غصہ اور تکبر (سنٹرل جیل کی ایک سچی کہانی)

 


یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ مجرم برے لوگ ہی بنتے ہیں بعض دفعہ حالات و واقعات اور جذبات ایسا گل کھلا دیتے ہیں کہ بڑے اچھے اور نامی گرامی لوگ بھی مجرم بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں آئیے آپ کو ایسی ایک کہانی سناتے ہیں

یہ کہانی کسی کتاب کی نہیں، سنٹرل جیل کی ایک سچی داستان ہے۔ جہاں میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے میری زندگی کا نظریہ ہی بدل دیا۔

جیل میں مجھے راؤ اکبر صاحب کے اطمینان، ان کے سکون اور ان کی شخصیت نے حیران کر دیا تھا۔ وہ شخص چند دن بعد پھانسی پانے والا تھا۔ صدرِ مملکت نے اس کی رحم کی اپیل تک مسترد کر دی تھی۔ پوری جیل مغموم تھی، ہر آنکھ اداس تھی، مگر اس کے چہرے پر ایک گہرا اطمینان اور عجیب سا سکون تھا۔


جیل کے تمام قیدی، یہاں تک کہ سرکاری اور غیر سرکاری عملہ بھی اس کی بے انتہا عزت کرتا تھا۔ وہ جیل کی مدر ٹریسا تھا۔ ہر ایک کے دکھ درد کا ساتھی۔ وہ ایک خوشحال آدمی تھا، اس کے لواحقین، عزیز و اقارب، بہن بھائی اور دوست احباب سب کھاتے پیتے اور بااثر لوگ تھے۔ جیل میں وہ جس کو بھی پریشان دیکھتا، اس کے لیے ایک رقعہ لکھ دیتا اور اس غریب کا مسئلہ حل ہو جاتا۔ وہ انتہائی سمجھ دار، وضع دار اور شاندار انسان تھا، مگر اس کے باوجود وہ قتل کے جرم میں جیل میں بند تھا اور پھانسی کا منتظر تھا۔ میں اس بات پر بہت حیران تھا۔


پھر ایک دن میں نے ہمت کر کے اس سے پوچھ ہی لیا: "راؤ صاحب، کیا آپ نے واقعی قتل کیا تھا؟"


راؤ صاحب نے اطمینان سے سگریٹ کا کش لیا اور بولا: "ہاں، کیا تھا۔"


میں نے کہا: "کیا واقعہ ہوا تھا؟"


اس نے بتانا شروع کیا: "میں اور میرا خاندان اپنے علاقے میں ایک معزز گھرانہ ہیں۔ لوگ ہماری بے انتہا عزت کرتے ہیں۔ ہمارے شہر میں ایک نیا لڑکا ابھرا، جو دوبئی سے پیسہ کما کر واپس آیا تھا۔ پیسے نے اپنا اثر دکھایا، اس کا دماغ خراب ہو گیا اور وہ چھوٹے بڑے سے الجھنے لگا۔ میرے علاقے کے لوگ غریب تھے، کسی نے اس کا ہاتھ نہ روکا، یوں اس کے اعتماد میں اضافہ ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ ایک دن میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔"


"میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کار میں بازار سے گزر رہا تھا۔ گاڑی گزارنے پر معمولی سی تلخ کلامی ہوئی۔ میں نے مسکرا کر معاملہ ٹالنے کی کوشش کی، مگر اس نے جیب سے پستول نکال لیا۔ وہ بازار میں کھڑا مجھے سینکڑوں لوگوں کے سامنے غلیظ گالیاں دینے لگا۔ لوگ جو میری عزت کرتے تھے، ان کے سامنے وہ مجھے ذلیل کر رہا تھا۔ میں برداشت کرتا رہا۔ میرے بھائی نے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں اسے بار بار کہتا رہا کہ یہ ہمارا لیول نہیں، ہمیں اس سے نہیں لڑنا چاہیے۔ میرا بھائی غصے سے کانپ رہا تھا۔ اس نئے بدمعاش نے میرے بھائی کو غصے میں دیکھا تو اسے بے غیرت کہہ دیا۔ میرا بھائی جوان تھا، وہ یہ برداشت نہ کر سکا اور گاڑی سے باہر نکل گیا۔ اس بدبخت نے میرے بھائی پر گولی چلا دی، لیکن میرا بھائی بال بال بچ گیا۔ میرے پاس اب باہر نکلنے اور لڑنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔ میں باہر نکلا اور اس کے بعد وہ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔"


