آج جب ہم اپنے اسلاف اور اپنے ماضی کی تاریخ کو پڑھتے ہیں تو تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ ایسے ایسے قابلیت اور تقویٰ والے لوگوں سے بھری ہوئی ہےکہ ان کی زندگی کے متعلق پڑھ کر یقین نہیں ہوتا کہ اتنے قیمتی جلیل القدر، متقی، ذہین و فطین، عادل، بہادر اور ملک و قوم کے وفادار اور اسلام کے علمبردار آباؤ و اجداد ہونے کے باوجود مسلمانوں پر ہر سو ظلم اور بربریت کے پہاڑی توڑے جا رہے ہیں۔۔۔
57 اسلامی ممالک ہونے کے باوجود کوئی ملک ایسا نہیں ملتا جس میں یہود و نصارٰی کی اجارہ داری نہ ہو۔۔
تمام اسلامی ملک سازشوں کی نظر ہو چکے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والے ان کے اپنے ہی مسلمان بھائی ہیں جو یہود و نصارٰی کے آلہ کار بن کر ملک و اسلام کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔۔۔
ملک میں ہر عہدہ دار اپنے کام کو چھوڑ کر دوسرے کے کام میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتا ہے۔۔
سرحدوں کے محافظ اور بیرون دشمنوں کے خلاف لڑنے والے اپنے ہی عوام پر گولیاں برسا رہے ہیں اور سیاست کے میدان میں کسی کو اپنا ثانی نہیں سمجھتے۔۔۔
منصف اپنا ضمیر بیچ رہا ہے۔۔۔
دیندار اپنا ایمان بیچ رہا ہے۔۔۔
اور ملکی حکمران کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔۔۔
ملک و قوم میں بگاڑ کی وجہ خوف خدا کا نہ ہونا اور آخرت کے لیے تگ و دو کرنے کے بجائے دنیا کے لیے مال و دولت اکٹھا کرنا ہے
ایک وقت ایسا بھی تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سادگی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صداقت، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا عدل و انصاف، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے سخاوت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شجاعت اور دوسرے امیر المومنین کی زندگی سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جو ہماری آخرت کو سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
ان نیک اور عظیم ہستیوں کو ہر وقت اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر لاحق رہتی تھی اور خود کو اللہ اور عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔
اسلامی تاریخ میں بڑی بڑی عظیم ہستیوں کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں تھا مگر آج کے فرعون و نمرود خود کو ملک و اسلام کے قوانین سے افضل سمجھتے ہیں اور خود کو تمام جرائم سے استثنیٰ لینے کی بھاگ دوڑ میں شامل ہے جو سراسر شیطان کی پیروی کر رہے ہیں کیونکہ سب سے پہلے استثنیٰ ابلیس نے لیا تھا اور قیامت تک لعنتی اور مردود ٹھہرا۔۔۔
آئیے آپ کو اپنے اسلاف اور سنہری تاریخ کا ایک واقعہ سناتے ہیں
ایک دفعہ امیر المومنین ہارون الرشید نے اپنے خانساماں سے پوچھا کہ آج کے کھانے میں اونٹ کے گوشت کا سالن ہے؟ اس نے کہا:
ہاں موجود ہے، شوربے والا بھی اور روسٹ کیا ہوا بھی۔آپ نے فرمایا‘ کھانے کے ساتھ وہ بھی پیش کیجیے۔ جب اس نے آپ کے سامنے کھانا رکھا تو آپ نے اپنے منہ میں ڈالنے کے لیے گوشت کا لقمہ اٹھایا تو جعفر برمکی مسکرایا۔ ہارون نے لقمہ رکھ دیا اور جعفر سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: امیر المومنین! مجھے کوئی بات یاد آ گئی جو میرے اور میری باندی کے درمیان ہوئی تھی
