شیطانی جزیرے کے راز، لبرل ازم کا مکروہ چہرہ اور مغرب کے بتوں کی پاش پاش ہوتی دیومالائی حیثیت: جیفری ایسپسٹین فائلز کا تحقیقی پوسٹ مارٹم! - بلال شوکت آزاد
انسانی تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر، جہاں حق اور باطل کا معرکہ اپنے عروج پر ہے، مغرب کے اس نام نہاد ”مہذب“ اور ”روشن خیال“ چہرے سے نقاب اس طرح سرکا ہے کہ اس کے پیچھے چھپا ہوا بھیڑیا پوری دنیا کو اپنی خونخوار شکل دکھا چکا ہے۔
یہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا تہذیبی دھماکہ ہے، جس نے ”انسانی حقوق“، ”آزادی نسواں“ اور ”لبرل اقدار“ کے ان تمام بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے جن کی پوجا پچھلی تین صدیوں سے کی جا رہی تھی۔
میں بات کر رہا ہوں اس لرزہ خیز، گھناؤنے اور انسانیت سوز اسکینڈل کی جسے دنیا ”جیفری ایسپسٹین فائلز“ (Jeffrey Epstein Files) یا ”دی ایسپسٹین لسٹ“ کے نام سے جانتی ہے۔
یہ محض چند کاغذات کا مجموعہ نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کسی ایک امیر کبیر شخص کی انفرادی عیاشی کی داستان ہے، بلکہ یہ اس ”دجالی نظام“ (Dajjalic System) کی ایف آئی آر (FIR) ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ”جدیدیت“ کے نام پر انسانیت کی رگوں میں زہر گھول رہا تھا۔
وہ مغرب جو ہمیں مشرق میں بیٹھ کر اخلاقیات کا درس دیتا تھا، جو ہمارے خاندانی نظام پر انگلی اٹھاتا تھا، جو ہمارے پردے اور حیا کو ”قید“ اور ”پسماندگی“ قرار دیتا تھا، آج اس مغرب کی اپنی ”ایلیٹ کلاس“ (Elite Class) اس کے صدور، اس کے شہزادے، اس کے سائنسدان اور اس کے ہالی وڈ کے ستارے, ایک ایسے گندے نالے میں لت پت پائے گئے ہیں جس کی بدبو سے خود ابلیس بھی شرما جائے۔
یہ دستاویزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب انسان خدا کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کو الہٰ بنا لیتا ہے، تو وہ جانور نہیں بنتا، کیونکہ جانور بھی اپنی فطرت سے نہیں پھرتا، بلکہ وہ ”اسفل السافلین“ (جانوروں سے بھی بدتر) کے اس درجے پر گر جاتا ہے جہاں وہ معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔
اس کہانی کا آغاز اس ”شیطانی جزیرے“ (Little St. James) سے ہوتا ہے جسے ایسپسٹین نے اپنا ذاتی ہیڈکوارٹر بنا رکھا تھا۔
یہ جزیرہ دراصل اکیسویں صدی کا وہ ”مندر“ تھا جہاں جدید دور کے فرعون اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھانے آتے تھے۔
جب ہم ان فائلز کا مطالعہ کرتے ہیں تو سب سے پہلا جھٹکا یہ لگتا ہے کہ اس لسٹ میں وہ نام شامل ہیں جنہیں دنیا ”رول ماڈل“ سمجھتی تھی۔
اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking)، جسے جدید سائنس کا آئن سٹائن اور خدا کے وجود کا سب سے بڑا منکر مانا جاتا تھا، جس کی ذہانت کی قسمیں کھائی جاتی تھیں، اس کا نام بھی اس جزیرے کے مہمانوں میں شامل ہے۔
یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ”ذہانت“ (Intellect) اور ”اخلاق“ (Morality) دو الگ چیزیں ہیں۔
آپ فزکس کے فارمولوں سے کائنات کو تو سمجھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کے سینے میں ”خوفِ خدا“ نہیں ہے، تو آپ کی وہ ساری ذہانت آپ کو ایک درندہ بننے سے نہیں روک سکتی۔
