قرآن میں مذکور قومیں اور ان کا ناجام



قرآن میں مذکور 25 قومیں - عبرت کا آئینہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم


قرآن مجید محض قصوں اور کہانیوں کی کتاب نہیں، یہ عبرت اور بصیرت کا صحیفہ ہے۔ اللہ رب العزت نے جب بھی کسی قوم کا تذکرہ کیا ہے تو اس کا مقصد محض تاریخ بیان کرنا نہیں تھا، بلکہ آنے والے انسانوں کے لیے ایک زندہ آئینہ رکھ دینا تھا کہ دیکھو، جن راستوں پر وہ چلے، اگر تم بھی چلو گے تو انجام وہی ہوگا۔

قرآن کی ورق گردانی کی جائے تو تقریباً پچیس ایسی قوموں اور بستیوں کا ذکر ملتا ہے جنہیں اللہ نے اپنی نافرمانی، تکبر اور سرکشی کی پاداش میں یا تو ہلاک کر دیا، یا ایسی عبرت بنا دیا کہ رہتی دنیا تک ان کا نام باقی رہے۔ آئیے ان قوموں پر ایک سرسری مگر ایمان افروز نظر ڈالتے ہیں۔


1۔ قومِ نوح

انسانی تاریخ کی پہلی بڑی نافرمان قوم۔ ساڑھے نو سو سال تک حضرت نوحؑ انہیں سمجھاتے رہے، مگر وہ بت پرستی پر اڑے رہے۔ بالآخر عظیم طوفان آیا جس نے روئے زمین سے ان کے وجود کو مٹا دیا۔


2۔ قومِ عاد

حضرت ہودؑ کی قوم۔ اپنے لمبے قد، طاقت اور بڑے بڑے محلات پر ان کو ناز تھا۔ کہتے تھے ہمیں کون ہرا سکتا ہے؟ اللہ نے سات رات اور آٹھ دن کی خوفناک آندھی سے انہیں خس و خاشاک کی طرح بکھیر دیا۔


3۔ قومِ ثمود

حضرت صالحؑ کی قوم۔ انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر محل بنائے۔ اللہ نے نشانی کے طور پر اونٹنی بھیجی تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ ایک دل دہلا دینے والی چیخ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیے۔


4۔ قومِ لوط

فحاشی اور بے حیائی میں اس حد تک بڑھ گئی کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ حضرت لوطؑ کی تمام تر کوششیں ناکام ہوئیں تو اللہ نے ان کی بستیاں الٹ دیں اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔


5۔ قومِ فرعون

اقتدار، دولت اور خدائی کے دعوے کا استعارہ۔ حضرت موسیٰؑ کو جھٹلایا، بنی اسرائیل پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ بالآخر بحیرہ قلزم میں اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا اور اس کی لاش کو قیامت تک کے لیے عبرت بنا دیا گیا۔


6۔ قومِ مدین

حضرت شعیبؑ کی قوم۔ ناپ تول میں کمی اور لوٹ مار ان کا وطیرہ تھا۔ زلزلے اور آگ کے عذاب نے انہیں اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرا دیا۔


7۔ اصحابِ الرس

کنویں والے۔ یہ ایک عظیم کنویں کے مالک تھے اور ایک صنوبر کے درخت کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے حضرت حنظلہ بن صفوانؑ کو بھیجا، مگر انہوں نے اپنے نبی کو زندہ کنویں میں قید کر کے شہید کر دیا۔ اللہ نے ان کا کنواں خشک کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔


8۔ اصحابِ کہف

یمن کے چند نوجوان جو دقیانوس جیسے ظالم بادشاہ کے دور میں ایمان لائے۔ ایمان بچانے کے لیے غار میں پناہ لی تو اللہ نے انہیں تین سو نو سال تک سلائے رکھا۔ یہ اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔


9۔ اصحابِ الایکہ

گھنے باغات اور درختوں والے۔ یہ بھی حضرت شعیبؑ کی ہی ایک شاخ تھی جو درختوں کی پوجا کرتی تھی۔ شدید گرمی اور آگ برسنے والے بادل کے عذاب سے یہ تباہ ہوئے۔


10۔ اصحابِ الاخدود

سورۃ البروج میں ذکر ہے۔ ایک ظالم بادشاہ نے ایمان لانے والوں کے لیے آگ کی خندقیں کھودیں اور ہزاروں اہلِ ایمان کو زندہ جلا دیا۔ جلنے والوں نے جان دی مگر ایمان نہ چھوڑا۔


11۔ اصحابِ الفیل

یمن کا بادشاہ ابرہہ ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبہ ڈھانے آیا۔ اللہ نے ابابیل پرندوں کے ذریعے کنکریوں سے اس پورے لشکر کو کھائے ہوئے بھس کی طرح بنا دیا۔


12۔ اصحابِ السبت

بنی اسرائیل کی ایک بستی۔ انہیں ہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے سے منع کیا گیا تو انہوں نے حیلہ سازی کی۔ اللہ نے ان کی نافرمانی پر انہیں ذلیل بندر بنا دیا۔


13۔ اصحابِ الجنتہ

سورۃ القلم میں ذکر ہے۔ یمن کے تین بھائیوں کا باغ۔ انہوں نے طے کیا کہ صبح سویرے پھل توڑ لیں گے تاکہ کوئی غریب نہ آ سکے۔ اللہ نے راتوں رات ان کے باغ کو جلا کر راکھ کر دیا۔


14۔ اصحابِ الحجر

قومِ ثمود کا ہی دوسرا نام ہے۔ سورۃ الحجر میں ان کا ذکر ہے کہ وہ پتھروں کو تراش کر پرامن گھر سمجھے بیٹھے تھے کہ اچانک عذاب نے انہیں آ لیا۔


15۔ اصحابِ القریہ

سورۃ یٰسین میں انطاکیہ کی اس بستی کا ذکر ہے جس میں اللہ نے یکے بعد دیگرے تین رسول بھیجے۔ بستی والوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔


16۔ قومِ تبع

یمن کے عظیم بادشاہ تبع کی قوم۔ طاقت اور سلطنت میں بے مثال تھی، مگر حق کو جھٹلانے پر ایسی مٹی میں ملی کہ صرف نام باقی رہ گیا۔


17۔ قومِ سبا

اپنی عظیم نہر اور باغات پر نازاں تھی۔ اللہ نے شکر گزاری کا حکم دیا مگر انہوں نے غرور کیا۔ اللہ نے بند توڑ دیا اور ان کے شاداب باغات کو بے ثمر جھاڑیوں میں بدل دیا۔


18۔ قومِ یونس

نینوا کی قوم۔ یہ وہ واحد قوم ہے جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر سچے دل سے توبہ کر لی۔ حضرت یونسؑ کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔


19۔ قومِ ابراہیم

حضرت ابراہیمؑ کی اپنی قوم جس نے بت پرستی کو اپنا دین بنا رکھا تھا۔ جب ابراہیمؑ نے بتوں کو توڑا تو انہوں نے انہیں آگ میں ڈال دیا، مگر اللہ نے آگ کو گلزار بنا دیا۔


20۔ قومِ الیاس

حضرت الیاسؑ کی قوم جو بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا تو قحط اور رسوائی ان کا مقدر بنی۔


21۔ قومِ یاجوج و ماجوج

ذوالقرنین کے زمانے کی دو فسادی قومیں۔ انہیں ایک عظیم دیوار کے پیچھے بند کر دیا گیا۔ قربِ قیامت میں ان کا خروج قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔


22۔ قومِ جالوت

ایک جابر اور طاقتور بادشاہ کی قوم۔ طالوت اور حضرت داؤدؑ نے اللہ کے حکم سے اس کا مقابلہ کیا اور جالوت اپنے تکبر سمیت قتل ہوا۔


23۔ قومِ عزیر

بنی اسرائیل کی وہ قوم جس نے حضرت عزیرؑ کو اللہ کا بیٹا کہہ دیا۔ اللہ نے ان پر ذلت مسلط کر دی۔


24۔ بنی اسرائیل

وہ قوم جس پر سب سے زیادہ انعامات ہوئے، مگر سب سے زیادہ نافرمانیاں بھی اسی قوم نے کیں۔ ان کی تاریخ عہد شکنی اور نبیوں کی تکذیب سے بھری پڑی ہے۔


25۔ قومِ لقمان اور قومِ ذوالقرنین

ایسی قومیں جن میں اللہ نے اپنے نیک اور دانا بندے پیدا کیے، جنہوں نے اپنی قوموں کو حکمت کی دعوت دی۔


یہ پچیس قومیں محض تاریخ نہیں، ہمارے لیے آئینہ ہیں۔ کسی کو طاقت پر غرور لے ڈوبا، کسی کو دولت پر، کسی کو عیش پرستی پر اور کسی کو اپنے علم پر۔

اللہ نے ان قصوں کو اس لیے دہرایا ہے تاکہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں کہ کہیں ہم میں بھی تو انہی قوموں کی کوئی خصلت موجود نہیں؟

اسی لیے ہم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ہم اپنے اس پلیٹ فارم سے ایک خصوصی اصلاحی سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم روزانہ ایک قوم کی مکمل کہانی، اس کے گناہ، اس پر آنے والا عذاب اور اس سے حاصل ہونے والا سبق تفصیل سے بیان کریں گے۔


یوسف ارحم 

تبصرے