ایمان کی جیت




 شیخ علی کریسا کی زندگی کا روشن باب


کچھ لوگ تاریخ میں نام سے نہیں، اپنے کام سے زندہ رہتے ہیں۔ ان کی زندگی شور نہیں کرتی، مگر خاموشی سے دلوں میں چراغ جلا دیتی ہے۔ کینیا کی سرزمین کے ایک گمنام سے داعی شیخ علی کریسا رحمہ اللہ بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔ ان کی کہانی صرف ایک شخص کے مسلمان ہونے کی کہانی نہیں، بلکہ صبر، استقامت اور اللہ پر توکل کی ایک زندہ تفسیر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی انتھک محنتوں سے افریقہ کے دور دراز جنگلوں اور بستیوں میں چالیس ہزار کے قریب لوگ کلمہ حق سے آشنا ہوئے۔


اندھیروں میں روشنی کی تلاش


شیخ علی جس خاندان میں آنکھیں کھولیں، وہاں اسلام کا چرچا نہ تھا۔ ماحول بالکل مختلف تھا۔ لیکن قدرت کا نظام عجیب ہے، ہدایت کے پھول کبھی کبھی بنجر زمینوں میں بھی کھل جاتے ہیں۔ بچپن ہی میں ان کے دل میں دین اسلام کی محبت کا ایک بیج پڑ گیا۔ نہ کسی نے انہیں باقاعدہ دعوت دی، نہ کسی مدرسے کا سنا ہوا سبق تھا، بس دل نے گواہی دی کہ سچا راستہ یہی ہے، اور انہوں نے لبیک کہہ دیا۔

یہ فیصلہ آسان نہ تھا۔ اس کی قیمت بہت بڑی تھی۔ جب ان کے والد کو معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا اپنے آبائی عقائد چھوڑ کر ایک نیا دین اختیار کر چکا ہے، تو گھر میں قیامت آ گئی۔ باپ کی محبت نفرت میں بدل گئی۔ شیخ علی خود بیان کرتے تھے کہ ان کے والد نے غصے میں انہیں لوہے کی زنجیر سے باندھ کر ایک درخت کے ساتھ جکڑ دیا۔ دن تک وہ اسی حالت میں بندھے رہے، بھوکے پیاسے، تشدد سہتے ہوئے۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ حرام چیزیں کھائیں تاکہ ان کا اسلام سے رشتہ ٹوٹ جائے۔ وہ منظر کسی بھی کمزور دل انسان کو توڑ دینے کے لیے کافی تھا، لیکن جس دل میں ایمان اتر چکا ہو، اسے زنجیریں نہیں روک سکتیں۔ ان کا جسم زخمی ہوا، مگر ایمان اور مضبوط ہو گیا۔

آخر کار گھر میں رہنا ناممکن ہو گیا۔ ایک کم عمر لڑکا، خالی جیب، مگر دل میں ایمان کا خزانہ لیے گھر سے نکل پڑا۔ در در کی ٹھوکریں کھائیں، فاقے برداشت کیے، لیکن علم دین حاصل کرنے کی پیاس بجھنے نہ دی۔ وہ ایک مدرسے سے دوسرے مدرسے جاتے رہے، یہاں تک کہ شریعت کا علم حاصل کر کے خود ایک عالم دین بن گئے۔


ایک ملاقات جس نے رخ بدل دیا


زندگی کا ایک اور موڑ اس وقت آیا جب انہیں خبر ملی کہ ان کے علاقے میں ایک عرب مہمان آئے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی عام مہمان نہیں تھے، یہ ڈاکٹر عبدالرحمن السمیط رحمہ اللہ تھے، وہ عظیم انسان جس نے اپنی ڈاکٹری اور اپنی دولت سب کچھ افریقہ کے محروم لوگوں کے لیے وقف کر دی تھی۔ شیخ علی ان سے ملنے گئے۔

ڈاکٹر صاحب نے ان سے ایک سوال کیا، ایک ایسا سوال جو سیدھا دل میں اتر گیا۔ انہوں نے کہا، علی، تم تو مسلمان ہو گئے، اللہ نے تمہیں ہدایت دے دی، لیکن ان لاکھوں لوگوں کا کیا بنے گا جو آج بھی جنگلوں میں خدا کو پہچانے بغیر زندگی گزار رہے ہیں؟ ان تک یہ پیغام کون پہنچائے گا؟

یہ سوال شیخ علی کے لیے ایک نئی زندگی کا پیغام بن گیا۔ اب تک وہ اپنے ایمان کو بچانے کی فکر میں تھے، اب انہوں نے دوسروں کے ایمان کی فکر کو اپنا مقصد بنا لیا۔ اسی دن سے انہوں نے خود کو دعوت کے لیے وقف کر دیا۔

