مکہ ٹاور کے متعلق معلومات

 



مکہ کلاک ٹاور...
---------------------------

وہ گھڑی کتنی مبارک تھی جب دنیائے اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ میں دنیا کی سب سے بڑی گھڑی کی تنصیب کے لیے بلند ترین کلاک ٹاور کی بنیاد رکھی گئی۔ 

یہ کلاک ٹاور مسلمانوں کے مقدس مقام خانہ کعبہ کے پہلو میں رُکن یمانی سے چند ہی قدم کے فاصلہ پر مقدس پہاڑی صفا کے پیچھے سڑک کے پار تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کلاک ٹاور کا سنگ بنیاد 2004 ء میں رکھا گیا۔ 2012
ء میں اس کلاک ٹاور کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ 1432ھ ماہِ رمضان کے مقدس ایام میں اس کلاک کو آزمائشی بنیادوں پر تین ماہ کے لیے چلایا گیا اور اگلے سال عیدالفطر 1433ھ کو اس کلاک کا باضابطہ طور پر سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے افتتاح کیا۔

مکہ کا مقدس شہر جدہ سے 70کلومیٹر کے فاصلے پر سطح سمندر سے 909 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ خانہ کعبہ کے ساتھ جنوب کی جانب الجیاد قلعہ تھا جسے ترک عثمانی حکمرانوں نے اٹھارویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا تھا۔ بالکل اس جگہ سعودی حکومت نے موجودہ عظیم منصوبے کا پروگرام بنایا جس میں دنیا کے سب سے بلند کلاک ٹاور اور ہزاروں رہائشی کمروں کے علاوہ ایک پانچ ستارہ ہوٹل کی تعمیر کا منصوبہ شامل تھا۔

اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہاں پر پہلے سے موجود قلعے کو مسمار کرنا ضروری تھا۔ 2002ء میں الجیاد قلعے کی مسماری کا کام جب شروع ہوا تو ترک حکومت کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ اس کے علاوہ مغربی میڈیا نے صدائے احتجاج بلند کی کہ یہ ترکی کے ساتھ زیادتی ہے لیکن یہ سب واویلا بے سود ثابت ہوا کیونکہ اس وقت ترکی کے بجائے خانہ کعبہ کی تولیت سعودی خاندان کے پاس ہے اور خادم الحرمین کا تاج سعودی حکمرانوں کے سر پر سج چکا ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں مکہ کلاک ٹاور دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت ہے اور اس کی چوٹی پر نصب شدہ کلاک ساری دنیا میں سب سے بڑا کلاک ہے۔ مکہ کلاک ٹاور کی عمارت سے بلندی میں صرف برج دبئی ہی بلند ہے جس کی اونچائی 2718فٹ ہے جب کہ مکہ کلاک ٹاور کی اونچائی 1972فٹ (601میٹر) ہے۔
یہ کلاک حجم کے لحاظ سے لندن کے بگ بین (Big Ben) سے چھ گنا بڑا ہے۔ مکہ کلاک ٹاور اس عظیم پراجیکٹ کا حصہ ہے جس میں 3000کمروں والا ہوٹل بھی شامل ہے۔ جن میں 858کمرے لگژری اپارٹمنٹس پر مشتمل ہیں۔ ان کمروں کی کھڑکیاں خانہ کعبہ کی طرف کھلتی ہیں، جہاں سے خانہ کعبہ اور مسجد الحرام کا روح پرور نظارہ ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔

حج کے ایام میں اس کمپلیکس میں 6500زائرین قیام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 10 ہزار نمازیوں کے نماز پڑھنے کے لیے بھی ایک بہت بڑا ہال بنایا گیا ہے۔ اس پورے پراجیکٹ کی 123منزلیں ہیں جن میں 120 زمین کے اوپر اور تین زیرِ زمین ہیں۔ نیچے تہ خانوں میں 1000سے زائد گاڑیاں پارک کی جا سکتی ہیں۔ 76
منزلیں ہوٹل کے زیر استعمال ہیں۔ ایک منزل میں اسلامی میوزیم بھی بنایا گیا ہے۔ 20 منزلوں پر مشتمل ایک بہت بڑا شاپنگ مال بھی موجود ہے۔ اس کمپلیکس میں 96برقی زینے ہیں۔ ان کے علاوہ لفٹس بھی نصب کی گئی ہیں۔ جن کی رفتار چھ میٹر فی سیکنڈ ہے۔

