خاموش رخصتیں اور اداروں کا زوال
(بہترین اساتذہ کیوں ادارے چھوڑ دیتے ہیں)
ادارے اینٹ اور پتھر سے نہیں بنتے،
وہ انسانوں کے یقین، کردار اور فکر سے وجود میں آتے ہیں۔
ہر ادارے میں چند لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں
جو محض ملازم نہیں ہوتے—
وہ ادارے کی روح، اس کی پہچان اور اس کا اصل چہرہ ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں یہ لوگ عموماً وہ اساتذہ ہوتے ہیں
جو تدریس کو پیشہ نہیں، ذمہ داری سمجھتے ہیں،
جو نصاب سے آگے دیکھتے ہیں
اور کلاس روم سے باہر بھی نسلوں کی تعمیر کرتے ہیں۔
یہی اساتذہ ادارے کا معیار طے کرتے ہیں
اور اسی معیار سے ادارہ پہچانا جاتا ہے۔
مگر ایک تلخ اور مسلسل دہرائی جانے والی حقیقت یہ ہے
کہ یہی بہترین اساتذہ
اکثر خاموشی سے ادارے چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ رخصت اچانک نہیں ہوتی،
یہ ایک دن میں نہیں ہوتی۔
یہ ایک طویل اور تدریجی عمل ہے
جس کی ابتدا نظرانداز کیے جانے سے ہوتی ہے۔
جب اہلیت کے بجائے قربت کو معیار بنا لیا جائے،
جب نااہلی کو وفاداری اور چاپلوسی کے لباس میں
اعزاز عطا ہونے لگے،
جب ترقی کا راستہ قابلیت کے بجائے
شخصی ہاں میں ہاں ملانے سے جڑ جائے—
تو اہل لوگ سب سے پہلے خاموش ہوتے ہیں۔
ایسے ماحول میں
اہلِ فکر کو نہ شریکِ مشاورت کیا جاتا ہے،
نہ اہم فیصلوں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
ادارے کے بنیادی فیصلے
ان کی غیر موجودگی میں طے پاتے ہیں
اور آہستہ آہستہ انہیں مرکز سے
حاشیے کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے
کہ ایسے اساتذہ احتجاج نہیں کرتے،
وہ شور نہیں مچاتے،
وہ ادارے کی حرمت کے پیشِ نظر
خاموشی کو اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ خاموشی ان کا احتجاج ہوتی ہے—
ایک باوقار، سنجیدہ اور بامعنی احتجاج۔
یہ خاموشی رفتہ رفتہ فاصلے میں بدلتی ہے۔
میل جول کم ہو جاتا ہے،
اظہار محدود ہو جاتا ہے،
اور کام تو ہوتا ہے
مگر اب دل شامل نہیں رہتا۔
وہ سر جھکا کر ذمہ داریاں نبھاتے ہیں
مگر اپنی صلاحیت بیچنے کی کوشش نہیں کرتے۔
پھر ایک دن
وہ متبادل تلاش کر لیتے ہیں—
ایسی جگہ جہاں ان کی قدر ہو،
جہاں اہلیت کو بوجھ نہیں
بلکہ سرمایہ سمجھا جائے۔
اور پیچھے رہ جاتا ہے ایک ادارہ
جو ایک عظیم سرمائے سے محروم ہو چکا ہوتا ہے،
مگر اسے احساس اس وقت ہوتا ہے
جب نقصان ناقابلِ تلافی ہو جاتا ہے۔
یہ تحریر کسی فرد یا ادارے پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں،
بلکہ اجتماعی احتساب کی دعوت ہے۔
تعلیمی اداروں کے منتظمین اگر واقعی
اپنے اداروں کو مستحکم، باوقار اور زندہ دیکھنا چاہتے ہیں
تو انہیں اپنے خاموش اساتذہ کو سننا ہوگا،
اپنے مخلص افراد کو پہچاننا ہوگا،
اور اپنی ترجیحات کا دیانت داری سے
ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔
کیونکہ ادارے شور سے نہیں ٹوٹتے—
وہ خاموشی سے اندر سے بکھرتے ہیں۔
اور تاریخ کا فیصلہ یہی ہے:
جب اہل لوگ رخصت ہو جائیں
تو عمارتیں باقی رہتی ہیں،
ادارے نہیں۔

0 تبصرے