اخلاص کی طاقت، توکل اللّہ
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ پاک ہمارے چھوٹے بڑے تمام گناہوں نیکیوں اور تمام معاملات سے ہر پل واقف ہے مگر اللہ رب العزت کو اپنے گناہوں پر توبہ کرنے والا شخص اور تنہائی میں اللہ پاک سے باتیں کرنے والا شخص بہت زیادہ پسند ہے
یہ بنی اسرائیل کے ایک زمانے کا سچا واقعہ ہے، جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔
کہتے ہیں بنی اسرائیل میں تین آدمی سفر پر نکلے۔ راستہ لمبا تھا، صحرا گرم تھا، سورج سر پر تھا۔ چلتے چلتے شام ہو گئی اور آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔ بارش ہونے لگی تو تینوں نے سوچا کہیں پناہ لینی چاہیے۔
قریب ہی ایک پہاڑ تھا، اس پہاڑ میں ایک بڑی غار تھی۔ تینوں اس غار میں داخل ہو گئے تاکہ بارش ختم ہو تو آگے نکلیں۔
وہ ابھی غار میں بیٹھے ہی تھے کہ پہاڑ کے اوپر سے ایک بہت بڑا پتھر لڑھکا اور آ کر غار کے منہ پر گر گیا۔ غار کا منہ بالکل بند ہو گیا۔ اندر اندھیرا چھا گیا۔ تینوں نے مل کر پتھر کو ہٹانے کی بہت کوشش کی، زور لگایا، دھکے دیے، لیکن پتھر اتنا بڑا تھا کہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
اب تینوں کو یقین ہو گیا کہ یہی ہماری قبر ہے۔ یہاں کوئی ہمیں دیکھنے والا نہیں، کوئی ہماری آواز سننے والا نہیں۔ موت سامنے تھی۔
ایک نے کہا، دیکھو، اب ہمیں اس پتھر سے کوئی انسان نہیں نکال سکتا۔ اب صرف اللہ نکال سکتا ہے۔ ہم سب اپنی زندگی کا کوئی ایسا نیک عمل یاد کریں جو ہم نے صرف اللہ کے لیے کیا ہو، خالص اخلاص کے ساتھ، اور اس عمل کے وسیلے سے اللہ سے دعا کریں۔
سب کو یہ بات سمجھ میں آ گئی۔
پہلے شخص نے دعا شروع کی۔
اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے بوڑھے ماں باپ تھے۔ میں روزانہ بکریاں چراتا، شام کو دودھ نکالتا اور سب سے پہلے اپنے ماں باپ کو پلاتا، پھر اپنے بچوں کو پلاتا۔ ایک رات میں دیر سے آیا، ماں باپ سو چکے تھے۔ میں نے دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیا اور ساری رات ان کے سرہانے کھڑا رہا۔ میرے بچے بھوک سے میرے قدموں میں روتے رہے، لیکن میں نے انہیں نہیں پلایا جب تک میرے ماں باپ بیدار نہ ہوئے۔ جب وہ صبح بیدار ہوئے تو میں نے انہیں دودھ پلایا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس غار کے پتھر کو تھوڑا سا ہٹا دے۔
یہ سنتے ہی غار کا پتھر تھوڑا سا سرک گیا، روشنی اندر آئی، لیکن اتنی جگہ نہیں بنی کہ وہ نکل سکیں۔
اب دوسرے شخص کی باری تھی۔
اس نے کہا، اے اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی، جس سے میں بے حد محبت کرتا تھا، جیسی محبت مرد عورت سے کرتے ہیں۔ میں نے اسے کئی بار برائی کی دعوت دی، لیکن وہ نہ مانی۔ ایک سال قحط پڑا، وہ بہت محتاج ہو گئی اور میرے پاس آئی۔ میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ میرے ساتھ تنہائی میں ملے۔ وہ مجبوری میں راضی ہو گئی۔ جب میں اس کے قریب گیا اور برائی کے بالکل قریب تھا، تو وہ کانپتے ہوئے بولی، اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر، اس مہر کو ناجائز طریقے سے نہ توڑ۔