یہ وہ نام نہاد روشن خیال طبقہ ہے جو ہمیں بتاتا تھا کہ ”مذہب نے انسان کو قید کر رکھا ہے“، لیکن جب انہوں نے مذہب کی قید توڑ دی تو یہ آزادی کے نام پر بچوں کے سوداگر بن گئے۔
اسی لسٹ میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن (Bill Clinton) کا نام ہے، اسی میں برطانیہ کے شاہی خاندان کا چشم و چراغ پرنس اینڈریو (Prince Andrew) شامل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کو قانون، جمہوریت اور انصاف کا درس دیتے تھے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو تیسری دنیا کے ممالک پر اس لیے پابندیاں لگاتے تھے کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
آج پتا چلا کہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا قبرستان تو ان کے اپنے ذاتی جزیروں پر بنا ہوا تھا۔
یہ منافقت کی وہ معراج ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
یہ مغرب کا وہ ”تہذیبی بحران“ (Civilizational Crisis) ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ سیکولرازم کی کوکھ سے سوائے ”انارکی“ اور ”جنسی درندگی“ کے اور کچھ جنم نہیں لے سکتا۔
یہاں مجھے اپنے دیسی لبرلز، ملحدین اور مغرب زدہ دانشوروں پر شدید حیرت اور افسوس ہوتا ہے، بلکہ گھن آتی ہے۔
یہ وہی طبقہ ہے جو ہمارے مدرسوں میں ہونے والے کسی اکا دکا افسوسناک واقعے کو لے کر مہینوں سوشل میڈیا پر طوفان برپا رکھتا ہے، جو داڑھی اور پگڑی کو دیکھتے ہی اسے ”دہشتگردی“ اور ”پسماندگی“ سے جوڑ دیتا ہے، جو ہمارے خاندانی نظام میں پردے کو ”عورت کا استحصال“ قرار دیتا ہے۔
آج جب ان کے ”آقاؤں“ (Masters) کا کچا چٹھا کھل گیا ہے، جب ان کے ”تہذیبی خداؤں“ کے چہروں سے ماسک اتر گیا ہے، تو ان کی زبانوں پر تالے کیوں لگ گئے ہیں؟
یہ دانشور، جو ہر وقت ”مولوی“ کو گالی دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں، آج بل کلنٹن اور اسٹیفن ہاکنگ کے نام پر کیوں خاموش ہیں؟
کیا ان کی انسانیت صرف تب جاگتی ہے جب ملزم کوئی مسلمان ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ذہنی غلامی کی اس دلدل میں دھنس چکے ہیں جہاں انہیں مغرب کی گندگی بھی ”پرفیوم“ لگتی ہے۔
ایسپسٹین لسٹ نے ان مقامی لبرلز کے دوغلے پن کو ننگا کر دیا ہے۔
یہ لوگ جس ”آزادی“ (Liberty) کا نعرہ لگاتے ہیں، اس کا آخری نتیجہ یہی ”ایسپسٹین آئی لینڈ“ ہے۔
جب آپ معاشرے سے ”حیا“ (Haya) کو نکال دیتے ہیں، جب آپ مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط کو ”ترقی“ کا نام دیتے ہیں، جب آپ ”رضامندی“ (Consent) کو واحد اخلاقی پیمانہ بنا لیتے ہیں، تو پھر معاشرہ ایک ایسی ڈھلوان پر پھسلنا شروع ہوتا ہے جہاں آخرکار ”پیڈوفیلیا“ (بچوں سے جنسی زیادتی) کو بھی ایک ”جنسی رجحان“ (Sexual Orientation) قرار دینے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔
اور یہ میں ہوائی بات نہیں کر رہا، مغرب کے کئی فلاسفرز اور نفسیات دان اب اسی کوشش میں ہیں کہ بچوں کے ساتھ تعلق کو بھی ”نارملائز“ کیا جائے۔
ایسپسٹین کا جزیرہ اس ”فلسفہِ اباحیت“ (Hedonism) کا پریکٹیکل مظہر تھا۔
