وجودِ کائنات کا حسن: عورت
عورت کا وجود کائناتِ انسانی کا حسن اور اس کی تکمیل کی ضمانت ہے۔ تاریخِ عالم گواہ ہے کہ ہر تہذیب اور ہر معاشرے نے عورت کے بارے میں اپنا ایک نقطۂ نظر پیش کیا، لیکن بدقسمتی سے اسلام سے قبل
تقریباً تمام تہذیبوں میں عورت کو کم تر، حقیر اور محض مرد کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کے جاہلی معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا اور اسے زندہ درگور کر دیا جاتا، رومی اور یونانی تہذیب میں اسے شیطان کا آلہ کار قرار دیا جاتا، جبکہ ہندو معاشرے میں شوہر کی چتا کے ساتھ اسے بھی جلا دیا جاتا۔
ایسے تاریک دور میں اسلام طلوعِ آفتاب بن کر آیا اور اس نے عورت کو وہ مقام و مرتبہ عطا کیا جس کی نظیر دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ اسلام نے عورت کو محض حقوق ہی نہیں دیے بلکہ اسے عزت، وقار، شرف اور تقدس کی چادر عطا کی۔ اسی حقیقت کو ہمارے دور کے جید محقق اور عالمِ دین شیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ (١٤٤٧ھ) نے بڑے جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔
شیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اسلام نے عورت پر عائد فرائض و واجبات کے مقابلہ میں اسے کہیں زیادہ حقوق سے نوازا ہے، چنانچہ وہ مشقت طلب اور کٹھن ذمہ داریاں جو جان و مال کی قربانی کی متقاضی ہیں، اسلام نے ان کا بارِ گراں صرف مردوں کے کاندھوں پر ڈالا ہے، جبکہ عورت کو ان سے کلیتاً مستثنیٰ رکھا ہے، لہٰذا ماضی ہو یا حال، دنیا کا اور کون سا ایسا نظام ہے جس نے عورت کو اس قدر عظیم عنایات اور شرف و تکریم سے سرفراز کیا ہو؟"
اس قول میں کئی گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں، آئیے اس کی تفصیل سے وضاحت کرتے ہیں:
1. فرائض سے مکمل استثنیٰ اور مرد پر ذمہ داری کا بوجھ:
اسلام کا نظامِ حیات انتہائی متوازن اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جسمانی ساخت اور نفسیاتی اعتبار سے مرد کو مضبوط اور کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے والا بنایا ہے، اس لیے معاش، حفاظت اور کفالت کی تمام بھاری ذمہ داریاں اسی پر ڈالی ہیں۔
الف: نان و نفقہ کی ذمہ داری مرد پر ہے، عورت پر ایک روپیہ کمانا بھی فرض نہیں۔
ب: جہاد فی سبیل اللہ، جو جان و مال کی عظیم قربانی کا تقاضا کرتا ہے، عورت پر فرض نہیں۔
ج: خاندان کی سربراہی، حفاظت اور بیرونی معاملات کی ذمہ داری مرد کو سونپی گئی ہے۔
د: نمازِ جمعہ اور جماعت جیسی ذمہ داریوں میں بھی عورت کو رخصت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے گھر اور اولاد کی بہتر پرورش کر سکے۔
اس کے برعکس مغربی تہذیب نے نام نہاد آزادی کے نام پر عورت کو انہی مشقتوں میں دھکیل دیا ہے۔ آج وہ مرد کے شانہ بشانہ فیکٹریوں، کانوں اور سڑکوں پر سخت محنت کرنے پر مجبور ہے، جس سے اس کی نسوانیت، صحت اور خاندانی نظام تباہ ہو رہا ہے۔
2. حقوق کی فراوانی اور اعزازات کی بارش:
جہاں اسلام نے عورت سے بھاری بوجھ اٹھا لیا، وہیں اسے بے شمار حقوق سے نوازا:
الف: بطور بیٹی: اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ جاہلیت میں جس بیٹی کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، اسلام نے اسے وراثت کا حق دار بنایا۔
ب: بطور بیوی: نکاح کے وقت مہر اس کا ذاتی حق قرار دیا، جو شوہر پر واجب ہے۔ اس کے نان و نفقہ، لباس، رہائش اور تمام ضروریات شوہر پر فرض کیں۔ قرآن نے بیوی کے لیے "ھن لباس لکم و انتم لباس لھن" کا خوبصورت استعارہ استعمال کیا۔
ج: بطور ماں: ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ باپ کے مقابلے میں ماں کے حسنِ سلوک کا حق تین گنا زیادہ بتایا گیا۔
د: تعلیمی و سماجی حق: عورت کو تعلیم حاصل کرنے، جائیداد رکھنے، تجارت کرنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا مکمل حق دیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی جلیل القدر صحابیہ دین کا بہت بڑا ماخذ بنیں۔
3. دیگر نظاموں سے تقابل:
شیخ رحمہ اللہ کا سوال بڑا فکر انگیز ہے کہ دنیا کا کون سا نظام ہے جس نے عورت کو اتنی عزت دی ہو؟
آج لبرل ازم اور فیمنزم عورت کو یہ باور کراتا ہے کہ گھر میں رہنا قید ہے اور باہر نکل کر مردوں کی طرح کمائی کرنا ہی اصل آزادی ہے۔ حقیقت میں یہ آزادی نہیں بلکہ اس کے استحصال کی بدترین شکل ہے۔ اس نے عورت سے اس کا سکون، اس کا گھر اور اس کی نسوانیت چھین لی ہے۔ وہ دفتر میں بھی کام کرتی ہے اور گھر آ کر بھی اسی پر بوجھ ہے، جس سے وہ ذہنی و جسمانی دباؤ کا شکار ہے۔
جبکہ اسلام نے اسے "ربۃ البیت" یعنی گھر کی ملکہ قرار دیا ہے۔ اسے گھر کی سلطنت سونپی ہے جہاں وہ اپنے شوہر، بچوں اور خاندان کی تربیت کے ذریعے ایک مضبوط معاشرہ بناتی ہے، جو کسی بھی ملازمت سے کہیں زیادہ عظیم اور مقدس فریضہ ہے۔
اس ساری بحث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عورت کی اصل عزت اور ترقی مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید میں نہیں بلکہ اسلام کے بتائے ہوئے نظام میں پوشیدہ ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو یہ احساس دلائیں کہ اسلام نے انہیں بوجھ نہیں بلکہ قیمتی موتی بنایا ہے جسے حفاظت میں رکھا جاتا ہے۔ ایک عورت جب پردے، حیا اور پاکدامنی کی چادر اوڑھتی ہے تو وہ قید نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کی بری نظروں سے محفوظ ہو جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے کے مردوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ عورت پر نان و نفقہ اور حسنِ سلوک ان پر اللہ کی طرف سے فرض ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔"
لہٰذا، اگر ہم ایک پرامن، بااخلاق اور مضبوط خاندانی نظام چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کے عطا کردہ اسی نظامِ عفت و عصمت کی طرف لوٹنا ہوگا، جس میں مرد اپنی ذمہ داریوں کو قوام بن کر نبھائے اور عورت اپنے مقامِ عزت پر فائز رہ کر نسلوں کی بہترین تربیت کرے۔ اسی میں دنیا و آخرت کی فلاح ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں