لمرنس کیاہے۔۔۔۔۔؟

 



لمرنس (Limerence) ؛ ایک طرفہ محبت کا جنون اور اذیت 

لمرنس ایک ایسی ذہنی یا نفسیاتی کیفیت کو کہتے ہیں جس میں ایک انسان ، جنون کی حد تک کسی دوسرے انسان کا عادی ہوجائے اور دن رات اسی کے بارے میں سوچتا رہے۔ اس انسان کی یاد میں چین نا مِل رہا ہو۔ ہر وقت اضطراب اور بے چینی کی کیفیت رہے۔ سادہ لفظوں میں اسے کسی انسان کی لت لگ جانا بھی کہہ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں جتنی قسم کی ایڈکشن یا لت ہوسکتی ہیں ، لمرنس ان میں سب سے زیادہ اذیت ناک اور تکلیف دہ ہے۔ یہ محبت ہرگز نہیں لیکن اس کیفیت کا شکار شخص اس کو محبت ہی سمجھ رہا ہوتا ہے۔ 

لمرنس یعنی کسی انسان کی اس حد تک لت لگ جانے کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سب سے نمایاں وجہ ، بچپن کی جذباتی محرومی ہے۔ جس انسان کو بچپن میں کسی وجہ سے والدین سے مکمل سپورٹ اور پیار نا ملا ہو یا بچپن میں وہ کسی حادثے سے گذرا ہو ، (جیسا کہ کسی بھی قسم کا ابیوز یا بدسلوکی یا جنسی زیادتی وغیرہ ) ایسا انسان بالغ ہو کر ایک جذباتی خلا کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے وہ دوسرے انسانوں سے وقت اور توجہ کی بھیک مانگنے لگتا ہے اور یہ حالت یقیناً بہت تکلیف دہ ہے۔ 

ایسا انسان زندگی میں بار بار مختلف لوگوں کا عادی ہوتا ہے اور جب اسے سامنے والے انسان سے توقع کے مطابق پیار یا توجہ نہیں ملتی تو وہ اندرونی طور پر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ بار بار دل ٹوٹنے پر ، زندگی سے بیزاری اور نفرت ہونے لگتی ہے۔ موڈ اور جذبات میں بار بار اتار چڑھاؤ آتے ہیں جس سے انسان مسلسل اذیت میں رہتا ہے۔ ایسا انسان پل میں تولہ ، پل میں ماشہ والی صورتحال کا شکار رہتا ہے۔ ہوسکتا ہے ابھی اتنا خوش ہو کہ خوشی سنبھالی نا جا رہی ہو اور چند منٹ یا آدھے گھنٹے بعد شدید اداسی کی لپیٹ میں آجائے۔ ایسے انسان کی خوشی اور اداسی کا انحصار ،مکمل طور پر اس دوسرے انسان کے مزاج اور برتاؤ پہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی اپنی مرضی اور خوشی کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ اس حالت کو Emotional Dependance کہتے ہیں۔

اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہورہا ہے یا نیچے دی گئی علامات میں سے اکثر آپ نے محسوس کی ہیں تو آپ لمرنس یعنی کسی انسان کی لت یا Love Addiction کا شکار ہیں۔

  ۱۔ آپ کسی کو میسج کرنے کے بعد ، بہت بے چینی سے جواب کا انتظار کرتے ہیں۔

  ۲۔ کسی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پہ جا کر بار بار اس کی پوسٹ اور تصاویر کو دیکھتے ہیں۔ 

۳۔ اس شخص کے زرا سے نظر انداز کرنے یا میسج کا دیر سے جواب دینے پر شدید ہرٹ ہوجاتے ہیں ۔

۴۔ اس شخص کے بارے میں چوبیس گھنٹے سوچنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

۵۔ اس کو خوش کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

۶۔ آپ سامنے والے شخص سے ویسے جذبات کی امید رکھتے ہیں جیسے آپ کے دل میں ہیں اور ایسا نا ہونے پر دکھی ہوجاتے ہیں۔