اسلام اور مغرب کا تقابل یہاں روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے۔
اسلام نے 1400 سال پہلے انسان کی نفسیات اور اس کی کمزوریوں کا احاطہ کرتے ہوئے ”سدِ ذرائع“ (Blocking the means) کا اصول دیا تھا۔
اسلام نے صرف ”زنا“ کو حرام نہیں کیا، بلکہ اس نے حکم دیا
”وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا“
(زنا کے قریب بھی مت جاؤ)۔
یہ قریب نہ جانا کیا ہے؟
یہ پردہ ہے، یہ نگاہوں کی حفاظت ہے، یہ محرم اور نامحرم کا فرق ہے، یہ خلوت (تنہائی) کی ممانعت ہے۔
اللہ جانتا تھا کہ انسان کا نفس کتنا کمزور ہے۔ اگر اسے ”آزادی“ دی گئی تو یہ ایسپسٹین بن جائے گا۔
مغرب نے کہا کہ
”نہیں! انسان کو آزاد چھوڑ دو، بس باہمی رضامندی ہونی چاہیے۔“
نتیجہ کیا نکلا؟
جب انسان کو خدا کے خوف سے آزاد کر دیا گیا تو اس نے اپنی طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر کمزوروں کی ”رضامندی“ کو خریدنا یا چھیننا شروع کر دیا۔
ایسپسٹین کیس میں کیا تھا؟
غریب، یتیم اور بے سہارا بچیاں جنہیں پیسے اور کیریئر کا لالچ دے کر اس جزیرے پر لایا جاتا تھا۔
یہ ہے وہ ”سرمایہ دارانہ استحصال“ (Capitalist Exploitation) جو لبرل ازم کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔
اسلام نے عورت کو ”گھر کی ملکہ“ اور ”عزتِ مآب“ بنایا تھا، مغرب نے اسے ”کموڈٹی“ (Commodity) اور ”شو پیس“ بنا دیا۔ اور جب عورت کموڈٹی بن گئی، تو پھر جسے جس نے چاہا، خریدا اور استعمال کیا۔
یہ فائلز مغرب کے خاندانی نظام کی تباہی کا نوحہ ہیں۔
جہاں خاندانی نظام مضبوط ہوتا ہے، وہاں بیٹیاں باپ کی حفاظت میں ہوتی ہیں، وہاں بھائی بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں۔
مغرب نے ”انڈیویژول ازم“ (Individualism) کے نام پر خاندان کو توڑا، بچیوں کو 18 سال کی عمر میں گھر سے نکال دیا کہ جاؤ اپنی زندگی جیو، اور پھر ان تنہا لڑکیوں کو ایسپسٹین جیسے بھیڑیوں نے نوچ لیا۔
یہ اسکینڈل صرف جنسی بے راہ روی کا نہیں، بلکہ یہ ایک ”طاغوتی نیٹ ورک“ (Taghooti Network) کا انکشاف ہے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کو چلانے والی ”ایلیٹ“ دراصل شیطان کی پجاری ہے۔
یہ لوگ بظاہر سوٹ ٹائی پہنتے ہیں، اقوام متحدہ میں تقریریں کرتے ہیں، گلوبل وارمنگ پر فکر مند ہوتے ہیں، لیکن اندر سے یہ اتنے کالے ہیں کہ اندھیرا بھی ان سے پناہ مانگے۔
ان کا مقصد صرف دولت اکٹھی کرنا نہیں، بلکہ انسانیت کی تذلیل کر کے ایک شیطانی تسکین حاصل کرنا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ“
(وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے)۔
یہ گروہ پوری دنیا میں بے حیائی پھیلا رہا ہے۔ یہ ہالی وڈ کی فلموں کے ذریعے، نیٹ فلکس کی سیریز کے ذریعے، فیشن انڈسٹری کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر رہے ہیں کہ
”عیاشی ہی زندگی کا مقصد ہے“۔
اور ان کے پیچھے کون ہے؟
یہی ایسپسٹین کا نیٹ ورک۔
یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ غیلین میکسویل (Ghislaine Maxwell)، جو ایسپسٹین کی پارٹنر تھی، وہ کوئی عام عورت نہیں تھی بلکہ میڈیا ٹائیکون کی بیٹی تھی۔
یہ پورا ایک مافیا ہے جو میڈیا، سیاست اور عدلیہ کو کنٹرول کرتا ہے۔
تبھی تو دیکھیں!
