دوسری شادی

 



ایک عمر دراز، صاحبِ تجربہ اور دنیا کے نشیب و فراز دیکھ چکے بزرگ کسی محفل میں خاموشی سے بیٹھے تھے۔ چہرے پر سنجیدگی، آنکھوں میں گہری سوچ اور آواز میں وقت کی تھکن صاف جھلک رہی تھی۔ اچانک انہوں نے گہرا سانس لیا اور فرمایا:

“میں نے اپنی طویل زندگی میں بہت سے لوگوں کو دیکھا، مگر تین لوگوں سے زیادہ بدنصیب میں نے کسی کو نہیں پایا۔”

محفل میں مکمل خاموشی چھا گئی، سب کی نظریں بزرگ کی طرف جم گئیں۔

انہوں نے فرمایا: “پہلا بدنصیب وہ ہے جس کے پاس نئے، صاف ستھرے اور قیمتی کپڑے موجود ہوں، مگر اس کے باوجود وہ پرانے اور بوسیدہ کپڑے پہنے رکھے۔ نہ شکر ادا کرے، نہ نعمت کی قدر جانے۔”

پھر تھوڑا توقف کیا اور بولے: “دوسرا بدنصیب وہ ہے جس کے پاس بھرپور، لذیذ اور وافر کھانا ہو، مگر وہ پھر بھی بھوکا سوجائے۔ یا تو ناشکری کرے یا کسی وہم، لالچ یا کنجوسی میں خود کو محروم رکھے۔”

یہ کہتے ہوئے بزرگ کی آواز بھرا گئی، آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور محفل میں موجود لوگوں کے دل بھی بوجھل ہونے لگے۔ کسی نے ہمت کر کے عرض کیا:

“حضرت! وہ تیسرا بدنصیب کون ہے؟ براہِ کرم ہمیں بھی بتائیے۔”

یہ سن کر بزرگ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ آواز کانپنے لگی، دل کی گہرائی سے دردناک لہجے میں بولے:

“تیسرا بدنصیب وہ شخص ہے جس کے پاس اللہ نے مال بھی دیا ہو، صحت بھی عطا کی ہو، طاقت اور وسعت بھی ہو، مگر وہ اس کے باوجود دوسری شادی نہ کرے اور صرف ایک ہی بیوی پر ساری زندگی گزار دے۔”

یہ الفاظ سنتے ہی محفل میں عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ کہیں سسکیاں تھیں، کہیں آہیں، اور کہیں ضبط کے بندھن ٹوٹتے محسوس ہونے لگے۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور زور زور سے رونے کی آوازیں بلند ہو گئیں۔


*ہاں جی کون کون نیت کرتا ہے دوسری شادی کی؟..* 😂


*اور کون پہلی کی کرتا ہے؟* 😄


*اصل میں بات یہ ہے کہ شادی نوجوانوں کی زندگی میں نہایت اہم اور بابرکت عمل ہے، جو نہ صرف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے بلکہ ذہنی سکون، اخلاقی مضبوطی اور سماجی استحکام کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج بہت سے نوجوان والدین کی غیر ضروری تاخیر، حد سے زیادہ توقعات اور معاشرتی دباؤ کے باعث شادی سے محروم ہیں۔ دوسری طرف مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مسائل نے بھی اس راستے کو مشکل بنا دیا ہے، حالانکہ نکاح کو آسان بنانا ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر والدین سادگی کو اپنائیں، غیر ضروری رسم و رواج چھوڑ دیں اور نوجوانوں پر اعتماد کریں تو بہت سی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں اور ایک پاکیزہ، متوازن اور مضبوط معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔*


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...