے چہرہ ڈھانپے دکھائی دیتے تھے۔ پس منظر میں قرآن کی آیات، سادہ سی اسکرین اور ایک مضبوط آواز—بس یہی ان کی پہچان بن گئی۔ یہ انداز نہ صرف ان کی شناخت کو راز میں رکھتا تھا بلکہ انہیں ایک علامتی اور پراسرار شخصیت بھی بنا دیتا تھا۔

جہاں میدانِ جنگ میں ہتھیار استعمال ہوتے ہیں، وہیں ابو عبیدہ الفاظ اور بیانیے کی جنگ لڑتے رہے۔ ان کے بیانات حماس کی عسکری کارروائیوں کی تفصیلات، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دعوے، اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہوتے تھے۔ یہ تمام پیغامات ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت متواتر سامنے آتے رہے، جس کی وجہ سے بعض مبصرین انہیں “حماس کی میڈیا مشین” بھی کہتے ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ابو عبیدہ کو پہلی بار 2002 کے بعد القسام بریگیڈز کے فیلڈ ڈھانچے میں پہچانا گیا۔ 2006 میں انہیں باضابطہ طور پر القسام بریگیڈز کا ترجمان مقرر کیا گیا، اور اسی سال ایک اسرائیلی فوجی چوکی پر حملے کے بعد وہ پہلی مرتبہ عالمی سطح پر منظرِ عام پر آئے۔ اسی کارروائی میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی رہائی برسوں بعد ایک بڑے قیدی تبادلے کے معاہدے کے ذریعے ممکن ہوئی۔

ابو عبیدہ کی اصل شناخت طویل عرصے تک راز میں رہی۔ اسرائیلی فوج نے 2023 میں دعویٰ کیا کہ ان کا اصل نام حذیفہ سمیر عبداللہ الکہلوت ہے، جس کی بعد میں حماس نے تصدیق کی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے، جہاں انہوں نے مذہبی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تحقیق و تدریس سے بھی وابستہ رہے۔

اسرائیلی رپورٹس کے مطابق مختلف ادوار میں اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران ان کے گھروں کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا، مگر وہ ہر بار منظر سے غائب ہی رہے اور محفوظ رہے۔

چاہے انہیں ایک ترجمان سمجھا جائے، ایک علامت یا ایک حکمتِ عملی کا حصہ، ابو عبیدہ نے یہ ثابت کر دیا کہ جدید تنازعات میں میڈیا اور بیانیہ بھی ہتھیار بن چکے ہیں۔ وہ شخص جس کا چہرہ دنیا نے واضح طور پر نہیں دیکھا، مگر جس کا نام مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ تاریخ میں ہمیشہ زیرِ بحث رہے گا۔

"خدا حافظ اے شیر! 😭💔۔

تمہاری آواز غاصبوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتی تھی اور تمہاری خاموشی اب ایک تاریخ رقم کرے گی۔ تم نے حق کا ساتھ دیا اور رب نے تمہیں شہادت کا عظیم رتبہ عطا کیا۔"🌸۔

اے رب العالمین ملک پاکستان کے بہادر جرنیلوں اور حکمرانوں کو بھی ایسی شہادت نصیب فرما آمین ثم آمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...