ایسپسٹین کو پہلی بار جب پکڑا گیا تو اسے معمولی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا۔
کیوں؟
کیونکہ اس کے پاس ان ”بڑے لوگوں“ کی ویڈیوز تھیں، ان کے راز تھے۔
یہ نظامِ عدل (Justice System) کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی عام مسلمان کسی چھوٹی سی غلطی پر پکڑا جائے تو اسے ”دہشتگرد“ بنا دیا جاتا ہے، لیکن یہ لوگ ہزاروں بچیوں کی زندگیاں برباد کر کے بھی ”معزز“ رہتے ہیں۔
آج ہمیں، بحیثت مسلمان، اپنے گریبان میں جھانکنے کے ساتھ ساتھ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ”اسلام“ جیسی نعمت دی جو انسان کو جانور بننے سے بچاتی ہے۔
ہمارے لبرل دوست جو مغرب کی ہر ادا پر فدا ہوتے ہیں، انہیں اب آنکھیں کھول لینی چاہئیں۔ یہ ”روشن خیالی“ نہیں، یہ ”تاریک گڑھا“ ہے۔
جس تہذیب کی بنیادیں ہی گندگی پر رکھی ہوں، وہ کبھی انسانیت کو سکون نہیں دے سکتی۔
ایسپسٹین کی لسٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ مغرب کا اخلاقی دیوالیہ نکل چکا ہے۔ ان کے پاس ٹیکنالوجی ہے، پیسہ ہے، طاقت ہے، مگر ”کردار“ (Character) نہیں ہے۔ اور جس قوم کے پاس کردار نہ ہو، اس کا زوال اٹل ہوتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومِ لوط، رومن ایمپائر اور پومپائی کا زوال اسی وقت شروع ہوا جب ان کی اشرافیہ عیاشی اور جنسی بے راہ روی میں ڈوب گئی۔
آج کا مغرب اسی ڈگر پر چل پڑا ہے، اور ایسپسٹین لسٹ اس تابوت میں پہلی کیل ہے۔
یہ سکینڈل ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔ ہمیں اپنے خاندانی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا، ہمیں حیا کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا، اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ
دیکھو! وہ جس چمک دمک کے پیچھے تم بھاگ رہے ہو، اس کے پیچھے کتنا گھناؤنا اور غلیظ سچ چھپا ہوا ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ”احساسِ کمتری“ (Inferiority Complex) کو ختم کریں اور فخر سے کہیں کہ
ہاں! ہم محمد عربی ﷺ کے غلام ہیں جنہوں نے عورت کو عزت دی، جنہوں نے بچوں سے شفقت کا درس دیا، اور جنہوں نے پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیا۔
خیر یہاں تک ہم نے اس دجالی فتنے کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھی ہے جسے ایسپسٹین لسٹ کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ”شیطانی جزیرہ“ (Little St. James) محض ایک عیاشی کا اڈہ نہیں تھا، بلکہ وہ عالمی طاقت کے ایوانوں کو کنٹرول کرنے کا ایک بہت بڑا ”کنٹرول روم“ تھا۔
جب ہم ان فائلز کی مزید گہرائی میں اترتے ہیں اور ان ناموں کے نیٹ ورک کا تجزیہ کرتے ہیں جو اس گندگی میں ملوث پائے گئے، تو ایک لرزہ خیز حقیقت سامنے آتی ہے جسے جدید سیاسیات کی زبان میں ”ہنی ٹریپ“ (Honey Trap) یا ”کمپرومیٹ“ (Kompromat) کہا جاتا ہے۔
یہ محض ہوس کی داستان نہیں تھی، بلکہ یہ مغرب کی ”ڈیپ اسٹیٹ“ (Deep State) کا وہ گھناؤنا چہرہ ہے جہاں دنیا کے طاقتور ترین لوگوں, سیاستدانوں، سائنسدانوں، بینکاروں اور شاہی خاندان کے افراد کی کمزوریوں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جاتا تھا تاکہ بوقتِ ضرورت ان کی ڈوریاں ہلائی جا سکیں۔
ایسپسٹین کوئی عام ارب پتی نہیں تھا، وہ ایک ”سپائیڈر“ (Spider) تھا جس نے اپنے جال میں پوری مغربی اشرافیہ کو پھنسا رکھا تھا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک کالج ڈراپ آؤٹ، جس کی آمدنی کا کوئی واضح ذریعہ نہیں تھا، وہ اچانک اربوں ڈالر کا مالک کیسے بن گیا؟
وہ وائٹ ہاؤس سے لے کر بکنگھم پیلس تک کیسے رسائی حاصل کر گیا؟
یہ سوالات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ وہ اکیلا نہیں تھا، بلکہ وہ اس ”عالمی مافیا“ کا فرنٹ مین تھا جو دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچانا چاہتا ہے۔
