یقین اور بھروسہ میں فرق

 


*ایک آدمی دو بہت اونچی عمارتوں کے درمیان تنی ہوئی رسی پر چل رہا تھا۔*

*وہ بہت آرام سے اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک ڈنڈا پکڑے ہوۓ سنبھل رہا تھا۔*

*اس کے کاندھے پر اس کا بیٹا بیٹھا تھا۔ زمین پر کھڑے تمام لوگ دم سادھے کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔*

*جب وہ آرام سے دوسری عمارت تک پہنچ گیا تو لوگوں نے تالیوں کی بھرمار کر دی اور اسکی خوب تعریف کی۔*

*اس نے لوگوں کو مسکرا کر دیکھا اور بولا۔*

*"کیا آپ لوگوں کو یقین ہے میں واپس اسی رسٌی پر چلتا ہوا دوسری طرف پہنچ جاؤں گا؟" لوگ چلٌا کر بولے، ہاں ہاں تم کر سکتے ہو۔*

*اس نے پھر پوچھا، "کیا آپ سب کو بھروسہ ہے؟" لوگوں نے کہا ہاں ہم تم پر شرط لگا سکتے ہیں۔*

*اس نے کہا، "ٹھیک ہے، کیا آپ میں سے کوئی میرے بیٹے کی جگہ میرے کاندھے پر بیٹھے گا؟ میں اسے بحفاظت دوسری طرف لے جاؤں گا۔*

*اس کی بات سن کر سب کو سکتہ سا ہو گیا،سب خاموش ہو گئے.* 

*یقین الگ چیز ہے،اور بھروسہ الگ چیز۔۔*

*بھروسہ کرنے کے لیے آپ کو مکمل فنا ہونا پڑتا ہے۔*

*اور آج ہم سب میں اسی بھروسے کی کمی ہے۔*

*ہم اللّٰہ تعالیٰ پر یقین تو رکھتے ہیں لیکن بھروسہ نہیں کر پاتے۔ حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے۔*

*فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ* 

*یعنی جب کسی بات کا پختہ ارادہ کر لو تو اللّٰہ پر بھروسہ کرو ، یقینا اللّٰہ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔*

یقین اور بھروسہ / توکل میں فرق


یہ دونوں ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں، لیکن منزل الگ الگ ہے۔

*1. یقین (Belief) کیا ہے؟*

یقین دماغ کا کام ہے۔ مان لینا کہ اللہ ہے، وہی رازق ہے، وہی مشکل کشا ہے۔

یہ علم ہے۔ جیسے آپ کو یقین ہے کہ آگ جلاتی ہے۔

شیطان کو بھی یقین ہے کہ اللہ ہے، لیکن اسے بھروسہ نہیں۔


*2. بھروسہ / توکل (Trust) کیا ہے؟*

بھروسہ دل کا کام ہے۔ اپنا معاملہ، اپنی فکر، اپنا رزق، اپنی جان اللہ کے حوالے کر دینا اور پھر بے فکر ہو جانا۔


یقین ہے: "کشتی اللہ بچائے گا"

بھروسہ ہے: "طوفان میں بھی کشتی میں سو جانا"

رسی والے کی مثال میں:

سب کو *یقین* تھا کہ وہ گرے گا نہیں۔

لیکن کسی کو *بھروسہ* نہیں تھا کہ اس کے کندھے پر بیٹھ جائے۔


> یقین دیکھ کر آتا ہے، بھروسہ آنکھ بند کر کے کیا جاتا ہے۔

*اللہ پر یقین اور توکل کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟*

*1. توکل ایمان کی شرط ہے:*

`وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ`

"اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو" - [المائدہ: 23]

*2. اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے:*

`إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ`

"بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے" - [آل عمران: 159]

*3. اللہ کافی ہو جاتا ہے:*

`وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ`

"جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے" - [الطلاق: 3]

یہ آیت سب سے بڑی تسلی ہے۔ جب وہ کافی ہے تو پھر کس کا غم؟

*4. توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھنا نہیں:*

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

*"پہلے اونٹ کو باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو"* - [ترمذی]

یعنی اپنا سبب، اپنی محنت پوری کرو، پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔ رسی پر چلنے والے نے بھی ڈنڈا پکڑا ہوا تھا، احتیاط کی تھی، پھر اللہ پر بھروسہ کیا۔

*5. یقین کی 3 منزلیں:*

علماء کہتے ہیں:

- *علم الیقین:* سن کر ماننا

- *عین الیقین:* آنکھ سے دیکھ کر ماننا

- *حق الیقین:* خود اس میں شامل ہو کر ماننا - یہی بھروسہ ہے۔

*آج ہم کیوں پریشان ہیں؟*

کیونکہ ہم نے یقین کو زبان پر رکھا ہے، دل میں نہیں اتارا۔

ہم کہتے ہیں رزق اللہ دے گا، پھر بھی سود لیتے ہیں۔

کہتے ہیں عزت اللہ دیتا ہے، پھر بھی لوگوں کے آگے جھکتے ہیں۔

کہتے ہیں اللہ حفاظت کرنے والا ہے، پھر بھی تعویذوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔

روز یہ دعا پڑھیں، نبی ﷺ گھر سے نکلتے وقت پڑھتے تھے:

*حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ*

"ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے"

جب ایک بار دل سے کندھے پر بیٹھ گئے، تو پھر گرنے کا خوف ختم۔

اللہ ہمیں صرف یقین والا نہیں، توکل والا مسلمان بنائے۔ آمین۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...