استثنیٰ




سند دستیاب نہیں، لیکن یہ بات سوانح میں لکھی ملتی ہے کہ قحط کے دنوں میں سیدنا عمر نے چور کیلئے سزا ساقط کر دی، کہ جب عوام کو جان کے لالے پڑے ہیں، تو ایسے میں حکمران اگر نوالہ مہیا نہیں کر سکتا تو اسے ہاتھ کاٹنے سے بھی ہاتھ روک لینا چاہیے، یہ اسی مرد تاریخ کے عہد زریں کی بات ہے، ایک دن ایک عیسائی کو دیکھا ، کسی چوک چوراہے میں کھڑا مانگتا تھا، عمر کے دل فاروق پر ضرب سی پڑی، ایک بزرگ اس کی فلاحی ریاست میں مانگنے پر مجبور ہوا؟ تو آخر کیوں؟ پوچھنے پر پتہ چلا، ہڈیوں میں ضعف اتر آیا ،خراج اب کما کے دیا نہیں جاتا تو ناچار ہاتھ پھیلانے پڑے، محسوس کیا جا سکتا ہے کہ خلیفہ کے دل و دماغ پر کیا قیامتیں بیت گئی ہوں گی، کہا، یہ تو ہم سے ٹھیک نہیں ہوا ، کیسی ریاست جو ان کی جوانیاں کھا گئی اور بڑھاپے میں انھیں چوراہے پر ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا ، حکم دیا ایسے سب مجبوروں کی لسٹ بنائی جائے اور انھیں اس قانون سے استثنیٰ دیا جائے۔
اسلامی ریاست اور عوامی سلطنت میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ بڑوں کو استثنا دیا جائے،ہاں مجبوروں کو اور بے بسوں کو ضرور استثنا دیا گیا۔ عمر نے عوام کی عدالت کا سامنا کیا،برسرمنبر بھی اور چوک چوراہے میں بھی، بات مشہور ہے کہ کسی روز یہ کہا ، ٹھیک کہوں تو مانو، نہ کہوں تو نہ مانو! ایک بدو نے اٹھ کے کہا،عمر ٹھیک نہ کہو گے تو تلوار سے ہم تمھیں سیدھا کر دیں گے۔ ادھر ابھی کل ہی ہم نے دیکھا کہ ہر طرح کی جائز و ناجائز آزادی جینے والی قوم نے کلنٹن کو اس لیے دھو ڈالا کہ مونیکا سے راہ و رسم بڑھانے کی اسے جرات کیسے ہوئی؟ انھوں نے اپنے عمل سے کہا، ہمارے جیسی عام زندگی جینی ہے تو ہماری قیادت سے نزول کرو اور اپنی مرضی سے جی لو، ہم مگر کیسے لوگ، اس ملک میں کسی مسجد کو ٹی وی کے بل سے استثنا نہیں، کسی بیوہ اور یتیم کو بجلی کے بل میں تو چھوڑئیے ،دکان سے ماچس تک خریدنے میں ٹیکس سے استثنیٰ نہیں۔لیکن اب ہم ان کے لیے استثنی تخلیق کرنے لگ گئے ہیں، جنھیں عوام کے لیے سادگی اور قانون پسندی کی مثال ہونا چاہیے، کس اہتمام سے وہ قانون سے فرار کی مثال بنائے جا رہے ہیں، اس راہ اور روش پر میں کیا کہوں، جب کہ میرے اور آپ کے ہادی فرما گئے۔
تباہ ہوئیں وہ قومیں،جن میں اشرافیہ کو قانون سے استثنا ہو اور عوام پر قانون کا نفاذ ہو۔
 کیسی حیرت کی بات! میرے نبی کے حکم کے خلاف آج جو مغرب میں بھی نہیں ہورہا، کلمے کے نام پر بنے ملک میں وہ کس انتظام و اہتمام سے ہورہا ہے۔ اچھا بھائی کرتے رہو، جو کرنا ہے، مگر نبی کا فرمان ضرور یاد رہے کہ یہ ملک و قوم کی فلاح کی نہیں، تباہی کی راہ ہے، بلکہ شاہراہ ہے۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...