کالے غلام کا حیرت انگیز واقعہ

 


مالک بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

میں ایک دن بصرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ جامع مسجد میں جمع ہیں اور ظہر سے عشاء تک اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں۔ کوئی مسجد سے باہر نہیں نکلا تھا۔

میں نے پوچھا: “ کیا معاملہ ہے؟”

لوگوں نے کہا: “آسمان نے بارش روک دی ہے، دریا اور نہریں خشک ہو گئی ہیں، اور ہم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کر رہے ہیں۔”

میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ وہ نماز پڑھتے اور دعا کرتے رہے، آخرکار لوگ واپس جانے لگے اور آسمان سے بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسا یہاں تک کہ ہر شخص اپنے گھر روانہ ہوگیا۔

میں مسجد ہی میں بیٹھا رہا، کیونکہ میرا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔

اتنے میں ایک دبلا پتلا، سیاہ فام نوجوان، جس کی پنڈلیاں باریک تھیں اور لباس نہایت معمولی تھا، مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر عرض کیا:

إلهي وسيدى ومولاي إلى كم تَرُدُّ عبادك فيما لا يَنقُصُك ، أنفدَ ما عندك أم نفدت خزائن رحمتك ؟سيدي أقسمتُ عليكَ بحبك لي إلا سقيتنا غيثَك الساعة.

“اے میرے اللہ! اے میرے آقا! اے میرے مولیٰ! تو اپنے بندوں کو کب تک ایسی چیز کے معاملے میں واپس لوٹاتا رہے گا جس سے تیرے خزانے میں کوئی کمی نہیں آتی؟ کیا تیرے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوگیا ہے، یا تیری رحمت کے خزانے ختم ہوگئے ہیں؟ میرے آقا! میں تجھے تیری میرے لیے محبت کی قسم دیتا ہوں کہ اسی وقت ہمیں اپنی بارش عطا فرما!” 


ابھی اس نے اپنے ہاتھ نیچے بھی نہ کیے تھے کہ آسمان پر بادل چھا گئے، ہر طرف سے گھٹائیں جمع ہوگئیں اور ایسی موسلادھار بارش شروع ہوگئی جیسے مشکیزوں کے منہ کھول دیے گئے ہوں۔


مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:

میں اس نوجوان کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ مسجد سے نکلا تو میں اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ گلیوں اور راستوں سے گزرتا ہوا ایک گھر میں داخل ہوگیا۔ میں نے اس گھر کو پہچاننے کے لیے زمین کی مٹی کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور دروازے پر نشان لگا دیا۔


جب سورج طلوع ہوا تو میں انہی گلیوں سے ہوتا ہوا اس نشان تک پہنچا۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک ایسے شخص کا گھر تھا جو غلام فروخت کرتا تھا۔

میں نے اس سے کہا:

“میں تمہارے پاس سے ایک غلام خریدنا چاہتا ہوں۔”

اس نے مجھے کئی غلام دکھائے؛ لمبے، چھوٹے اور وجیہہ۔

میں نے کہا:“نہیں، کیا تمہارے پاس ان کے علاوہ کوئی اور غلام بھی ہے؟”

اس نے کہا:“فروخت کے لیے تو یہی ہیں، البتہ ایک سیاہ فام غلام ہے جو گھر کے پیچھے ایک خستہ حال کمرے میں سو رہا ہے۔ وہ خدمت کے قابل نہیں، اس سے کسی کام کا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔”

میں نے کہا: “مجھے وہ دکھاؤ۔”

جب وہ غلام میرے سامنے لایا گیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ یہ وہی نوجوان تھا جو گزشتہ رات مسجد میں دعا کر رہا تھا۔

میں نے کہا: “میں اسے خریدتا ہوں۔”

غلام فروش نے کہا:

لعلك تقول غشّني الرجل.. هذا لا ينفع فى شيء !

“شاید تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں نے تمہیں دھوکا دیا ہے! یہ واقعی کسی کام کا نہیں ہے۔”

میں نے کہا: “میں اسے ہی خریدنا چاہتا ہوں۔”

وہ اس کی قیمت بہت کم کرنے لگا اور آخرکار اسے میرے حوالے کر دیا۔

راستے میں غلام نے اپنا سر اٹھا کر مجھ سے پوچھا:

“میرے آقا! آپ نے مجھے کیوں خریدا؟ اگر آپ کو طاقت چاہیے تو مجھ سے زیادہ طاقتور لوگ موجود ہیں، اگر آپ کو وجاہت چاہیے تو مجھ سے زیادہ خوب صورت لوگ موجود ہیں، اور اگر آپ کو کسی ہنر مند کی ضرورت ہے تو مجھ سے زیادہ ماہر لوگ موجود ہیں؛ پھر آپ نے مجھے کیوں خریدا؟”

میں نے کہا:

“کل لوگ مسجد میں جمع تھے اور پورا بصرہ ظہر سے عشاء کے بعد تک اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا، مگر ان کی دعا قبول نہ ہوئی۔ لیکن جب تم مسجد میں داخل ہوئے، آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے فوراً تمہاری دعا قبول کرلی اور تمہاری مراد پوری فرمادی!”

غلام نے کہا:

لعله غيرى؟ وما يدريك أنتَ لعله رجل آخر؟

“شاید وہ میرے علاوہ کوئی اور ہو؟ تمہیں کیسے معلوم کہ کوئی دوسرا شخص نہ ہو؟”

میں نے کہا:“نہیں، وہ تم ہی تھے۔”

اس نے پوچھا:“کیا تم نے مجھے پہچان لیا ہے؟”

میں نے کہا: “ہاں۔”

پھر پوچھا:“کیا تمہیں یقین ہوگیا ہے کہ وہ میں ہی تھا؟”

میں نے کہا: “ہاں۔”

مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“اللہ کی قسم! اس کے بعد اس نے میری طرف نگاہ تک نہ اٹھائی۔ وہ خاموش رہا۔”

جب ہم قریب ترین مسجد کے پاس پہنچے تو اس نوجوان نے کہا:

“کیا آپ مجھے اس مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے؟”

وہ مسجد میں داخل ہوا، دو رکعت نماز پڑھی، پھر عرض کیا:

إلهي أُذيعَ السر بيني وبينك ، فلن يطيب لي بذا عيش فاقبضني إليكَ .

“اے میرے اللہ! میرے اور تیرے درمیان جو راز تھا، وہ ظاہر ہوگیا۔ اب میرے لیے یہ زندگی خوش گوار نہیں رہی، پس مجھے اپنی طرف بلا لے!”

پھر وہ دیر تک سجدے میں پڑا رہا۔

مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“میں نے اسے ہلایا تو معلوم ہوا کہ وہ وفات پا چکا تھا۔”

سبحان اللہ! کیا ہی راز تھا اس کا، اور اخلاص کے کس مقام پر وہ پہنچ چکا تھا!

اللهم استر عوراتنا وآمن روعاتنا ، اللهم اجعلنا من عبادك الأتقياء الأنقياء الأخفياء

اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال، ہماری گھبراہٹوں کو امن میں بدل دے، اور ہمیں اپنے متقی، پاکیزہ اور گمنام بندوں میں شامل فرما۔ آمین۔


*حلية الأولياء / أبو نعيم الأصبهاني (١٧٣/١٠)*

*من كنوز الإسلام( ٤٣)*


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...