اے اللہ! میں اسی وقت تیرے خوف سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا، حالانکہ مجھے اس سے سب سے زیادہ محبت تھی، اور وہ دینار بھی میں نے اسے دے دیے۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیرے خوف سے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔
پتھر مزید تھوڑا سا سرک گیا، لیکن ابھی بھی نکلنے کی جگہ نہیں بنی تھی۔
اب تیسرے شخص کی باری تھی، جو ایک تاجر تھا۔
اس نے کہا، اے اللہ! میں نے ایک مزدور سے مزدوری کروائی، جب شام ہوئی تو سب کو مزدوری دی، لیکن ایک مزدور اپنا پیسہ چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کے پیسے سے کاروبار کیا، اس سے بکریاں خریدیں، وہ بڑھتی گئیں۔ کچھ عرصے بعد وہ مزدور آیا اور کہنے لگا، اے اللہ کے بندے! میری مزدوری دے دے۔ میں نے کہا، وہ دیکھو، یہ ساری بکریاں، گائیں، سب تمہاری مزدوری سے بنی ہیں، یہ سب لے جاؤ۔ وہ کہنے لگا میرا مذاق نہ اڑاؤ، میری تو تھوڑی سی مزدوری تھی۔ میں نے کہا مذاق نہیں کر رہا، یہ سب تمہارا ہی ہے۔ تو وہ سارا مال ہانک کر لے گیا، ایک بکری بھی میرے لیے نہ چھوڑی۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس غار کو کھول دے۔
جیسے ہی اس نے یہ دعا کی، پورا پتھر غار کے منہ سے ہٹ گیا اور تینوں ہنستے ہوئے باہر نکل آئے۔
اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا
جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ (سورہ طلاق: 2)
اخلاقی سبق:
اس کہانی سے ہمیں تین بڑے سبق ملتے ہیں۔
پہلا سبق، والدین کی خدمت۔ پہلے شخص نے ساری رات کھڑے ہو کر ماں باپ کا ادب کیا۔ آج ہم ماں باپ کو جواب دیتے ہیں۔ یاد رکھو جس نے ماں باپ کو راضی کیا، اللہ اسے غار جیسی مصیبت سے بھی نکال دیتا ہے۔
دوسرا سبق، گناہ سے بچنا۔ دوسرے شخص کے پاس موقع تھا، طاقت تھی، پیسہ تھا، تنہائی تھی، لیکن وہ صرف اللہ کے خوف سے رک گیا۔ آج ہمارے پاس موبائل پر ہر گناہ آسان ہے۔ اگر ہم بھی اللہ کے خوف سے رک جائیں تو اللہ ہمیں بھی ہر غم سے نجات دے دے گا۔
تیسرا سبق، امانت داری۔ تیسرے شخص نے مزدور کا پیسہ نہیں کھایا، بلکہ اسے بڑھا کر واپس کیا۔ آج ہم مزدور کا حق کھا جاتے ہیں۔ یاد رکھو، امانت داری ہی وہ عمل ہے جو پتھر جیسی مصیبت کو بھی ہٹا دیتا ہے۔
تو اگر زندگی کبھی کسی غار میں بند ہو جائے، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو، تو اپنے اخلاص والے نیک اعمال کو یاد کرو اور اللہ کو پکارو، اللہ ضرور سنے گا۔
اللہ پاک ہمیں ان سبق آموز حکایات پر من و عن عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پہ عمل کر کے اپنی آخرت کو بہتر بنانے کی توفیق دے۔کچھ نیا سیکھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ کو وزٹ کرتے رہا کریں اگر کوئی تحریر پسند آئے تو اسے دوست احباب میں سینڈ کر دیا کریں
لکھاری:یوسف ارحم

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں