بچوں کو ناکارہ مت کریں

 



💥*’’ہم نے اپنی نسل کو ناکارہ خود بنایا*💥 ‘‘


یہ کہنا شاید تلخ ہو، مگر سچ یہی ہے کہ ہم پاکستانی اپنی آئندہ نسلوں کو خود ہی ناکارہ اور مفلوج بنا رہے ہیں۔ 

گھروں میں بچوں کی تربیت کا جو ماڈل رائج ہے، اس میں ماں ہر کام کا مرکز ہے۔  

 *اور بچے صرف "حکم دینے والے" بن کر پروان چڑھتے ہیں* ۔ 

 *ماں بچے کے جوتے پالش کرے، لنچ باکس تیار کرے، کتابیں کور کرے، بستر لگائے، اور یہاں تک کہ پانی کا گلاس بھی لا کر دے۔* 

تو پھر اس بچے سے خود مختاری اور ذمہ داری کی توقع کرنا سراسر ناعاقبت اندیشی ہے۔

 *بچوں کو ہر چیز حاضر ملنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ وہ کسی چیز کی قدر کرنا نہیں سیکھتے،* 

نہ ہی ان میں خود کچھ کرنے کی خواہش یا تربیت پیدا ہو پاتی ہے۔

 ماں اگر ہر لمحہ بچوں کی خدمت میں مصروف رہے گی 

 *تو وہ بچے کبھی خود کفیل، باہمت اور باعمل شہری نہیں بن سکتے۔* 

پھر جب یہی بچے بڑے ہو کر شوہر بنتے ہیں، تو بیوی سے بھی وہی توقع رکھتے ہیں جو بچپن میں ماں سے رکھی گئی۔ 

 *بیوی کو "خدمت گزار" کا درجہ دیا جاتا ہے، نہ کہ ایک شریکِ زندگی کا۔* 

بیوی کے جذبات، احساسات اور تھکن کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، کیونکہ انہیں زندگی بھر یہی سکھایا گیا کہ عورت کا کام صرف مرد کی خدمت ہے۔ 

یوں ایک نسلی روایتی غلامی پروان چڑھتی ہے، جس میں عورت بس دیتی ہے اور مرد صرف لیتا ہے۔

یہ نظام نہ صرف خاندان بلکہ معاشرے کو بھی برباد کر رہا ہے۔ 

 *ہم نئی نسل کو ذمہ داری، خود اعتمادی اور خود انحصاری کی تربیت دینے کے بجائے سہل پسندی، نرگسیت اور بے عملی* *سکھا رہے ہیں۔* 

 *اصلاح کیسے ممکن ہے؟* 

ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی خود کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ 

 *بچے خود اپنے کپڑے رکھیں، لنچ باکس تیار کریں، اپنے بستر لگائیں، اور اپنی چیزوں کی حفاظت کرنا سیکھیں۔* 

اسی طرح شوہروں کو بھی سکھایا جائے کہ بیوی کی خدمت لینا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ زندگی بانٹنا اصل مردانگی ہے۔

یاد رکھیں، 

 *اگر ہم نے اپنے بچوں کو آسانیاں دینے کے نام پر ان سے ان کی صلاحیتیں چھین لیں، تو آنے والا کل صرف پچھتاوے کا دن ہوگا۔* 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...