اس جزیرے پر نصب خفیہ کیمرے، جن کا ذکر ایف بی آئی کی رپورٹس میں ملتا ہے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں آنے والے ہر ”مہمان“ کی فلم بنائی جاتی تھی، اور پھر یہی فلمیں عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
یہ ہے وہ ”جمہوریت“ اور ”آزادی“ کا اصل چہرہ جس کا ڈھول مغرب پوری دنیا میں پیٹتا ہے۔
ان کے لیڈرز آزاد نہیں ہیں، وہ اپنی ہی گندی ویڈیوز کے قیدی ہیں، اور جو جتنا بڑا گنہگار ہے، وہ اس نظام میں اتنا ہی اوپر جاتا ہے کیونکہ اسے بلیک میل کرنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔
اس لسٹ میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا اور عبرتناک باب برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو (Prince Andrew) کا ہے، جو ملکہ برطانیہ کا چہیتا بیٹا تھا۔
یہ شخص مغرب کے اس ”دوہرے معیار“ (Double Standards) کی زندہ مثال ہے جو غریب کے لیے اور قانون رکھتا ہے اور امیر کے لیے اور۔
فائلز بتاتی ہیں کہ کس طرح یہ شہزادہ ایسپسٹین کے گھر میں ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ موجود تھا، کس طرح اس کے خلاف گواہیاں آئیں، لیکن پھر کیا ہوا؟
کیا برطانوی پولیس نے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائی؟
کیا اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا؟
نہیں۔
اسے بچانے کے لیے پورا شاہی نظام اور ریاستی مشینری حرکت میں آ گئی۔ اس کی ماں (ملکہ) نے اپنے بیٹے کی آبروریزی کو چھپانے کے لیے کروڑوں پاؤنڈز (عوام کے ٹیکس کا پیسہ) دے کر اس لڑکی کا منہ بند کروایا۔
یہ وہ مغرب ہے جو ہمیں ”قانون کی حکمرانی“ (Rule of Law) کا درس دیتا ہے۔
اگر یہی جرم کسی عام پاکستانی یا افریقی تارک وطن نے کیا ہوتا تو آج وہ عمر قید کاٹ رہا ہوتا اور بی بی سی اور سی این این پر ”اسلامی دہشت گردی“ اور ”مسلم کلچر کی پسماندگی“ پر ڈاکومنٹریز چل رہی ہوتیں۔
لیکن چونکہ مجرم ”نیلی آنکھوں والا شہزادہ“ تھا، اس لیے اسے ”سیٹلمنٹ“ (Settlement) کا نام دے کر کلین چٹ دے دی گئی۔
دیسی لبرلز سے میرا سوال ہے:
کہاں ہے تمہارا وہ انصاف کا ترازو؟
کہاں ہیں تمہاری وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں جو ہمارے ملک میں ایک چھوٹی سی خبر پر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں؟
پرنس اینڈریو کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مغرب کا عدالتی نظام مکڑی کے اس جالے کی طرح ہے جس میں چھوٹی مکھیاں تو پھنس جاتی ہیں، مگر بڑے بھڑ اسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔
یہ نظام ”جسٹس“ (Justice) نہیں، بلکہ ”جسٹ-اَس“ (Just-Us) یعنی صرف اشرافیہ کے تحفظ کا نظام ہے۔
پھر آئیے ذرا ان ”سائنس کے خداؤں“ کی طرف جنہیں ہمارے ملحدین سجدہ کرتے ہیں۔ ایسپسٹین لسٹ نے ایم آئی ٹی (MIT) اور ہارورڈ (Harvard) جیسی بڑی یونیورسٹیوں کا بھی کچا چٹھا کھول دیا ہے۔
یہ ادارے، جنہیں علم اور تحقیق کا کعبہ سمجھا جاتا ہے، ایسپسٹین کے ”ڈونیشنز“ (Donations) پر پل رہے تھے۔
مشہور ماہر لسانیات نوم چومسکی (Noam Chomsky) اور مصنوعی ذہانت کے بانیوں میں سے ایک مارون منسکی (Marvin Minsky) کے نام بھی اس نیٹ ورک سے جڑے پائے گئے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو منطق، فلسفہ اور انسانیت کے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے، مگر ان کا ضمیر چند ڈالروں کے عوض ایک پیڈوفائل (Pedophile) کے ہاتھوں بک گیا۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ”سیکولر علم“ (Secular Knowledge) انسان کو ٹیکنالوجی تو دے سکتا ہے، مگر ”کردار“ نہیں دے سکتا۔
جب علم کا تعلق وحیِ الہٰی سے کٹ جاتا ہے، جب انسان اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگتا ہے، تو پھر وہ ایم آئی ٹی کی لیبارٹری میں بیٹھ کر بھی شیطان کا آلہ کار بن جاتا ہے۔
