*اللہ سے تجارت میں نفع ہی نفع ہے، یہ کہانی نہیں، سبق آموز واقعہ ہے*
یہ 2018 کے شروعاتی ایام کی بات ہے۔ جب میں فیصل آباد ہوتا تھا۔
عصر کی نماز پڑھ کر میں اپنی جاب پر واپس جا رہا تھا کہ ایک چھوٹے سے پارک میں میری نظر ایک بزرگ پر پڑی۔ یہ جگہ ایک چوک تھا جہاں صبح کے وقت مزدور اکٹھے ہوتے تھے تاکہ کوئی آئے اور انہیں دیہاڑی پر اپنے ساتھ لے جائے۔
میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ، جو خاصے کمزور اور نحیف دکھائی دے رہے تھے، ہاتھ میں کانڈی، ہتھوڑی اور دوسرے اوزار پکڑے بیٹھے تھے۔ انہیں دیکھ کر دل عجیب سا بھر آیا کہ اس عمر میں بھی یہ بابا جی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ میں رکا، چند لمحے انہیں دیکھا اور پھر دل پر پتھر رکھ کر آگے بڑھ گیا۔
شام کو جب کوارٹر پر واپسی کے لیے نکلا تو اذانیں ہو چکی تھیں، اندھیرا پھیل رہا تھا... اور بابا جی اب بھی وہیں بیٹھے تھے۔
میں سیدھا ان کے پاس گیا اور ان کے سامنے بیٹھ کر بولا،
"بابا جی، شام ہو گئی ہے۔ اب کوئی نہیں آئے گا۔ آپ گھر چلے جائیں۔"
بابا جی نے میری طرف دیکھا اور انتہائی دھیمی آواز میں کہا،
"بیٹا...! شاید کوئی آ جائے۔"
میں نے نرمی سے سمجھایا،
"بابا جی، اب کوئی نہیں آئے گا۔ وقت بھی بہت ہو گیا ہے۔"
بابا جی نے آہ بھری اور بولے،
"بیٹا...! دو دن سے میں اپنی بیوی کو کچھ کھلا نہیں پایا۔ آج خالی ہاتھ گھر جانے میں شرم آتی ہے۔ جب تک کوئی لے نہ جائے... میں یہیں بیٹھوں گا۔ خالی ہاتھ نہیں جا سکتا۔"
بابا جی کی بات نے میرے دل پر وار کر دیا۔ خود میرے اپنے حالات بھی کچھ اچھے نہیں تھے، لیکن ان کی بے بسی نے مجھے مجبور کر دیا۔ میں نے جیب ٹٹولی تو کل 700 روپے تھے۔
ایک بار تو خیال آیا کہ میں تو خود بھوکا مر رہا ہوں۔ انہیں کیا دوں لیکن پھر دل پر پتھر رکھ لیا کہ اللہ مالک ہے۔
اور 500 روپے نکال کر انہیں دے دیے اور کہا،
"بابا جی، گھر کا کچھ راشن لے جائیں۔ اللہ خیر کرے گا، ہو سکتا ہے کل آپ کی دیہاڑی لگ جائے۔"
اس کے بعد میری کبھی ان سے ملاقات نہ ہوئی۔
یہاں کہانی ختم نہیں ہوئی، بلکہ اصل امتحان اور آزمائش یہیں سے شروع ہوئی... دو سو روپے سے بھلا کتنے دن گزارا ہوسکتا تھا، دو تین دن ایسے بھی گزرے جب نہ ہی جیب میں پیسے تھے اور نہ ہی بھوک مٹانے کو کچھ کھا پایا۔
انا اور خودداری کسی سے مدد لینے کی بھی اجازت نہیں دیتی تھی۔
خیر... چند دن بعد ہی...
کہیں سے کچھ پیسے آ گئے اور پھر نارمل حالات کی طرف لوٹ آیا۔
اس کے بعد... پھر یک دم اللہ نے میرے حالات بدلنے شروع کر دیے۔
میں فیصل آباد سے واپس آیا، دوبارہ ویٹر کی نوکری شروع کی۔ چند مہینے بعد سپروائزر بنا اور ایک سال میں جنرل مینیجر بھی بن گیا اور مالکان کے تین تین کاروباروں کا منتظم بن گیا۔
نام، عزت، شہرت، پیسہ... خدا نے ہر طرف سے نوازا۔
پھر اللہ نے اتنا دیا کہ آج میرے اپنے دو کاروبار ہیں اور تیسرا بنانے کی تیاری میں ہوں۔ اس کے باوجود میں اپنی جاب جاری رکھے ہوئے ہوں جہاں الحمداللہ آمدن لاکھوں میں ہے اور پورے علاقہ میں عزت ملی۔
اور یہ سب سات سال کے مختصر دورانیہ میں مکمل ہوا۔
آج بھی اکثر میں ان بابا جی کو یاد کرتا ہوں۔
شاید مجھے ان کی دعا لگ گئی کہ خدا نے صرف نوازا ہی نہیں، خدا نے دل میں بھی سخاوت کا جذبہ پیدا کیا۔
اس واقعے کا مقصد یہ نہیں کہ میں اپنی کوئی نیکی جتلا رہا ہوں۔
میرا مقصد صرف یہ بتانا ہے،
خدا کی راہ میں خرچ کرنا تب مشکل ہوتا ہے جب آپ کے پاس کچھ نہ ہو۔
اور جب برے دنوں میں خلقِ خدا کے لیے خرچ کیا جائے، تو اللہ کو تب انسان کی یہ ادا سب سے زیادہ پسند ہوتی ہے۔
جب جیب میں لاکھ روپے ہوں تو پانچ ہزار دینا مشکل نہیں ہوتا۔
لیکن جب ہاتھ میں ایک ہی روٹی ہو...
اور آپ وہ بھی کسی بھوکے کو دے دیں...
تو اللہ اس ایک روٹی کا بدلہ ایسی جگہ سے دیتا ہے جو انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔
خدا اُس ایک روٹی کے بدلے نسلوں کو بھی سیراب کر دیتا ہے۔
اللہ کی مخلوق کا دھیان رکھیں اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔
یہ میری زندگی کا سچا واقعہ ہے اور یہ ان سب لوگوں کے لیے ہے جو کہتے ہیں کہ پاس کچھ ہوگا تو اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے۔
میں کہتا ہوں، آپ اپنا پیٹ کاٹ کر خرچ کریں، پھر دیکھیں خدا اجر کیسے دیتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

0 تبصرے