عورت کبھی دو ٹکے کی نہیں ہوتی



انسانی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بڑی واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ جس معاشرے نے عورت کو عزت دی، اس معاشرے نے ترقی کی، اور جس معاشرے نے عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا، وہ معاشرہ زوال کا شکار ہو گیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کے بارے میں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید کر کے اسے صرف ایک نوکرانی سمجھتا ہے، اور دوسرا طبقہ ایسا ہے جو آزادی کے نام پر عورت کو اس کے اصل مقام سے گرا کر بازار کی زینت بنا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام نے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک معتدل اور خوبصورت راستہ دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا ہے جو نہ مشرق دے سکا نہ مغرب۔

آج سوشل میڈیا پر ایک جملہ بہت گردش کر رہا ہے کہ "عورت کبھی بھی دو ٹکے کی نہیں ہوتی"۔ بظاہر یہ ایک عام سا جملہ لگتا ہے لیکن اس جملے کی گہرائی میں اگر اترا جائے تو اس میں پورے معاشرے کی اصلاح کا راز پوشیدہ ہے۔ آئیے اسی جملے کی روشنی میں عورت کے اصل مقام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔


ماں جنت ہے:

ماں کے قدموں تلے جنت ہے، یہ صرف ایک کہاوت نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ایک صحابی حضور کے پاس آئے اور پوچھا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ انہوں نے پھر پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں۔ تیسری بار پھر پوچھا تو پھر فرمایا تمہاری ماں۔ چوتھی بار پوچھنے پر فرمایا تمہارا باپ۔

ماں وہ ہستی ہے جو اپنے بچے کے لیے اپنی نیند، اپنا آرام، اپنی خواہشات سب قربان کر دیتی ہے۔ نو مہینے اپنے پیٹ میں رکھتی ہے، پھر اس کی پیدائش کی تکلیف برداشت کرتی ہے، پھر راتوں کو جاگ جاگ کر اسے پالتی ہے۔ بچہ بیمار ہو تو ماں کی نیند اڑ جاتی ہے۔ بچہ بھوکا ہو تو ماں خود بھوکی رہ کر اسے کھلاتی ہے۔ اس عظیم ہستی کو دو ٹکے کا کہنا دراصل اپنی جنت کو ٹھکرانے کے مترادف ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اولاد جوان ہو کر ماں کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے، اولڈ ہوم میں چھوڑ آتی ہے۔ یاد رکھیں، جس نے ماں کو رلایا، وہ کبھی چین سے نہیں رہ سکا۔


بیوی ہمسفر ہے:

اسلام نے بیوی کو ہمسفر، لباس اور سکون کا نام دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو"۔ لباس کا کام عیب چھپانا اور زینت بننا ہوتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے عیب چھپاتے ہیں اور ایک دوسرے کی زینت بنتے ہیں۔

بیوی وہ ہستی ہے جو اپنا گھر، اپنے ماں باپ، اپنے بہن بھائی سب کو چھوڑ کر ایک اجنبی شخص کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کے لیے آ جاتی ہے۔ وہ آپ کے دکھ میں آپ کے ساتھ روتی ہے، آپ کی خوشی میں خوش ہوتی ہے۔ وہ آپ کے بچوں کی ماں بنتی ہے، آپ کے گھر کو سنبھالتی ہے۔ ایسی ہمسفر کو عزت نہ دینا، اس پر ہاتھ اٹھانا، اس کو گالی دینا، یہ مردانگی نہیں بلکہ کم ظرفی ہے۔ بہترین مرد وہی ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہترین ہے"۔


بہن دل کا سکون ہے:

بہن اللہ کی طرف سے ایک خوبصورت تحفہ ہے۔ وہ بھائیوں کے لیےدعا کرنے والی، ان کی خیر خواہی چاہنے والی ہوتی ہے۔ باپ کے گھر میں بیٹی اور بہن کی موجودگی سے گھر میں رونق رہتی ہے۔ بہن کی محبت میں کوئی لالچ نہیں ہوتا۔ وہ اپنے بھائی کی کامیابی پر سب سے زیادہ خوش ہوتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں جائیداد کے لالچ میں بہنوں کو ان کا حق نہیں دیا جاتا، ان سے ناراضگی مول لی جاتی ہے۔ یاد رکھیں، بہن کا حق کھا کر آپ کبھی امیر نہیں ہو سکتے۔ بہن کو اس کا حصہ دینا، اس سے محبت سے پیش آنا، اس کے دکھ سکھ میں شریک ہونا، یہی اصل مردانگی ہے۔ بہن اگر ناراض ہو جائے تو گھر کا سکون ختم ہو جاتا ہے۔


بیٹی رحمت ہوتی ہے:

زمانہ جاہلیت میں لوگ بیٹی کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ اسلام آیا تو اس نے بیٹی کو رحمت قرار دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی پرورش کرے، انہیں اچھی تعلیم دے، ان کی شادی کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی"۔

بیٹی گھر میں آتی ہے تو رحمتیں لے کر آتی ہے، رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔ بیٹی باپ کے لیے شفقت کا باعث، بھائیوں کے لیے غیرت کا باعث ہوتی ہے۔ آج بھی کچھ جاہل لوگ بیٹی کی پیدائش پر منہ بناتے ہیں، بیوی کو طعنے دیتے ہیں۔ یہ سوچ جاہلیت کی سوچ ہے۔ بیٹیاں تو اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔ جس گھر میں بیٹیاں ہنستی ہیں، اس گھر سے کبھی برکت ختم نہیں ہوتی۔

تو میرے بھائیو! عورت کا ہر روپ قابل احترام ہے۔ وہ اگر ماں ہے تو جنت ہے، بیوی ہے تو ہمسفر ہے، بہن ہے تو دل کا سکون ہے، اور بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ ہر ایک کا اپنا الگ مقام ہے۔

عورت کی عزت کرنا اس لیے ضروری نہیں کہ وہ آپ کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی ہے، بلکہ اس لیے ضروری ہے کہ وہ ایک انسان ہے، اللہ کی مخلوق ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ آپ کے گھر کی ہے یا کسی اور کے گھر کی۔ راہ چلتی کسی عورت کو بری نظر سے دیکھنا، اس پر آوازیں کسنا، اسے ہراساں کرنا، یہ سب اسی دو ٹکے کی سوچ کا نتیجہ ہے۔

ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت ایسی کرنی چاہیے کہ وہ عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ اسکولوں میں، مساجد میں، گھروں میں اس بات کی تعلیم دینی چاہیے۔ جب تک ہم عورت کو عزت نہیں دیں گے، ہمارا معاشرہ کبھی بھی مہذب معاشرہ نہیں بن سکتا۔

یہ حقیقت ہے کہ عورت کبھی دو ٹکے کی نہیں ہوتی یا پھر جو عورت   دو ٹکے کی ہو وہ عورت نہیں ہو تی، اکثر عورت کو دو ٹکے کی گرداننے والے خود کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ملے ہیں۔

میرے نزدیک ایک عورت کے بنا یہ کائنات ادھوری ہے، زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں ہے جس میں عورت کے بھرے رنگ نمایاں نہ ہوں ، کہیں عورت سکون ہے تو کہیں رونقِ گلستاں ہے، کہیں تسکین ہے تو کہیں اچھا دوست۔

لکھاری: یوسف ارحم 

تبصرے