ہمارے نوجوان جو مغرب کی یونیورسٹیوں کی چمک دمک دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ ان دیواروں کے پیچھے کتنی گندگی چھپی ہے۔
یہ سائنسدان ایٹم بم تو بنا سکتے ہیں، انٹرنیٹ تو ایجاد کر سکتے ہیں، مگر یہ اپنی ”ہوس“ کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
اسلام نے علم کو ”نور“ قرار دیا تھا جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے، مغرب نے علم کو ”پاور“ بنا دیا جو انسان کو فرعون بنا دیتا ہے۔
اور جب فرعونیت علم کے ساتھ مل جائے تو ایسپسٹین جیسے فتنے جنم لیتے ہیں۔
اور پھر اس کہانی کا سب سے پراسرار اور ڈرامائی موڑ, ایسپسٹین کی ”خودکشی“۔
کیا واقعی کوئی ذی شعور انسان اس بات پر یقین کر سکتا ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور کی ہائی سیکیورٹی جیل (Metropolitan Correctional Center) میں، جہاں 24 گھنٹے پہرہ ہوتا ہے، جہاں خودکشی سے روکنے کے لیے خصوصی پروٹوکولز ہوتے ہیں، وہاں ایک ہائی پروفائل قیدی اچانک خودکشی کر لیتا ہے اور عین اسی وقت سی سی ٹی وی کیمرے بھی خراب ہو جاتے ہیں؟
اور پہرے دار بھی سو جاتے ہیں؟
یہ خودکشی نہیں تھی، یہ ”اسٹیٹ سپانسرڈ مرڈر“ (State Sponsored Murder) تھا۔
یہ اس ”ڈیپ اسٹیٹ“ کا کام تھا جس کے راز ایسپسٹین کے سینے میں دفن تھے۔ اگر ایسپسٹین زندہ رہتا اور عدالت میں منہ کھول دیتا، تو بل کلنٹن سے لے کر شاہی خاندان تک، اور وال اسٹریٹ کے بینکاروں سے لے کر ہالی وڈ کے ستاروں تک، سب کے سب ننگے ہو جاتے۔ اسے خاموش کروا کر ان سب کو بچا لیا گیا۔
یہ ہے مغرب کی ”شفافیت“ (Transparency) کا جنازہ۔ وہ نظام جو پوری دنیا کی جاسوسی کرتا ہے، جو اسامہ بن لادن کو غاروں میں ڈھونڈ نکالنے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ اپنی ہی جیل میں ایک قیدی کی حفاظت نہیں کر سکا؟
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مغرب میں جمہوریت صرف ایک ”فریب“ (Illusion) ہے، اصل طاقت ان خفیہ ہاتھوں کے پاس ہے جو قانون سے بالاتر ہیں۔
یہ وہی فرعونی نظام ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا تھا کہ یہ لوگ زمین پر فساد پھیلاتے ہیں اور خود کو مصلح (Reformers) کہتے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مغرب کی وہ تمام فیمنسٹ تنظیمیں، وہ ”می ٹو“ (#MeToo) موومنٹ کی علمبردار خواتین کہاں ہیں؟
وہ ہالی وڈ کی ہیروئنیں جو ایک ٹویٹ پر دنیا ہلا دیتی ہیں، وہ ان سینکڑوں نابالغ بچیوں کے لیے سڑکوں پر کیوں نہیں نکلیں جنہیں ایسپسٹین اور اس کے دوستوں نے نوچا؟
یہ خاموشی مجرمانہ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ مغرب کا فیمنزم بھی ”سلیکٹو“ (Selective) ہے۔
یہ لوگ عورت کے حقوق کا نعرہ صرف وہاں لگاتے ہیں جہاں انہیں اپنا سیاسی ایجنڈا پورا کرنا ہو، یا جہاں اسلام کو نشانہ بنانا ہو۔
لیکن جب بات ان کے اپنے ”گاڈ فادرز“ کی آتی ہے، جب بات ان کے اپنے فنانسرز کی آتی ہے، تو یہ سب گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں۔ یہ منافقت کی انتہا ہے۔
ایسپسٹین فائلز نے ثابت کر دیا ہے کہ مغرب میں عورت کی عزت کی کوئی قیمت نہیں، وہ صرف ایک ”ٹول“ (Tool) ہے جسے کبھی اشتہار میں استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی جزیرے پر۔
اس کے مقابلے میں اسلام کا نظامِ عفت و عصمت دیکھیں۔ اسلام نے زنا کی سزا امیر اور غریب کے لیے برابر رکھی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا:
”اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“
یہ ہے وہ عدل جو معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔ مغرب کا عدل مکڑی کا جالا ہے اور اسلام کا عدل اللہ کی تلوار ہے۔
دیسی لبرلز اور سیکولر دانشوروں کی حالت اس وقت قابلِ رحم ہے۔ یہ لوگ جو دن رات ہمیں مغرب کی اخلاقی برتری کے قصے سناتے تھے، اب منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ جس تہذیب کو یہ ”انسانیت کا معراج“ سمجھتے تھے، وہ اندر سے اتنی گلی ہوئی لاش کیسے نکلی؟
