"بوڑھے والدین - اللہ کی نعمت, بوجھ نہیں"




آج کل ہر اسکول میں ایک نیا رجھان آیا ہے، گرینڈ پیرنٹس ڈےمنانے کا۔ ہم بڑے جوش و خروش سے اسٹیج سجاتے ہیں، بچوں سے نظمیں پڑھواتے ہیں، دادا دادی، نانا نانی کو کارڈ دیتے ہیں اور تالیوں میں ان کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو حقیقت اس اسٹیج سے بہت مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن ہاتھوں کو ہم آج اسٹیج پر پھول دے رہے ہیں، گھروں میں وہی ہاتھ اکثر تنہا رہ جاتے ہیں۔ جن کی باتوں کو ہم آج مائیک پر بڑی عقیدت سے سن رہے ہیں، گھروں میں انہی کی باتوں کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم نے بزرگوں کو دیواروں پر لگی تصویروں اور سال میں ایک دن کی تقریب تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ وہ بوجھ نہیں، ہمارے گھروں کی برکت اور رحمت ہیں۔۔

وہ گھر جہاں اپنے نہیں رہتے

بات کچھ دن پہلے کی ہے، مجھے ایک جگہ جانے کا موقع ملا جسے لوگ اولڈ ایج ہوم کہتے ہیں۔ باہر سے وہ ایک عام عمارت لگتی تھی، لیکن اندر قدم رکھتے ہی مجھے لگا جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہوں۔

وہاں سب سے پہلے میری ملاقات وہاں کی نگران سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں رہنے والے بزرگ کیسے ہیں؟ تو وہ ایک لمبی سانس لے کر بولیں کہ یہاں ہر شخص کی اپنی ایک کہانی ہے۔ کوئی باپ ہے، کوئی ماں ہے، کوئی دادا ہے، کوئی دادی ہے۔ کبھی یہ لوگ اپنے گھروں کے سربراہ ہوا کرتے تھے، ان کے ایک اشارے پر پورا گھر چلتا تھا۔ اور آج... آج یہ خود کسی اپنے کے آنے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا ان کے بچے ان سے ملنے آتے ہیں؟ تو وہ بولیں، کچھ آتے ہیں، کچھ کبھی کبھار فون کر دیتے ہیں، اور کچھ تو صرف یادوں میں ہی رہ گئے ہیں۔

اس کے بعد میں وہاں کے بزرگوں سے ملا، اور جو میں نے سنا اس نے میرا دل ہلا کر رکھ دیا۔

سب سے پہلے میں ایک بابا جی کے پاس بیٹھا جو ریٹائرڈ استاد تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے چالیس سال بچوں کو پڑھایا ہے، لکھنا پڑھنا سکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ساری زندگی میرے بیٹے کے لیے تھی۔ اس کی فیس کے لیے میں نے اضافی کام کیا، اس کی تعلیم کے لیے اپنی زمین بیچ دی، اس کی شادی کی، اس کا گھر بسایا۔ میں نے کبھی اس سے کچھ نہیں مانگا۔ پھر ایک دن میرے بیٹے نے مجھ سے کہا، ابو آپ اکیلے ہیں، آپ کی دیکھ بھال مشکل ہے، آپ یہاں زیادہ بہتر رہیں گے۔ وہ مجھے یہاں چھوڑ گیا اور جاتے ہوئے بولا، ابو میں جلد آؤں گا۔ اور میں آج بھی اس جلد کا انتظار کر رہا ہوں۔

پھر میری ملاقات ایک ماں سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا اماں جی آپ کی کیا کہانی ہے؟ تو وہ مسکرا کر بولیں، بیٹا ہر ماں کی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے۔ بچوں کو کھانا کھلایا، خود بھوکی سو گئی۔ بچے بیمار ہوئے تو ساری رات جاگتی رہی۔ میرے تین بیٹے ہیں، تینوں کامیاب ہیں۔ میں نے پوچھا تو پھر آپ یہاں کیوں ہیں؟ تو کہنے لگیں، سب کی اپنی اپنی مصروفیات ہیں، کسی کے پاس وقت نہیں، کسی کے پاس جگہ نہیں، اور کسی کے پاس بس بہانے ہیں۔ اور ماں تو اپنے بچوں سے شکایت نہیں کرتی، وہ بس انتظار کرتی ہے۔

