اپنے جسم پہ اسلامی ریاست قائم کریں

 


اس بات میں کوئی دوراہے نہیں کہ اس پرفتن دور میں جہاں ظلم و بربریت، ایمان فروشی، غداری، عسکری قوتوں اور غاصب ریاستوں کا دور دورہ ہے دنیا کو چھوڑیں اپنے ملک پاکستان میں اسلامی قوانین نافذ کرنا آسمان کے ہاتھ لگانے کے مترادف ہے۔

مگر اپنے وجود پر اسلام و شریعت نافذ کرنا ہر شخص کے 
بس میں ہے۔ ہاں یہ کام مشکل ہو سکتا ہے مگر نہ ممکن نہیں ہے اور راہ حق پر آنے والی تمام مشکلات کا صلہ ایک روز ضرور با ضرور ملے گا۔ آئیں مل کر اپنے وجود پر اسلامی حکومت قائم کریں

امام غزالی رح نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "احیاء العلوم" میں ایک انتہائی اہم اور دلچسپ استعارے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

انسانی جسم بطور سلطنت - امام غزالی رح کے تصور کے مطابق

امام غزالی رح "احیاء العلوم" میں انسانی جسم کو ایک سلطنت سے تشبیہ دیتے ہیں جس کے مختلف حصے اور قوتیں اس سلطنت کے مختلف اداروں اور عہدیداروں کی مانند ہیں۔

اس استعارے کی تفصیل:

👑 بادشاہ/حاکم: ❤️ دل

· دل کو سلطنت کا بادشاہ قرار دیا گیا ہے
· تمام قوتیں اور اعضاء دل کے تابع ہیں
· دل کی اصلاح پوری سلطنت کی اصلاح ہے

🏛 وزارتیں اور عہدیدار:

👁 حواس خمسہ: 🛡 محافظ اور جاسوس

· آنکھیں، کان، ناک، زبان، جلد
· یہ بیرونی دنیا سے معلومات جمع کرتے ہیں
· بادشاہ (دل) تک معلومات پہنچاتے ہیں

💪 اعضاء و جوارح: 👥 فوج اور عملہ

· ہاتھ، پاؤں، زبان وغیرہ
· دل کے احکامات پر عمل کرتے ہیں
· سلطنت کے کام انجام دیتے ہیں

🧠 قوائے باطنیہ: 💼 وزراء اور مشیر

· عقل، حافظہ، تصور، وہم
· یہ دل کے مشیر ہیں
· فیصلوں میں مدد کرتے ہیں

🍽 نفسانی خواہشات: 🐺 باغی اور دشمن

· شہوت، غصہ، حرص
· یہ سلطنت کے اندرونی دشمن ہیں
· ان پر کنٹرول ضروری ہے

اس تصور کے مطابق اصلاح کا طریقہ:

1. بادشاہ (دل) کی اصلاح:

· تزکیہ نفس
· اللہ کی محبت
· اخلاص پیدا کرنا

2. محافظوں (حواس) پر کنٹرول:

· نگاہ کی حفاظت
· زبان کی حفاظت
· سننے میں احتیاط

3. فوج (اعضاء) کی تربیت:

· نیک اعمال کی عادت ڈالنا
· گناہوں سے باز رکھنا

4. مشیروں (قوائے باطنیہ) کی رہنمائی:

· عقل کو شریعت کے تابع کرنا
· غلط خیالات سے بچانا

5. باغیوں (نفسانی خواہشات) کو قابو میں رکھنا:

· جھوٹی خواہشات کو دبانا
· اعتدال پیدا کرنا

اخلاقی پیغام:

امام غزالی رح فرماتے ہیں کہ جس طرح کسی سلطنت کا بادشاہ اگر نیک اور عادل ہو تو پوری سلطنت درست رہتی ہے، اسی طرح اگر دل کی اصلاح ہو جائے تو پورا انسان درست ہو جاتا ہے۔

یہ استعارہ درحقیقت انسان کی مکمل نفسیاتی اور روحانی ساخت کو سمجھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے جو احیاء العلوم کا مرکزی موضوع ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...