صحرا کا معجزہ




کھجور - صحرا کا میٹھا معجزہ اور سنتِ نبوی ﷺ


اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس کائنات میں بے شمار نعمتیں بکھیر دی ہیں۔ ان نعمتوں میں پھل ایک ایسی نعمت ہیں جو آنکھوں کو بھی بھاتے ہیں اور جسم کو بھی توانائی دیتے ہیں۔ انہی پھلوں میں کھجور کو وہ مقام حاصل ہے جو کسی اور پھل کو نہیں ملا۔ یہ بیک وقت غذا بھی ہے، مٹھائی بھی ہے، دوا بھی ہے اور سراپا برکت بھی ہے۔

یہ وہ واحد پھل ہے جسے قدرت نے صحرا کی تپتی دھوپ میں پیدا کیا۔ جہاں پانی کا نام و نشان نہیں ہوتا، جہاں ہریالی کا تصور بھی مشکل ہے، وہاں کھجور کا درخت تن تنہا کھڑا، صدیوں تک انسانوں کو اپنی مٹھاس بانٹتا رہتا ہے۔

کھجور کی دنیا بہت وسیع ہے۔ اس کی کوئی ایک دو قسم نہیں بلکہ اللہ نے اس میں اتنا تنوع رکھا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ کوئی لمبی اور پتلی ہے، کوئی گول اور موٹی، کوئی سنہری ہے تو کوئی کالی۔ دنیا بھر میں اس کی چھ سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ مدینہ منورہ کی عجوہ، عنبر اور مبروم، سعودی عرب کی سکری اور صفاوی، اور ہمارے پاکستان کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور خیرپور کی ڈھکی، اصیل اور بیگم جنگی، ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے جدا اور ہر ایک اپنی مثال آپ ہے۔

اس پھل کا سب سے بڑا کمال اس کا ذائقہ ہے۔ یہ نہ کھٹی ہوتی ہے نہ پھیکی، یہ تو بس میٹھی میٹھی ہوتی ہے۔ اس کی مٹھاس مصنوعی نہیں، فطری ہے۔ بازار کی سفید چینی جہاں صحت کو نقصان پہنچاتی ہے وہاں کھجور کی مٹھاس گلوکوز اور فرکٹوز کی صورت میں جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ ایک تھکا ہوا شخص چند کھجوریں کھاتے ہی خود کو تازہ دم محسوس کرتا ہے۔ اس کا رنگ گہرا بھورا اور سیاہی مائل ہوتا ہے، بالکل چاکلیٹ جیسا دلکش، اور اس کا ذائقہ بازار کی ہر ٹافی اور چاکلیٹ سے زیادہ لذیذ اور خالص ہے۔ یہ قدرت کی بنی ہوئی ایسی مٹھائی ہے جو دانتوں کو خراب نہیں کرتی بلکہ انہیں مضبوط کرتی ہے۔

کھجور کا درخت بھی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ یہ بالکل سیدھا اور بہت لمبا ہوتا ہے، جیسے آسمان کو چھونے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کی عمر سو سال سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ اپنی پوری زندگی انسانوں کو پھل دیتا رہتا ہے۔ اس کی ایک حیرت انگیز خوبی یہ ہے کہ اس کا سایہ بہت کم ہوتا ہے کیونکہ اس کے پتے صرف اوپر چوٹی پر ہوتے ہیں۔ وہ خود تو دھوپ میں جلتا ہے مگر دوسروں کو اپنی چھاؤں میں نہیں بلکہ اپنے پھل کی مٹھاس میں سکون دیتا ہے۔

کھجور کا اصل وطن حجاز کے مقدس ریگستان ہیں اور آج ہمارے دلوں میں اس کی محبت کا ایک اور بڑا سبب یہ بھی ہے کہ یہ مقدس سرزمین کا تحفہ ہے۔ جب کوئی عزیز حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کر کے واپس آتا ہے تو سب سے قیمتی تحفہ جو وہ لاتا ہے وہ کھجور ہی ہوتی ہے۔ وہ صرف ایک پھل نہیں ہوتا بلکہ تبرک ہوتا ہے، جس میں مدینہ کی خوشبو بسی ہوتی ہے۔

اور اس پھل کی سب سے بڑی عزت اور فضیلت یہ ہے کہ یہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ ترین غذا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بلا ناغہ شوق سے تناول فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افطاری اکثر کھجور سے ہی ہوتی تھی۔ جس چیز کو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت ہو جائے وہ عام نہیں رہتی، وہ خاص ہو جاتی ہے۔ اسے کھانا صرف بھوک مٹانا نہیں بلکہ سنت پر عمل اور باعثِ ثواب بن جاتا ہے۔

اس چھوٹے سے دانے میں اللہ نے بے پناہ برکتیں رکھی ہیں۔ یہ انتہائی پاکیزہ پھل ہے، اس میں کیڑا نہیں لگتا اور یہ مہینوں تک خراب نہیں ہوتا۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جس گھر میں کھجور ہو وہ گھر بھوکا نہیں رہتا۔ تھوڑی سی کھجور سے پیٹ بھر جاتا ہے۔ یہ طاقت کا خزانہ ہے۔ جدید سائنس بھی اس کی افادیت کو تسلیم کرتی ہے۔ اس میں آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم اور فائبر وافر مقدار میں موجود ہے۔ یہ خون کی کمی کو دور کرتی ہے، ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے، دماغ کو طاقت دیتی ہے اور نظامِ ہاضمہ کو درست رکھتی ہے۔

اس کا ایک روحانی فائدہ بھی ہے جو اسے تمام پھلوں سے ممتاز کرتا ہے۔ صحیح بخاری کی مشہور حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے تو اس دن اسے زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یعنی یہ چھوٹی سی کھجور شیطان اور ہر بری چیز سے حفاظت کا ایک مضبوط حصار ہے۔

آج ہم اور ہمارے بچے بازاری چاکلیٹوں، ٹافیوں اور جنک فوڈ کے عادی ہو چکے ہیں جو ہماری صحت کو تباہ کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹیں۔ اپنی زندگی میں اس سنت اور صحت بخش نعمت کو شامل کریں۔ اپنے بچوں کے لنچ باکس میں ٹافی کی جگہ کھجور رکھیں۔ سحری اور افطاری میں اس کا استعمال لازمی بنائیں۔


یقین مانیں، قدرت کا یہ چھوٹا سا، میٹھا سا تحفہ حقیقت میں بہت بڑا ہے۔ اسے کھائیں، اس کے مزے اڑائیں اور اس پر اپنے رب کا شکر ادا کریں۔


لکھاری: یوسف ارحم 

تبصرے