چالان اور قانون سے عیاشیاں

 


ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ2000 روپے

غلط جگہ پارکنگ پر جرمانہ 2000 روپے

ممنوعہ جگہ کی طرف گاڑی کے داخلے پر جرمانہ 50 روپے

بائیک پر تین افراد بٹھانے پر جرمانہ 2000 روپے

 پلاسٹک کے ہیلمٹ پہننے پر جرمانہ 5000 روپے

ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی پر جرمانہ 1000 روپے

ون وے پر جرمانہ 2000 روپے

بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے پر جرمانہ 200 روپے

⭐اب دوسرا پہلو دیکھیئں⭐

سڑک پر بے شمار گڑھے کھڈے ۔ کوئی ذمہ دار نہیں

گلیوں میں سیوریج کاپانی ، بارش کا پانی زمہ دار کوئی نہیں

مین ہولز کے ڈھکن نہیں روزانہ ایکسیڈینٹ زمہ دار کوئی نہیں 

سرکاری ہسپتالوں میں دوایاں نہیں زمہ دار کوئی نہیں

ناکارہ سگنل لائٹس ۔ کوئی ذمہ دار نہیں

سڑک کی کھدائی کے بعد اسکی مرمت نہیں ہوتی ۔ کوئی ذمہ دار نہیں

سڑک پر سیاسی فلیکسز اور بینرز لگوائے جاتے ہیں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں

فٹ پاتھ پر بےشمار تجاوزات ۔ کوئی ذمہ دار نہیں

سڑک پر ابلتی کچرا کنڈیاں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں

سڑکوں پررات کے اوقات میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں

ایسا لگتا ہے کہ عوام صرف مجرم ہیں اور جرمانے ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں آئے ہیں

انتظامیہ اور حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔ 

ان پر کوئی قواعد و ضوابط لاگو نہیں ۔ 

وہ مسائل کے حل کے لیے کبھی ذمہ دار نہیں ۔ 

کیا انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیئے؟ 

شہری فرائض ادا کریں

شہری تکلیف کا سامنا کریں

شہری ٹیکس ادا کریں

شہری حکومت کا خزانہ بھریں

اور حکومت ہمارے ٹیکسوں سے عیاشیاں کرے

قوم کو سزا نہیں ، سہارا دیں ! 

قانون کے نام پر خزانہ نہ بھریں ۔۔۔

قوم کو سہولت دیں ، اعتماد دیں ، احترام دیں ۔۔۔ 

انسانیت ، آسانی کو ملحوظ خاطر میں لائیں ، مہربانی فرمائیں ۔۔۔۔

قوم کو اپنا دشمن نہ بنائیں ٹریفک پالیسی میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں مگر ایک بڑی سچائی ہے: ریاست ماں ہوتی ہے اور " ماں اپنی اولاد کو سزا دینے سے پہلے سہولت دیتی ہے، سمجھاتی ہے، بچاتی ہے ۔ ڈراتی نہیں، دھکے نہیں دیتی ، بد سلوکی و بدتمیزی کی اجازت نہیں دیتی۔ آج پنجاب کی نئی ٹریفک پالیسی نے عوام کے دلوں میں خوف اور غصے کی وہ لہر پیدا کر دی ہے جو قانون کے احترام کو بڑھانے کے بجائے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کر رہی ہیں۔

دو ہزار روپے کا سب سے چھوٹا چالان ایک مزدور، ڈرائیور، ریڑھی بان ، رکشے والے اور غریب شہری کے لیے ایک دن کی مزدوری سے بڑھ کر یے۔ یہ سزا ہے یہ قانون نہیں… یہ بوجھ ہے ، ظلم ہے۔ اور 

 ظلم و ظالم کا نظام الامان الامان

 ٹریفک پولیس کی تلخ زبان الامان الامان

 غیر ذمہ دارانہ رویہ واہ سبحان الامان الامان 

عوام دوست نعرہ یک زبان 

"جرمانے کرو --- حدف پورا کرو" 

پر عمل پیرا افسران الامان الامان ! 