مکہ کلاک ٹاور زمین سے 1740فٹ کی بلندی پر نصب کیا گیا ہے۔ کلاک کے ڈائیل ایریا کا رقبہ (141×141) 19881مربع فٹ ہے، جب کہ کلاک کا قطر 128فٹ ہے۔ منٹ کی سوئی 72فٹ اور گھنٹوں والی سوئی 56فٹ لمبی ہے۔ کلاک کے اوپر موٹے حروف میں ’’اللہ اکبر‘‘ لکھا ہوا ہے۔
یہ کلاک 30کلومیٹر کے فاصلے سے نظر آتا ہے۔ 

پورے کلاک کے سامنے والے رُخ پر خوبصورت ٹائلیں لگائی گئی ہیں۔ کلاک کے فرش پر 20 لاکھ (دوملین) LEDلائٹس لگائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کلاک کے اوپر 2100سفید اور سبز رنگ کی روشنیاں بھی نصب کی گئی ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں جب رات کے وقت یہ لائٹس روشن ہوتی ہیں تو ان کے سامنے آسمان کے ستارے منہ چھپاتے دکھائی دیتے ہیں۔ رات کے وقت یہ کلاک ٹاور 20کلومیٹر کے فاصلہ سے نظر آتا ہے۔

کلاک کی چھت پر سولہ (16) اہم لائٹس لگائی گئی ہیں جو بالکل عمودی آسمان کی طرف روشنی پھینکتی ہیں جو دس کلومیٹر تک آسمان کی بلندیوں تک چلی جاتی ہیں۔ اگر رات کے وقت پاکستان سے جدہ جاتے ہوئے دائیںجانب خانہ کعبہ کی طرف دیکھیں تو جہاز کی کھڑکی سے اتنا پُرلطف منظر آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔اس طرح محسوس ہوتا ہے گویا ہزاروں لاکھوں چاند اس دھرتی پر اتر آئے ہوں۔

کلاک کے فرش پر دونوں سوئیوں کے پس منظر میں سعودی حکومت کا قومی نشان دو تلواروں کے درمیان کھجور کا درخت بنایا گیا ہے۔ مسجد الحرام میں دی جانے والی پانچوں وقت کی اذان کی آواز اس کلاک ٹاور سے سات کلومیٹر کے فاصلے تک بخوبی سنی جا سکتی ہے۔

کلاک کی چھت کے اوپر 1833فٹ کی بلندی پر ایک رصد گاہ بھی بنائی گئی جو یقینا دنیا میں سب سے بلند رصد گاہ ہے۔ یہ رصد گاہ مسلمانوں کے مقدس مہینوں کا چاند دیکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس رصد گاہ میں اتنی طاقتور دوربینیں نصب کی گئی ہیں کہ چاند کے لیے آنکھ مچولی کھیلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
اس کلاک کا ڈیزائن ایک سوِس کمپنی Strantec نے تیار کیا اور کلاک کی تنصیب کا کارنامہ ایک جرمن کمپنی پر یمیئر کمپوزٹ ٹیکنالوجی نے سرانجام دیا۔ اس کمپنی کا ذیلی دفتر دبئی میں ہے۔ اس کلاک کی تنصیب میں 250مسلمان ماہر کاریگروں نے حصہ لیا۔ یہ کلاک تیار کرنے میں تین ماہ کا عرصہ لگا اور دبئی سے لا کر مکہ ٹاور پر اس کو نصب کیا گیا۔ واقعی اتنی بلندی پر ایسا تکنیکی کام کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اتنی بلندی سے صرف نیچے دیکھنے سے انسان کی روح کانپنے لگتی ہے۔