حقیقت یہ ہے کہ ”لادینیت“ (Atheism) کا آخری اسٹیشن یہی ہے۔ جب آپ خدا کا انکار کر دیتے ہیں، جب آپ آخرت کی جوابدہی کو جھٹلا دیتے ہیں، تو پھر انسان کے لیے ”اخلاق“ کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی۔
پھر ”مزہ“ (Pleasure) ہی زندگی کا واحد مقصد بن جاتا ہے۔ اور جب مزہ مقصد بن جائے، تو انسان اپنی ہوس مٹانے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔
ایسپسٹین اور اس کے ساتھی اسی ”مادہ پرستانہ فلسفے“ (Materialistic Philosophy) کی پیداوار تھے۔
انہوں نے دنیا کی ہر نعمت حاصل کر لی تھی, دولت، شہرت، طاقت, لیکن ان کی روحیں پیاسی تھیں۔
اس پیاس کو بجھانے کے لیے انہوں نے شیطانیت کا راستہ اپنایا۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
”نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ“
(انہوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے انہیں بھلا دیا / انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا)۔
یہ لوگ اپنے آپ کو بھول چکے ہیں۔ یہ انسانی شکل میں درندے ہیں۔
ایسپسٹین لسٹ مغرب کے ”روحانی کھوکھلے پن“ (Spiritual Void) کا ثبوت ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ بغیر خدا کے تہذیب، چاہے وہ کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، آخرکار اپنے ہی گند میں ڈوب کر مر جاتی ہے۔
ابھی تک ہم نے مغرب کے اس بھیانک چہرے سے نقاب اٹھایا جو ”انسانی حقوق“ اور ”قانون کی بالادستی“ کے خوشنما ماسک کے پیچھے چھپا ہوا تھا، اور ہم نے دیکھا کہ کس طرح دنیا کی سپر پاورز کی اشرافیہ ایک جزیرے پر اکٹھی ہو کر انسانیت کی دھجیاں اڑاتی رہی۔
لیکن اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کہانی صرف چند امیروں کی عیاشی اور جنسی بے راہ روی تک محدود ہے، تو آپ ابھی تک اس ”شیطانی شطرنج“ (Devilish Chessboard) کی محض پیادوں کو دیکھ رہے ہیں، شاہ اور وزیر ابھی بھی پردے کے پیچھے ہیں۔
ایسپسٹین اسکینڈل کا سب سے خطرناک، سب سے پیچیدہ اور سب سے زیادہ دبا دیا جانے والا پہلو وہ ہے جسے مین اسٹریم میڈیا ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتا ہے، اور وہ ہے اس نیٹ ورک کا ”صی ہونی کنکشن“ اور ”عالمی جاسوسی“ (Global Espionage) کا زاویہ۔
جب ہم اس نیٹ ورک کی سرغنہ خاتون غیلین میکسویل (Ghislaine Maxwell) کے شجرہ نسب اور اس کے پس منظر کا تجزیہ کرتے ہیں تو ایک لرزہ خیز حقیقت سامنے آتی ہے۔
غیلین میکسویل کوئی عام سوشلائٹ نہیں تھی، بلکہ وہ رابرٹ میکسویل (Robert Maxwell) کی بیٹی تھی، جو برطانیہ کا میڈیا ٹائیکون ہونے کے ساتھ ساتھ اس رائیل کی خفیہ ایجنسی ”موساد“ (Mossad) کا ایک ”سپر اسپائی“ (Super Spy) مانا جاتا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ رابرٹ میکسویل کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ اس رائیل میں دفن کیا گیا تھا جس میں اس رائیلی قیادت نے شرکت کی تھی۔
سوال یہ ہے کہ ایک جاسوس کی بیٹی، جس نے اپنی ساری زندگی ایسپسٹین کے ساتھ گزار دی، جو ان بچیوں کو پھنسانے اور انہیں ”تربیت“ دینے کی ذمہ دار تھی، وہ یہ سب کیوں کر رہی تھی؟
کیا یہ ممکن ہے کہ ایسپسٹین اور میکسویل کا یہ پورا آپریشن دراصل ایک ”گلوبل ہنی ٹریپ“ (Global Honey Trap) تھا؟
جدید انٹیلی جنس وارفیئر میں دشمن کو زیر کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے کسی ایسی اخلاقی گراوٹ میں ملوث کر کے اس کی ویڈیو بنا لی جائے جس کے بعد وہ ساری زندگی آپ کا غلام بن کر رہے۔
یہ نظریہ (Theory) نہیں بلکہ اب ایک ”اوپن سیکرٹ“ بن چکا ہے کہ ایسپسٹین کے جزیرے پر نصب خفیہ کیمرے محض یادگار کے لیے نہیں تھے، بلکہ وہ مغربی دنیا کے طاقتور ترین لوگوں, امریکی صدور، برطانوی شہزادوں، سینیٹرز اور سائنسدانوں, کو قابو کرنے کے لیے تھے۔
ذرا غور کیجیے!
