خاموش قاتل، موبائل فون بچوں کی ذہانت کا قاتل

 


آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ موبائل ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے ہاتھ میں ایک ایسا زہر دے دیا ہے جو آہستہ آہستہ ان کا دماغ، آنکھیں، دین اور دنیا سب ختم کر رہا ہے۔ ماں خوش ہے، بچہ چپ ہے، لیکن حقیقت میں بچہ برباد ہو رہا ہے۔


اللہ فرماتا ہے: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرہ: 195) -

 اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ آج ہم اپنے ہاتھوں سے بچوں کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔


نبی ﷺ نے فرمایا: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ - 

تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری) 

باپ سے اس کے بچے کے موبائل کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔

موبائل بچے کی ذہانت کیسے ختم کرتا ہے؟


1. دماغ کا مر جانا

سائنس کہتی ہے، 0 سے 10 سال تک بچے کے دماغ کی نشوونما ہوتی ہے۔ موبائل کی تیز روشنی اور تیزی سے بدلتے کارٹون بچے کے دماغ کو سست کر دیتے ہیں۔ اس کی یادداشت کمزور ہو جاتی ہے، وہ کسی چیز پر توجہ نہیں دے پاتا۔ قرآن یاد کرنا تو دور، اسکول کا سبق بھی یاد نہیں رہتا۔

 اللہ نے فرمایا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا،

 لیکن موبائل نے اسے بدترین بنا دیا۔


2. آنکھیں اور صحت برباد

موبائل سے نکلنے والی نیلی روشنی بچے کی آنکھوں کو خشک کر دیتی ہے، نظر کمزور ہو جاتی ہے، نیند ختم ہو جاتی ہے۔ بچہ رات کو 2 بجے تک جاگتا ہے، صبح فجر کے لیے نہیں اٹھتا۔

 نبی ﷺ نے فرمایا: إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا - تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ 

ہم اپنے بچے کے جسم کا حق مار رہے ہیں۔


3. چڑچڑاپن اور بدتمیزی

موبائل والا بچہ بہت ضدی اور چڑچڑا ہو جاتا ہے۔ جب موبائل لو گے تو چیخے گا، روئے گا، ماں کو مارے گا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ اسکرین کا غلام بن چکا ہے۔

 اللہ نے فرمایا: أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ - کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا۔

 موبائل آج بچوں کا معبود بن گیا ہے۔


4. قرآن اور کتابوں سے دوری

تصویر میں دیکھیں، ایک طرف صحت مند بچہ قرآن اور کتابیں پڑھ رہا ہے، اس کا دماغ روشن ہے۔ دوسری طرف موبائل والا بچہ، اس کی کتابوں پر مکڑی کے جالے ہیں، قرآن پر مٹی ہے۔ یہی آج ہمارے گھروں کا حال ہے۔

 نبی ﷺ نے فرمایا: لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ - اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، یعنی وہاں قرآن پڑھو۔

 لیکن ہمارے گھروں میں قرآن نہیں، ٹک ٹاک چلتا ہے۔


حل کیا ہے؟


حل 1: وقت محدود کریں - بچے کو دن میں 30 منٹ سے زیادہ موبائل نہ دیں۔

حل 2: کتابوں کی عادت ڈالیں - اسے رنگ برنگی اسلامی کہانیوں کی کتابیں لے کر دیں۔

حل 3: قرآن کی تعلیم - اسے حفظ اور ناظرہ سے جوڑیں، حافظہ خود تیز ہو جائے گا۔

حل 4: والدین خود توجہ دیں - بچہ اس لیے موبائل مانگتا ہے کہ ماں باپ اسے وقت نہیں دیتے۔ اس کے ساتھ کھیلیں، اسے وقت دیں۔


اخلاقی سبق:


موبائل ضرورت ہے، لیکن بچے کے لیے زہر ہے۔ آپ اپنے بچے کو زہر تو نہیں دیں گے؟ تو پھر موبائل کیوں دے رہے ہیں؟ یاد رکھیں، جو بچہ آج موبائل کی وجہ سے قرآن نہیں پڑھ رہا، کل بڑا ہو کر وہ آپ کی خدمت بھی نہیں کرے گا۔ اپنے بچے کے دماغ کو بچائیں، اس کی آنکھوں کو بچائیں، اس کی آخرت کو بچائیں۔ موبائل چھین کر اسے کتاب دیں، اللہ اور اس کا رسول ﷺ آپ سے راضی ہو جائیں گے۔

تبصرے