۷۔ ہر چیز ، ہر جگہ ، ہر واقعہ آپ کو اسی شخص کی یاد لاتا ہے۔ 

۸۔ اکثر اوقات اس شخص کے کھوجانے یا اس کی طرف سے ریجیکٹ کردینے کا خوف، دماغ پر سوار رہتا ہے۔

۹۔ آپ صرف اس شخص کی خوبیوں کو سوچتے ہیں اور اس کی خامیوں کے لیے خود کو وضاخت دے کر خاموش کروادیتے ہیں۔ آپ نے اپنے دل و دماغ میں اس شخص کے حوالے سے ایک مکمل اور بے عیب شخصیت کا ایک خاکہ یا آئیڈئیل بنا رکھا ہے۔

۱۰۔ اس شخص کے بارے میں تصور میں کھوئے رہتے ہیں اور اس کا ساتھ پانے کی خواہش رکھتے ہیں (لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا)۔

۱۱۔ جب وہ شخص یا اس کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ یا کوئی تصویر آپ کی نظر کے سامنے ہو ، تو آپ بے خود ہوجاتے ہیں۔ دل قابو میں نہیں رہتا۔آپ اضطراب کا شکار ہوجاتے ہیں۔

۱۲۔ اس شخص کے حوالے سےدل میں ہر وقت یہ خوف رہتاہے کہ کہیں آپ کی کوئی بات اُس کو بری نا لگ جائے۔

۱۳۔ اس شخص کے سامنے اپنا آپ حقیر لگے اور خود اعتمادی صِفر ہوجائے۔

۱۴۔ ہر انسان سے اور ہر محفل میں اسی کے حوالے سے بات چیت کی خواہش ہونا۔

۱۵۔ ان جگہوں پہ جانے کی کوشش کرنا جہاں اس کی ایک جھلک نظر آنے کی امید ہو۔

۱۶۔ اس کے پرانے میسجز سنبھال کررکھنا اور اکیلے میں بار بار ان میسجز کو پڑھنا۔

یہ سب کی سب لمرنس کی علامات ہیں۔ یہاں لمرنس اور محبت میں ایک بنیادی سا فرق بھی سمجھ لیجیے تاکہ غلط فہمی دور ہوجائے۔ محبت دوطرفہ ہوتی ہے۔ اس میں دونوں فریق ایک دوسرے کی پرواہ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو یاد کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کا ساتھ پاکر کر خوش ہوتے ہیں جبکہ لمرنس میں ہمیں سامنے والے انسان سے کوئی رسپانس نہیں ملتا کیونکہ اُس انسان کے دل میں ہمارے لیے وہ جذبات ہوتے ہی نہیں جو ہمارے دل میں اس کے لیے ہیں۔ لمرنس میں پھنسے انسان عموماً شدید احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور جس انسان کی اُن کو لت لگی ہوتی ہے ، اس کا ایک خیالی خاکہ ذہن میں بنا لیتے ہیں۔ اس خاکے کے مطابق وہ انسان ہر لحاظ سے پرفیکٹ نظر آتا ہے۔ انسان ہر لمحہ اس دوسرے انسان کے ساتھ اپنا موازنہ کرکے مزید بے چین ہوتا رہتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ رب العزت کی زات کے علاوہ ، کچھ بھی کامل اور مکمل نہیں۔ سو اگر ہم لمرنس کو ایک فینٹیسی (ٖFantasy) یا خود فریبی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ 

