مرغے کی اذان

 



بےغیرتی کی سو باتوں سے مرغے کی یہ ایک نصیحت بہتر ہے…

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔

ایک دن اس نے مرغے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، مگر بہانہ سوچا۔

کہنے لگا:

“کل سے تم نے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا!”

مرغے نے عاجزی سے کہا:

“آقا! جو آپ کی مرضی…”

صبح اذان کا وقت آیا۔

مرغے نے اذان تو نہ دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑایا۔

مالک نے نیا حکم صادر کیا:

“کل سے پر بھی نہیں مارنے!”

اگلی صبح مرغے نے پر تو نہ ہلائے، مگر لاشعوری طور پر گردن لمبی کر کے اوپر اٹھا لی۔

مالک کو یہ بھی پسند نہ آیا۔

فرمان آیا:

“کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے!”

اب کی بار اذان کے وقت مرغا بالکل خاموش بیٹھا رہا، جیسے مرغا نہیں… مرغی ہو۔

مالک نے سوچا:

یہ تو بات نہیں بنی…

اب اس نے ایسا حکم دیا جو مرغے کے بس سے باہر تھا:

“کل سے تم نے صبح انڈا دینا ہے، ورنہ ذبح!”

یہ سن کر مرغے کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

مالک نے پوچھا:

“موت کے ڈر سے رو رہے ہو؟”

مرغے نے جواب دیا — ایسا جواب جو تاریخ بن گیا:

“نہیں!

میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ

انڈے سے بہتر تھا کہ اذان پر مر جاتا…”

📌 سبق بہت واضح ہے:

پہلا غلط حکم مان لو تو پھر احکام آتے ہی چلے جاتے ہیں،

تعمیل ہوتی رہتی ہے،

اور آخر میں کھال تک اتار لی جاتی ہے۔

✋ اس لیے ضروری ہے:

اپنے اندر ہمت پیدا کریں،

حق کو حق کہنے کی جرأت پیدا کریں۔

❓ کیا ہم متحد ہو کر اپنا حق نہیں لے سکتے؟

❓ جس رفتار سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، اسی رفتار سے ہم کیوں کمزور ہو رہے ہیں؟

❓ ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ “ہم اس فیصلے کو نامنظور کرتے ہیں”؟

یا پھر مان لیں کہ:

ہم ایمان کی طاقت سے محروم ہو چکے ہیں؟

🤲 یا اللہ! اس ریوڑ کو ایک قوم بنا دے۔ آمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...