ایک اور کونے میں ایک باپ بیٹھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی گاڑی بیچ دی، اپنی دکان بیچ دی، قرض بھی لیا۔ جب وہ ڈاکٹر بن گیا تو ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ میں نے پوچھا تو کیا وہ اب آپ سے ملنے آتا ہے؟ تو وہ بولے، کبھی کبھی فون کرتا ہے، کہتا ہے ابو بہت مصروف ہوں۔ میں کہتا ہوں کوئی بات نہیں بیٹا۔ آخر باپ اپنے بیٹے کی مصروفیت سے کیسے ناراض ہو؟ لیکن کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ میں نے اس کے پورے مستقبل کے لیے اپنی پوری زندگی دے دی، کیا میں اس کے آج میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں رکھتا؟

وہاں ایک بیوہ ماں بھی تھیں۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی۔ وہ مجھے بتانے لگیں کہ ان کی بیٹی انہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھی لیکن حالات ایسے تھے کہ ممکن نہیں تھا۔ ایک دن وہ انہیں یہاں چھوڑنے آئی اور بہت رو رہی تھی۔ تو انہوں نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، بیٹی رو مت، میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔ میں نے پوچھا آپ کو اپنی بیٹی سے شکایت نہیں؟ تو وہ بولیں، نہیں بیٹا، ماں اپنی اولاد کو بددعا نہیں دیتی، چاہے دل کتنا ہی ٹوٹ جائے۔

اور سب سے زیادہ دردناک منظر وہ تھا جو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ایک کونے میں ایک بابا جی ہر شام دروازے کے پاس بیٹھے رہتے ہیں۔ نگران نے بتایا کہ یہ کہتے ہیں میرا بیٹا مجھے لینے آئے گا۔ میں ان کے پاس گیا اور پوچھا بابا جی آپ کس کا انتظار کر رہے ہیں؟ وہ بولے اپنے بیٹے کا، تین سال سے۔ اس نے کہا تھا وہ آئے گا۔ میں نے پوچھا اگر وہ نہ آیا تو؟ تو وہ میری طرف دیکھ کر بولے، وہ ضرور آئے گا، آخر وہ میرا بیٹا ہے۔ باپ اپنے بچوں کا انتظار کرنا نہیں چھوڑتا، چاہے بچے اسے یاد کرنا چھوڑ دیں۔

آخر میں میں نے سب بزرگوں کو اکٹھا کیا اور پوچھا کہ آپ نے اپنی اولاد کے لیے پوری زندگی لگا دی، آج آپ ان سے کیا چاہتے ہیں؟

تو ایک بزرگ بولے، زیادہ کچھ نہیں۔

ایک دادی بولی، بس تھوڑا سا وقت۔

ایک بزرگ بولے، تھوڑی سی عزت۔

ایک خاتون بولی، تھوڑی سی توجہ۔

اور وہ دروازے والے بابا جی بولے، اور کبھی کبھی صرف اتنا کہ وہ آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیں۔

وہ دن میرے لیے ایک سوال تھا۔ آج وہ بوڑھے ہیں، کل ہم بھی بوڑھے ہوں گے۔ اور شاید ہماری اولاد بھی ہمیں اسی نظر سے دیکھے گی جس نظر سے ہم اپنے بزرگوں کو دیکھتے ہیں۔

اللہ ہمارے والدین اور بزرگوں کو صحت، خوشی اور لمبی زندگی عطا فرمائے۔

پیغام:جن ہاتھوں نے ہمیں چلنا سکھایا، ان ہاتھوں کو بڑھاپے میں تنہامت چھوڑنا۔ کیونکہ خدمت کا وقت کل نہیں، آج ہے۔

تبصرے