امید کرتا ہوں کہ اب تک آپ لمرنس کے تصور سے کچھ نا کچھ واقف ہوگئے ہوں گے۔ جو لوگ اس کیفیت کا شکار رہ چکے ہیں ، انہیں یہ تحریر پڑھتے ہوئے ضرور لگے گا کہ وہ ان سب مسائل اور تکالیف سے گذر چکے ہیں جن کا یہاں زکر کیا جارہا ہے۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر کرتا چلوں کہ ضروری نہیں کہ لمرنس ایک مرد کو عورت سے یا عورت کو مرد سے ہی ہو۔ اس میں مرد کو مرد یا عورت کو عورت سے بھی ایسی جذباتی انسیت ہوسکتی ہے کہ اس سے زرا سی دوری بے چین کردے۔ مجھ سے پرائیویٹ میسج میں رابطہ کرنے والے بہت سے لڑکوں نے یہ اقرا رکیا کہ ان کو لڑکوں کے حوالے سے ایسی فیلنگز آتی ہیں۔ بعض کم عمر لڑکوں کو بڑی عمر کے مردوں سے ایسی اٹیچمینٹ یا انسیت ہوجاتی ہے جسے وہ محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں جبکہ یہ صرف ایک نفسیاتی مسئلہ ہے جس کو سمجھ کر اس سے باہر نکلا جاسکتا ہے۔ سامنے والا انسان چونکہ ایک نارمل انسان ہوتا ہے ، اس لیے وہ اس یک طرفہ محبت یا پاگل پن کو بالکل نہیں سمجھ پاتا اور ایسے انسان کو بدکردار، ہوس کا شکار یا کریکٹر لیس سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ لمرنس میں پھنسا بندہ سامنے والے سے کوئی جسمانی تعلق ہی قائم کرنے کا خواہش مند ہو بلکہ اکثر کیسز میں یہ خواہش صرف توجہ پانے کی حد تک ہوتی ہے۔ بحرحال یہ موضوع بہت وسیع ہے اور ایک تحریر یا سیشن میں اس کو مکمل بیان نہیں کیا جاسکتا۔ فی الحال ہم اس کے حل پہ بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لمرنس سے کیسے نکلا جائے ؟

اب تک ہم یہ سمجھ چکے کہ لمرنس جیسی اذیت میں گرفتار ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ احساسِ کمتری ہے تو لمرنس سے نکلنے کے لیے احساسِ کمتری سے نکلنا ہوگا۔ اپنے اندر خوبیاں تلاش کریں اور یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے کہ صرف ظاہری خوبصورتی ، گورا رنگ یا اونچا لمبا قد ہی خوبی نہیں ہے۔ بلکہ اس کائنات کو بنانے اور چلانے والے مالکُ الملک کی نظر میں تو ظاہری خوبصورتی کی کوئی قدروقیمت ہے ہی نہیں۔ اللہ رب العزت کے نزدیک انسان کی قیمت اس بات سے ہے کہ وہ کتنا متقی اور اللہ کی مخلوق کے لیے کتنا کارآمد ہے۔ ہم اپنے ارد گرد کتنے ایسے لوگ دیکھتے ہیں کہ وہ شکل و صورت میں کوئی خاص خوبصورت نہیں ہوتے لیکن ہر بندہ ان کا فین ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ تعاون کرنے والے اور آسانیاں پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ نے مخلوق کے دلوں میں ان کی محبت ڈال رکھی ہوتی ہے۔ اس لیے آج سے پہلے آپ نے اچھائی اور خوبصورتی کے جو معیار بنا رکھے تھے ، انہیں بدل لیجیے۔

اگر آپ بہت سال اس تکلیف دہ اذیت میں رہے ہیں تو اس چیز نے آپ کے اندر ایک خاص قسم کی نرمی اور عاجزی پیدا کردی ہوگی۔ آپ بہت حساس بھی ہوں گے۔ جو انسان زندگی میں کئی سال اندرونی یا جذباتی توڑ پھوڑ کا شکار رہا ہو ، اسے بس زرا سی سپورٹ اور حوصلہ ملنے کی دیر ہے ، وہ ایک بہترین اور کارآمد انسان بن کر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے لگتا ہے۔ میں خود اپنی چالیس سالہ زندگی میں نصف سے زیادہ عرصہ لمرنس اور دوسروں سے متاثر رہنے کی بیماری کا شکار رہا ہوں۔ زندگی اور جوانی کے بہترین اور خوبصورت سال ، بہت بے چینی اور اضطراب میں گزار دیے کیونکہ کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں تھا کہ اس مسئلے سے کیسے نکلا جائے ؟ لیکن اب الحمدللہ میں اس سراب اور دھوکے سے باہر آچکا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ بھی آجائیں۔

