گھر والوں کے سامنے کَوڑا لٹکا کے رکھو
#اسلامی_طرزِ_تربیت 199
ایک شخص سیدی عمر فاروق اعظم رضی الله عنہ کے پاس اپنی *بیوی کے برے اخلاق کی شکایت کرنے آیا*
جب عمر فاروق کے دروازے پر پہنچا تو سنا ان کی زوجہ محترمہ ان کو خوب باتیں سنا رہی ہیں
وہ آدمی پلٹ کر جانے لگا اسی اثناء میں عمر فاروق باہر تشریف لائے
اور آنے کی پھر بغیر بات کیئے واپس جانے کی وجہ پوچھی
عرض گزار ہوا
میں اپنی بیوی کی شکایت کرنے آیا مگر یہاں تو امیر المومنین کا یہ حال ہے تو میری کیا مجال بیوی کے آگے
فرمایا
یہ میرے کپڑے دھوتی ہے میرے لیے کھانا بناتی ہے میرے بچوں کو پالتی ہے اور مجھے حرام سے بچاتی ہے
جب یہ اتنا کچھ کرتی ہے تو میں بھی اس کی کچھ باتیں سن لیتا ہوں
وہ صاحب کہنے لگے امیر المومنین میری بھی یہی حالت ہے
فرمایا اے میرے بھائی صبر کرو بس مشقت کے یہ چند دن ہی ہیں
(تنبیہ الغافلین لابی اللیث السمرقندی)
*مردِ مومن* کی یہ نشانی ہے گھر والوں کے لیئے نرم ہو جبکہ *منافق* باہر عاجزی کا پیکر اور گھر میں جلاد ہوتا ہے
گھر کے سربراہ یعنی باپ کو بیوی سے اور بچوں سے *نرمی نرمی نرمی* کرنی چاہے
*مگر یہ نرمی حدودِ شریعت میں ہوجہاں شریعت کی خلاف وزری ہو وہاں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عطاء کردہ عظیم نسخہ یاد رکھیں*
جسے `ابن ابی الدنیا نے کتاب العیال` میں نقل فرمایا
> عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ فَإِنَّهُ أَدَبٌ لَهُمْ .
اپنے گھروں میں کَوڑا (یعنی ڈنڈا وغیرہ) وہاں لٹکائے رکھو جہاں گھر والوں کی نگاہ پڑتی رہتی ہو کیونکہ یہ ان کے لیئے ادب سکھانے کا آلہ ہے
(کتاب العیال لابن ابی الدنیا)
مراد شریعت کی خلاف ورزی پر اس آلے سے ادب سکھایا جائے *نہ کہ ہر خلافِ طبیعت بات پر دھر دیا جائے!*
اور اس سے ہٹ کر نرمی کریں
جیساکہ حدیث پاک میں
> خيركم خيركم لاهله
تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہے
(ترمذی)
یہی وجہ ہے وہ *پُرجلال* جن کو دیکھ کر شیطان راہ بدل لے وہ جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کا *جگر پانی ہو جائے* وہ فاروق اعظم گھر میں بچوں کی طرح رہتے ہیں
_فاروق اعظم_ نے فرمایا
> يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ مَعَ أَهْلِهِ مِثْلَ الصَّبِيِّ
*آدمی کو چاہے اپنے گھر والوں کے ساتھ بچے کے طرح رہا کرے*
(احیاء العلوم)
حدیث مبارکہ میں ہے
> من كان له صبي فليتصاب له
*جس کا بچہ ہو وہ اس کے ساتھ بچہ بن جائے*
(فیض القدیر)
یعنی *بچے کے ساتھ بچوں کی طرح کھیل کود کرے ان کا دل خوش کرے ان سے پیار و محبت کرے*
وہ باپ جو ہر وقت منہ پُھلائے رکھتا ہے بچے اور بیوی اس سے سہمے رہتے ہیں ناکام باپ اور ناکام شوہر ہے
وہ باپ جس کے پاس دوستوں رشتہ داروں کے لیے وقت ہے اور ان کے ساتھ ہنسنے مسکرانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا مگر بیوی بچوں کے سامنے سنجیدہ رہتا ہے *بے کار شخص* ہے
ایسے شخص سے زندگی میں بچے ڈرتے ہیں اور آخری عمر میں وہ محتاجی کی زندگی گزارتا ہے
(یہ کافی بار کا مشاہدہ ہے)
`بیوی کی بات سننا زبان درازی پر خاموش رہنا نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں میں بھی چلتا ہے`
زیرِ نظر تصویر خوب عکاسی کر رہی ہے 😅
✍️

0 تبصرے