راؤ صاحب نے پھر لمبا کش لیا اور بولا: "لیکن میں سمجھتا ہوں ہم نے اسے نہیں مارا، اس بدنصیب کو اس کے غرور، اس کے تکبر اور اس کی بے وقوفی نے قتل کرایا۔ ہمارے سامنے اس نے دراصل کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا۔ وہ اگر ہمیں پیچھے ہٹنے کا ایک موقع بھی دے دیتا تو ہم واپس چلے جاتے اور وہ بچ جاتا، مگر افسوس وہ ہمیں للکارتا رہا اور یوں وہ مارا گیا۔"


اس کے بعد راؤ اکبر صاحب نے مجھے زندگی کے تین شاندار سبق دیے جو میں آج تک نہیں بھولا۔


*پہلا سبق:* "کبھی اپنے جوان بیٹے یا بھائی کو ساتھ لے کر کسی ایسی جگہ نہ جائیں جہاں جھگڑے کا خطرہ ہو، یا جہاں کوئی بدتمیز شخص موجود ہو۔ کیونکہ آپ سمجھ دار ہوتے ہیں، آپ صورتحال کو سنبھال لیتے ہیں، آپ اپنی چھوٹی بڑی توہین پی جاتے ہیں، مگر آپ کے ساتھ موجود جوان بیٹے یا بھائی آپ کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتے اور یوں معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔"

*دوسرا سبق:* "آپ کبھی کسی باعزت شخص کو لوگوں کے سامنے بے عزت کرنے کی غلطی نہ کریں۔ آپ اسے کبھی عوامی جگہ پر گالی نہ دیں۔ کیونکہ دنیا کا سمجھ دار ترین اور متحمل مزاج ترین شخص بھی لوگوں میں اپنی بےعزتی برداشت نہیں کر سکتا اور یوں آپ کو اپنی اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر آپ نے کسی کو سمجھانا بھی ہے تو اکیلے میں سمجھائیں۔"


*تیسرا سبق* اس نے ایک دھان پان سے نشئی کی طرف اشارہ کر کے دیا جو جیل میں پھر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس چرسی نے لاہور میں ایک بڑے صنعت کار کے بیٹے کے سر میں اینٹ مار دی تھی جس سے وہ مر گیا۔ اصل کہانی یہ تھی کہ اس صنعت کار کے بیٹے نے مال روڈ پر ریس لگاتے ہوئے ایک غریب انجینئر کو کچل دیا تھا جو تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ جج نے اسے پھانسی کی سزا دی۔ صنعت کار نے پیسے اور طاقت سے لواحقین کی ایک بیٹی کو اغوا کرا لیا۔ وہ غریب باپ میرے پاس آیا تو میں نے اسے کہا کہ صلح کر لو، تمہارا انصاف اللہ کرے گا۔ وہ مغرور لڑکا جیل سے نکل کر پھر تکبر میں آ جائے گا اور کسی دن سڑک پر مارا جائے گا۔


اور ویسا ہی ہوا۔ ایک سال بعد اسی نشئی کو اس امیر زادے نے گالی دی اور نشئی نے اس کے سر میں اینٹ مار کر اسے سڑک پر ہی ختم کر دیا۔ آج وہ غریب باپ ہر ہفتے جیل میں مجھے کھانا دینے آتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کا انصاف ہو گیا۔


*خلاصہ کلام:* غصہ اور تکبر انسان کے دو بڑے دشمن ہیں۔ یہ الگ الگ ہوں تو خطرناک ہیں، لیکن اگر ایک جگہ جمع ہو جائیں تو یہ قاتل بن جاتے ہیں۔ یاد رکھو، اگر ہزاروں گالیوں سے بچنا چاہتے ہو تو چند گالیاں برداشت کرنا سیکھ جاؤ۔ اور اگر کسی کی اینٹ سے بچنا چاہتے ہو تو کبھی خلقِ خدا کو انا اور طاقت کے بیلن میں پیسنے کی غلطی نہ کرنا۔ کیونکہ جس کا کوئی نہیں ہوتا، اس کے پیچھے خدا کھڑا ہو جاتا ہے۔

*حسبنا اللہ ونعم الوکیل*


لکھاری: یوسف ارحم 

تبصرے