وہ چند مخلص ساتھیوں کے ساتھ نکل پڑے۔ ان کا راستہ شہروں کا نہیں، جنگلوں کا تھا۔ وہ ایسی بستیوں میں جاتے جہاں تک پہنچنے کے لیے سڑکیں تک نہ تھیں۔ کبھی پیدل، کبھی ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں پر، کبھی جانوروں پر سفر کرتے۔ راستے میں جنگلی جانوروں کا خطرہ، موسم کی سختیاں، اور بنیادی سہولتوں کا فقدان، سب کچھ برداشت کیا۔ لیکن ان کے قدم نہیں رکے۔ جہاں جاتے، پیار سے، محبت سے لوگوں کو اللہ کا تعارف کراتے، انسانیت کا درس دیتے۔


مخالفت سے محبت تک کا سفر

یہ راستہ پھولوں کی سیج نہ تھا۔ کئی قبائل نے ان کی سخت مخالفت کی۔ ان کے بنائے ہوئے چھوٹے چھوٹے دعوتی مراکز پر حملے بھی ہوئے۔ لیکن شیخ علی نے کبھی جواب میں سختی نہیں کی۔ ان کا ہتھیار صرف اخلاق اور صبر تھا۔

وقت نے ثابت کیا کہ محبت مخالفت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ وہی لوگ جو کل تک ان کے مخالف تھے، آہستہ آہستہ ان کے قریب آنے لگے۔ جب انہوں نے اسلام کو قریب سے دیکھا، اس کی سچائی کو سمجھا، تو وہ جوق در جوق دین میں داخل ہونے لگے۔ اور پھر ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا کہ جو لوگ کبھی ان کے مراکز کو نقصان پہنچاتے تھے، اب وہی لوگ ان مراکز کی حفاظت پر مامور ہو گئے۔ وہی ہاتھ جو پتھر اٹھاتے تھے، اب دعا کے لیے اٹھنے لگے۔

شیخ علی صرف مبلغ نہیں تھے، ایک بہترین استاد بھی تھے۔ انہوں نے صرف لوگوں کو کلمہ نہیں پڑھایا، بلکہ ان میں سے کئی نوجوانوں کو تیار کیا، انہیں دین سکھایا، اور پھر انہیں ہی اپنے علاقوں میں داعی بنا کر بھیجا۔ اس طرح ان کی ایک چھوٹی سی کوشش ایک بڑی تحریک میں بدل گئی۔


باپ بیٹے کی آخری ملاقات


ان کی زندگی کا سب سے رقت آمیز لمحہ وہ تھا جس کا تعلق ان کے والد سے ہے۔ وہی والد جنہوں نے بچپن میں انہیں زنجیروں سے باندھا تھا۔ سالوں گزر گئے۔ شیخ علی اب ایک معروف داعی بن چکے تھے۔ ایک دن ان کا والد کسی کام سے ان کے زیر انتظام ایک اسلامی مرکز میں آیا۔

والد نے اپنے بیٹے کو بدلے ہوئے روپ میں دیکھا۔ شیخ علی نے اپنے والد کو پہچان لیا۔ وہ چاہتے تو شکوہ کرتے، ماضی کے زخم دکھاتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے انتہائی احترام اور محبت سے اپنے والد کا استقبال کیا، انہیں بٹھایا، ان کی خدمت کی۔ پھر نرمی سے کہا، ابا جان، کیا آپ کو یاد ہے، آپ نے ایک بار اپنے ہی بیٹے کو صرف اس لیے زنجیروں سے باندھا تھا کہ وہ لا الہ الا اللہ کہتا تھا؟ آپ اس دن اپنے بیٹے کو نہیں، اپنے عقیدے کو سزا دے رہے تھے۔

بیٹے کی یہ نرم بات، اس کا یہ حسن سلوک، والد کے دل پر بجلی بن کر گرا۔ وہ تڑپ اٹھے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ برسوں کی سختی ایک لمحے میں پگھل گئی۔ اسی مجلس میں اس بوڑھے باپ نے اپنے بیٹے کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ کچھ عرصے بعد ان کی والدہ نے بھی کلمہ پڑھ لیا، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کے قبیلے کے کئی افراد نور ہدایت سے منور ہو گئے۔ روایت ہے کہ والدین کے قبول اسلام کے تقریبا آٹھ ماہ بعد ہی دونوں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ گویا اللہ نے ان کے آخری وقت کو ایمان کی دولت سے سجا دیا۔


آخری پیغام

۲۶ جنوری، ۲۰۲۶ کو شیخ علی کریسا اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ اپنے پیچھے کوئی بڑا محل یا جائیداد نہیں چھوڑ گئے، مگر ہزاروں ایسے دل چھوڑ گئے جو ان کی وجہ سے اللہ کو پہچاننے لگے تھے۔

ان کی زندگی ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اگر ایمان سچا ہو تو زنجیریں بھی ریشم بن جاتی ہیں۔ اگر نیت خالص ہو تو جنگل بھی شہر بن جاتے ہیں، اور اگر اخلاق اچھا ہو تو دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں۔ وہ آج ہم میں نہیں، مگر ان کی لگائی ہوئی فصل آج بھی افریقہ کے میدانوں میں لہلہا رہی ہے۔

تبصرے