آج سے خود کو "جو ہے اور جیسا ہے" کی بنیاد پہ قبول کیجیے۔ اپنے لیے جینا شروع کیجیے۔ خود کو موٹیویٹ کرنا اور حوصلہ افزائی کرنا سیکھیے۔ اگر بچپن میں آپ کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے یا آپ کو وہ توجہ یا محبت نہیں ملی جس کے آپ حقدار تھے تو اب خود کو سزا اور اذیت مت دیجیے۔ اب آپ بالغ ہوچکے ہیں اور خودمختار بھی ہیں ۔ اب آپ اپنے لیے وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جس کے آپ مستحق ہیں لیکن اس کے لیے پہلے احساسِ کمتری اور خود ترسی سے باہر آنا ہوگا۔ خود کو کمزور اور حالات کا مارا ہوا انسان سمجھنا چھوڑ دیں۔ آپ ایک مکمل اور خوبصورت انسان ہیں۔ اللہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آپ کی تذلیل کرے یا آپ کو رد کردے۔ آپ کو اچھا یا سمجھدار ثابت ہونے کےلیے ، کسی بھی دوسرے انسان کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ اس جذباتی معذوری سے اوپر اٹھ کر زندگی کا آغاز کیجیے۔ 

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ اس موضوع کا مکمل احاطہ ایک تحریر میں ممکن نہیں ، اس لیے اس موضوع کو مزید سمجھنے اور جاننے کے لیے ، اس پر ریسرچ کیجیے۔ آپ کے ذہن کی گِرہیں کُھلتی چلی جائیں گی۔ یہ بات بھی یاد رکھیے کہ جو بھی انسان آپ کی زندگی میں آیا ، بھلے اس کا آنا آپ کے لیے تکلیف دہ ہی رہا ہو ، اس کی موجودگی کا ایک مقصد تھا۔ کوئی سبق قدرت نے آپ تک پہنچانا تھا جو پہنچ چکا۔ اب آگے بڑھیے۔ اس انسان کو کوسنا بھی بند کیجیے۔ اگر آپ کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اسے معاف کرنا سیکھیے۔ یہ آپ کی اپنی ریکوری کے لیے بہت ضروری ہے۔

لمرنس سے نکلنے کے لیے اپنی فیملی اور اپنے خونی رشتوں کے ساتھ وقت گزارنا بھی بہت مددگار ہے۔ جب ہم کسی جذباتی یا وقتی محبت کےتعلق سے گذرتے ہیں تو گھر والوں تک کو بھول جاتے ہیں حالانکہ اس کائنات میں ہمارے سب سے بڑے خیرخواہ وہی ہیں۔ ان سے تعلق دوبارہ بحال کیجیے۔

اگر آپ نے اپنی زندگی کو ایسا بنا رکھا ہے کہ ایک شخص کے ناہونے سے آپ کی زندگی رک جائے یا آپ کو جینے کا کوئی مقصد ہی نظر نا آئے تو آپ نے ابھی تک زندگی کے مقصد کو سمجھا ہی نہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ جیسا ایک قیمتی بلکہ انمول انسان اس لیے دنیا میں نہیں بھیجا کہ وہ کسی کی توجہ کی بھیک یا محبت کے دھوکے اور طلب میں خود کو رول دے۔ اپنی قدروقیمت کو پہچانیے اور اپنے رب سے تعلق قائم کیجیے۔ یقین کریں آپ کو اس سے بہت بہتر اور افضل انسان مل جائے گا۔

اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ آپ سب کو مکمل جسمانی اور ذہنی صحت اور بہترین سکون والی زندگی عنایت فرمائے۔ آمین 

والسلام 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...