مجازی خدا یا دوست، شوہر یا ہم سفر
(رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ گھر میں رویہ ، گھر کے کاموں میں مدد، سنت نبوی) آج ہمارے معاشرے میں مرد سمجھتا ہے کہ میری ذمہ داری صرف باہر کمانا ہے، گھر کا کام بیوی کا ہے۔ لیکن جس ہستی کو ہم اپنا نبی ﷺ مانتے ہیں، جس کی شفاعت کے بغیر جنت نہیں ملے گی، اس کا گھر میں رویہ کیا تھا؟ کیا وہ بھی ایسے ہی حکم چلاتے تھے؟ آئیے سنت کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء) اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔ یہ صرف نصیحت نہیں، یہ اللہ کا حکم ہے۔ اور "معروف" کا مطلب ہے، وہ سلوک جو عقل، شریعت اور محبت کے مطابق بہترین ہو۔ دوسری جگہ فرمایا: "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً" (الروم) اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت ڈال دی۔ بیوی سکون کی جگہ ہے، نوکرانی نہیں۔ نبی ﷺ کا گھر میں رویہ کیسا تھا؟ ام المومنین حضرت عائشہؓ ...