امریکہ کی خارجہ پالیسی (Foreign Policy) ہمیشہ اس رائیل کے حق میں اندھی کیوں ہوتی ہے؟
کیوں مغربی لیڈرز، چاہے وہ لبرل ہوں یا کنزرویٹو، صی ہونی ریاست کے ہر ظلم پر خاموش رہتے ہیں؟
اس کا جواب شاید ان ”خفیہ والٹس“ (Secret Vaults) میں پڑا ہے جو ایسپسٹین نے بنا رکھے تھے۔
جب ایک صدر یا وزیراعظم کو پتا ہو کہ اس کی کسی کمسن بچی کے ساتھ ویڈیو کسی ”تیسرے فریق“ کے پاس موجود ہے، تو وہ پھر وہی فیصلے کرے گا جو وہ فریق چاہے گا۔
یہ مغرب کی ”جمہوریت“ کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔ وہاں کے حکمران عوام کے ووٹوں سے نہیں، بلکہ اپنی ”بلیک میلنگ“ کے خوف سے چلائے جا رہے ہیں۔
یہ ایک ”شیڈو گورنمنٹ“ (Shadow Government) ہے جو پردے کے پیچھے بیٹھ کر دنیا کو کنٹرول کر رہی ہے۔
ایسپسٹین اس شیطانی سلطنت کا محض ایک منیجر تھا، اصل مالک وہ ”طاغوتی قوتیں“ابھی پردے کے پیچھے ہیں

1 تبصرے
اللہ اللہ ایک دھائ یا اس سے کچھ قبل کیا وقت تھا جب دنیا کے امیر و کبیر اور سیاسی اور سماجی نامی گرامی اور مشہور انسان اس ملعون صہیونی جاسوس کی پارٹیز میں جانے کی انویٹیشن کا انتظار کرتے تھے۔ اس کے ساتھ فوٹو کھچوانا فخر سمجھتے تھے۔ اس کے بھیجے تحائف انجوائے کرتے تھے وہ ان کا مالی ایڈوائزر بھی تھا۔ اب یہ وقت ھے کہ ھر شخص اس سے کسی طرح کے تعلق اور لین دین سے انکاری ھے۔
جواب دیںحذف کریںڈرتا ھے کہ اس کا نام یا فوٹو کسی ای میل میں نہ نمودار ھو جائے اور اس کا انجام بھی ایسا ھو جو دوسروں کا اس ملعون کے ساتھ دوستی رکھنے کا ھوا۔
باقی رھے وہ لوگ جن کو جیفری سے ملاقات کرنے اور اس کی پارٹیوں میں جانے کا بہت شوق تھا لیکن وہ شوق شرمندہ تعبیر نہ ھو سکا وہ آج سکون کا سانس لے رھے ھیں کہ بچ گئے ورنہ ان کا بھی وھی انجام ھونا تھا۔
قارون کا انجام کیسا ھوا اور اس کے ساتھی جو بنی اسرائیل کی نسل تھے قارون کو حسد اور رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور تمنا کرتے تھی کہ کاش وہ بھی ایسے ھی اس کے جیسے مقرب ھوتے جیسا قارون فرعون کا مقرب تھا،
اس کا ذکر قرآن سورہ القصص آیت 76 میں ھے۔
یہ بھی عجیب بات ھے کہ جیفری بھی بنی اسرائیل کی نسل سے تھا اور اس بلیک میل آپریشن کو فائنانس کرنے والا ملک اسرائیل تھا۔
فاضل لکھاری نے جتنی خوبصورتی اور دلائل سے اس مکروہ اسکینڈل پر سے پردہ اُٹھایا ھے اس کی نظیر اخبارات میں شائع ھونے والی سنسنی خیز خبروں میں نہیں ملتی ھے۔ اللہ کرے ان کو مضمون ہر پاکستانی کے لیے عبرت اور مشعل راہ ثابت ھو۔ ھماری لبرل بھائیوں کے لیے بھی یہ مضمون ان کی اونگھ جگانے کے لیے کافی ھے۔ کوشش کیجیے اس کا انگریزی ترجمہ کسی اخبار میں چھپ جائے تاکہ عوام کا فائدہ ھو اور تبلیغ بھی ھو جائے۔