اس صورتحال میں عوام نواز و عوام دوست وزیر اعلی کو کون فریاد پہنچائے کہ جناب 

قانون اگر نفرت پیدا کرے ، تو فائدہ نہیں دیتا — نقصان دیتا ہے۔

تو پھر کیا اس کا کوئی حل ہے ؟

جی بالکل ہے کیونکہ 

قانون کا مقصد سزا نہیں - اصلاح ہے۔

قوم کو سزا سے نہیں، سہولت سے سدھارا جاتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ حکومتیں یہی عمل کرتی ہیں۔

اس حوالے سے چند سفارشات: 

1. لائسنس نہیں؟ چالان کے بجائے موقع پر لائسنس بنائیں.ہر ناکے پر موبائل لائسنس یونٹ ہوں

 چند منٹ میں e-license پرنٹ کیا جائے

 فیس معمولی رکھی جائے

یاد رکھیے:

سزا دینے سے بہتر ہے سہولت دینا۔

2. ہیلمٹ نہیں؟ چالان کے بجائے ہیلمٹ دیں

 سرکاری نرخ پر سبسڈی والا ہیلمٹ موقع پر مہیا کریں۔

ڈرائیور کو ہیلمٹ کے ساتھ حفاظتی شعور بھی دیں۔

 جرمانے کو آخری آپشن رکھیں

یہ اقدام عوام کے دل بھی جیتے گا اور حادثات بھی کم کرے گا۔

3. عوامی آگاہی مہم - پولیس کا کام صرف چالان نہیں، تربیت بھی ہے۔

قانون کی وضاحت، احترام اور احتیاط سکھائیں

 سوشل میڈیا، اسکولوں اور مساجد کے ذریعے ٹریفک قوانین کی تعلیم عام کریں

سب سے بڑھ کر اہم اور ضروری قدم!

 ٹریفک پولیس کے رویے کو نرم، خوش اخلاق اور شہری دوست بنایا جائے

4. جرمانے کم اور حقیقت پسندانہ کیے جائیں

 مزدور اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی میں پستا ہے. اس پر بھاری جرمانے ان کے لیے معاشی سزا ہیں. جرمانے اصلاح کے مطابق ہوں، انتقام کے مطابق نہیں

5. ٹریفک پولیس کی خود احتسابی

بدنیتی، بدسلوکی اور غیر اخلاقی رویے پر فوری کارروائی

 ہر ناکے پر کیمرہ، ہر چالان کی ریکارڈنگ

 عوام کو شکایت درج کرنے کا آسان نظام مہیا کیا جائے ۔

محترمہ ۔۔۔! 

قوم دشمن نہیں— قوم آپ کی ہے

حکومت کا کام جرمانے اکٹھے کرنا نہیں، شہریوں کو محفوظ بنانا ہے۔

چالانوں کا طوفان لوگوں میں بغاوت، نفرت اور بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔

آج عوام فریاد کر رہی ہے:

"ہمیں ڈرائیں مت، ہماری حفاظت کریں۔ ہمیں سزا نہ دیں، ہمیں سہولت دیں۔"

اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ شہری ٹریفک قوانین کی پابندی کریں.

تو انہیں ساتھ لے کر چلنا ہوگا… ان کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر نہیں ۔۔۔

قانون سخت ضرور ہو

مگر انسانیت سے خالی نہ ہو۔

پولیس کو بااختیار کریں مگر بدسلوکی کی اجازت نا قابل معافی ہو۔

جرمانہ ہو بھی جائے۔

تو اصلاح کے ارادے سے ہو، انتقام کے جذبے سے نہیں۔

خدارا !!!

چالانوں سے نہ بھرو خزانوں کو

حالات تبدیل ہونے چاہئیں

 یہ سب ممکن ہوگا عوام میں بیداری پیدا کرنے سے ۔ 

اس پیغام کو پھیلائیں ۔ 

شعور پیدا کریں ۔۔۔۔

سہولتیں ہمیں اتھوپیا ملک جیسی ملتی ہیں اور عمل درامد یورپی قانون والے چاہتے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...