کلاک کے اوپر فائبر گلاس سے بنایا ہوا سنہرے رنگ کا ہلال بھی نصب کیا گیا ہے، جس کا وزن 35ٹن ہے۔ یہ ہلال بھی جرمن فرم پریمیئر کمپوزٹ ٹیکنالوجی نے دبئی میں تیار کیا اور اس ہلال کی تنصیب اور ویلڈنگ کا کام مسلمان ماہر کاریگروں نے ہی سرانجام دیا۔ یہ ہلال کلاک ٹاور کی چوٹی کے کلس پر رکھا گیا ہے۔ 

مکہ کلاک ٹاور کے سارے پراجیکٹ کی تعمیر کا کام سعودی عرب کی سب سے بڑی کنسٹرکشن کمپنی ’بن لادن‘ نے سرانجام دیا اور سارے پراجیکٹ کی تعمیر ’دارلہندسہ کمپنی‘ کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔

2008ء میں دوحہ میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیائے اسلام کے نامور جیّد علماء اور اسکالرز نے حصہ لیا۔ کانفرنس کے دوران وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ 125سالہ پرانا اختیار کردہ CMT (گرین وچ) مقام دنیا کا مرکزی پوائنٹ نہیں بلکہ اس ارض کا مرکزی نقط مکہ معظمہ ہے۔ یہ گرین وچ مین ٹائم جسے دنیا کا معیاری وقت قراردیا گیا ہے، مبنی برحقیقت نہیں۔
انھوں نے کانفرنس میں یہ بات بڑے وثوق اور سائنٹیفک دلائل کے ساتھ ثابت کی کہ مکہ ہی دنیا کا مرکزی مقام ہے۔ 

اس نتیجے کے پیش نظر ہی سعودی حکومت نے اس جگہ کلاک ٹاور تعمیر کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور آج وہی کلاک ٹاور دنیائے اسلام کے باسیوں کی نگاہوں کا مرکز بن گیا ہے۔

کانفرنس کے مندوبین نے برملا اس حقیقت کا اظہار کیا کہ 1884ء میں لندن کے GMTکا وقت تمام دنیا پر مسلط کیا گیا تھا جو کہ حقائق کے منافی ہے بلکہ مکہ کلاک ٹاور کا وقت ہی دنیا کا اصلی اور صحیح معیاری وقت کہلانے کا مستحق ہے۔

 امید ہے کہ جلد ہی تمام اسلامی ممالک مکہ کے معیاری وقت کو GMT کے بجائے تسلیم کر لیں گے اور دنیا کے تمام مسلمان اپنی گھڑیاں مکہ کلاک ٹاور کے وقت ہی سے سیٹ کر لیں گے۔

مکہ کلاک ٹاور کی تعمیر سے چار ورلڈ ریکارڈ بھی بن چکے ہیں جو یہ ہیں:
1۔یہ کلاک ٹاور دنیا کا سب سے بلندٹاور ہے۔

2۔سب سے بڑا ہے۔
3۔اس پراجیکٹ کا فلور ایریا 1,575,815 m² / 16,961,931 ft² ) 5 ( ہے جو کہ دبئی ایئر پورٹ کے فلور ایریا سے بھی زیادہ ہے۔
4۔کلاک ٹاور کی چھت زمین سے 1740فٹ بلند ہے۔

یقینا یہ سعودی حکومت کا ایک قابل فخر کارنامہ ہے کہ اس نے دنیا کے سب سے بڑے اور بلند کلاک ٹاور کو تعمیر کرکے تمام دنیا کے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ اس سے قبل یہی فخر مغربی دنیا کے پاس تھا۔ گویا دنیا میں بلند و بالا فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنے کی ایک طرح ان کے پاس اجارہ داری تھی۔

اس اجارہ داری کا طلسم اس وقت پاش پاش ہو گیا جب ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پیٹروناس ٹاورز نے سر نکالا۔ اس کے بعد دبئی میں برج دبئی کی تعمیر ہوئی جو ابھی تک 2718 فٹ کی بلندی کے ساتھ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے ..

اور اب مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ میں دنیا کے سب سے بلند کلاک ٹاور کی تعمیر کو چاہے مسلمانوں کی مذہبی فوقیت کا ثبوت نہ بھی مانا جائے مگر دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں اس کے مقام سے انکار تو ممکن نہیں رہا..

بشکریہ سکندر بھائی..

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...