آپ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں، آپ نے فرمایا: تجھے قسم ہے اس حق کی جو میرا تیرے اوپر ہے، مجھے بتایے وہ کیا بات تھی؟ جعفر برمکی نے کہا: امیر المومنین پہلے یہ لقمہ تناول فرما لیجیے، پھر آپ کو بتاوں گا۔ آپ نے گوشت کا لقمہ پلیٹ میں رکھ دیا اور کہا مجھے ابھی بتایے؟ جعفر نے کہا: اے امیر المومنین! آپ اندازہ لگا سکتے ہیں جس اونٹ کا گوشت آپ کے مطبخ میں پکا ہے، وہ کتنے کا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: یہی کوئی چار ہزار درہم کا۔ اس نے کہا: نہیں اےامیر المومنین وہ چار لاکھ درہم کا سمجھ لیجیے۔ آپ نے پوچھا: وہ کیسے؟اس نے کہا کہ آپ نے طویل عرصہ قبل مطبخ میں پکے ہوئے اونٹ کے گوشت کی فرمائش کی تھی جو اس دن اونٹ ذبح نہ ہونے کی وجہ سے پوری نہ ہوسکی تھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ آج کے بعد مطبخ میں اونٹ کا گوشت ضرور پکنا چاہیے تو اس دن سے ہم آپ کے لیے بازار سے گوشت نہیں خرید تے تھے، بلکہ اونٹ خرید کر خود ذبح کرواتے اور اپنی نگرانی میں پکواتے تھے اور اس دن سے لے کر آج کے دن تک چار لاکھ درہم کے اونٹ ذبح ہو چکے ہیں، لیکن آپ نے اس دن کے بعد آج ہی اونٹ کا گوشت طلب کیا ہے جو آپ کے سامنے پڑا ہے۔ میں اس لیے مسکرا پڑا کہ یہ لقمہ جو امیر المومنین نے کھانے کے لیے منہ میں ڈالا تھا وہ امیر المومنین کو چار لاکھ درہم میں ملا ہے۔یہ سن کر ہارون الرشید روئے اور دستر خوان اٹھانے کا حکم دیا اور اپنے آپ کو کوسنے لگے اور اذانِ ظہر تک روتے رہے ،پھر باہر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پھر واپس آ کر رونے لگے حتیٰ کہ عصر کی اذان ہو گئی اور اس دوران آپ نے حرمین شریفین کے فقرا میں دو لاکھ درہم اور بغداد کے مشرقی حصے اور مغربی حصے کے فقرا میں دو لاکھ درہم اور کوفہ اور بصرہ کے فقرا میں دو لاکھ درہم صدقہ کرنے کا حکم دیا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھائی اور واپس آ کر نمازِ مغرب تک بارگاہِ الٰہی میں اپنی کوتاہی پر آہ وزاری کرتے رہے۔ جب آپ نماز مغرب پڑھا کر فارغ ہوئے تو قاضی ابو یوسف بھی آ گئے اور سارا دن بھوکا پیاسا اور رو دھو کر گزارنے کی وجہ پوچھی ، آپ نے سارا قصہ سنا کر کہا کہ بیت المال کا اتنا پیسہ محض میری خواہش کی تکمیل میں بے جا صرف ہوا جس سے میرے حصہ میں صرف ایک لقمہ آیا۔ قاضی ابو یوسف نے جعفر برمکی سے پوچھا کہ جو اونٹ آپ ذبح کر کے پکاتے رہے وہ خراب ہو جاتا تھا یا اسے لوگ کھا لیتے تھے ؟
اس نے بتایا کہ لوگ کھا لیا کرتے تھے۔ ابو یوسف نے کہا: امیر المومنین! اللہ سے ثواب کی بشارت حاصل کیجیے کہ آپ کی وجہ سے اتنا عرصہ مخلوقِ خدا شاہی کھانا کھاتی رہی اور اللّٰہ نے آپ کو صدقہ کی توفیق عطا فرمائی جو آپ کی بھول کا کفارہ بن گئی اور پھر اللّٰہ تعالیٰ نے اس نادانستہ کوتاہی پر آپ کو اپنا خوف عطا فرمایا اور آپ سارا دن روتے رہے۔کاش ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں بھی اصراف کرتے وقت اتنا خوف نہ صحیح مگر تھوڑا سا ہی خوف آ جائے‘ آج کروڑوں بلکہ اربوں روپے کا بجٹ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاﺅس کےلئے رکھا جاتاہے‘ کاش! یہ بجٹ خرچ کرنے سے پہلے ہمارے حکمران ایک لمحے کےلئے ہی سوچ لیں کہ کتنے غریبوں کے مسائل اس بجٹ سے حل ہو سکتے ہیں۔کاش اے کاش۔
اے اللہ ہمارے اندرونی اور بیرونی ملک دشمن عناصر کو تباہ و برباد کر آمین
والسلام

1 تبصرے
یہی خلیفہ پھر جعفر برمکی اور ابو یوسف کا قاتل بنا حتی ان دونوں کی مائیں گلی گلی بھیک مانگتے مر گئ۔ بیت المال سے مال اونٹ ہو یا بعد کا صدقہ وہ تو عوامی مال تھا نا کہ خلیفہ کی ذاتی ملکیت۔
جواب دیںحذف کریں