اشاعتیں

اکتوبر, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نیکیوں کو کھا جانے والی آگ؛ غصہ

تصویر
غصے پر قابو، عہدِ نبوی سے واقعات غصہ ایک ایسی آگ ہے جو پہلے غصہ کرنے والے کو ہی جلاتی ہے۔ ہر گھر کی لڑائی، ہر طلاق، ہر قتل کے پیچھے غصے کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے غصے کو سب سے بڑا دشمن کہا ہے۔ قرآن میں غصہ پینے والوں کی تعریف: اللہ تعالیٰ نے جنت کے وارثوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ" (آل عمران: 134) ترجمہ: جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یعنی غصہ آنا برا نہیں، غصے کو پی جانا کمال ہے۔ نبی ﷺ نے غصے کے بارے میں کیا فرمایا؟ ایک صحابی نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"لَا تَغْضَبْ" - غصہ نہ کرو۔ اس صحابی نے بار بار پوچھ آپ ہر بار یہی فرماتے رہے، غصہ نہ کرو۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ"   جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے خاموش ہو جانا چاہیے۔ اور فرمایا، غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے، اور آگ پانی سے بجھتی ہے، ا...

پڑوسی کے ساتھ حُسنِ اخلاق - ایک بھولی ہوئی سنت

تصویر
ہمارے معاشرے کا ایک یہ بھی المیہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز رکھتے ہوئے بھی اپنے پڑوسیوں سے بلکل ناواقف ہوتے ہیں آج ہم مسجد میں سب کے ساتھ مسکرا کر ملتے ہیں، فیس بک پر ہزاروں دوست ہیں، لیکن اپنے ساتھ والے گھر میں رہنے والے پڑوسیوں کے حال احوال کی کوئی خیر خبر نہیں۔ یہ ہے آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ۔ اسلام نے پڑوسی کو جو مقام دیا ہے، شاید ہی کسی اور مذہب نے دیا ہو۔ قرآن میں پڑوسی کا حق: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *"وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ"* (النساء) اس آیت میں اللہ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ پڑوسی کا بھی  ذکر کیا۔ دو طرح کے پڑوسی بتائے، ایک رشتہ دار پڑوسی، اور ایک اجنبی پڑوسی، دونوں کا حق ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: *"مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ"* (بخاری و مسلم) ترجمہ: جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں...

غصہ اور تکبر (سنٹرل جیل کی ایک سچی کہانی)

تصویر
  یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ مجرم برے لوگ ہی بنتے ہیں بعض دفعہ حالات و واقعات اور جذبات ایسا گل کھلا دیتے ہیں کہ بڑے اچھے اور نامی گرامی لوگ بھی مجرم بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں آئیے آپ کو ایسی ایک کہانی سناتے ہیں یہ کہانی کسی کتاب کی نہیں، سنٹرل جیل کی ایک سچی داستان ہے۔ جہاں میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے میری زندگی کا نظریہ ہی بدل دیا۔ جیل میں مجھے راؤ اکبر صاحب کے اطمینان، ان کے سکون اور ان کی شخصیت نے حیران کر دیا تھا۔ وہ شخص چند دن بعد پھانسی پانے والا تھا۔ صدرِ مملکت نے اس کی رحم کی اپیل تک مسترد کر دی تھی۔ پوری جیل مغموم تھی، ہر آنکھ اداس تھی، مگر اس کے چہرے پر ایک گہرا اطمینان اور عجیب سا سکون تھا۔ جیل کے تمام قیدی، یہاں تک کہ سرکاری اور غیر سرکاری عملہ بھی اس کی بے انتہا عزت کرتا تھا۔ وہ جیل کی مدر ٹریسا تھا۔ ہر ایک کے دکھ درد کا ساتھی۔ وہ ایک خوشحال آدمی تھا، اس کے لواحقین، عزیز و اقارب، بہن بھائی اور دوست احباب سب کھاتے پیتے اور بااثر لوگ تھے۔ جیل میں وہ جس کو بھی پریشان دیکھتا، اس کے لیے ایک رقعہ لکھ دیتا اور اس غریب کا مسئلہ حل ہو جاتا۔ وہ انتہائی سمجھ دار، وضع دار ...

معاف کر دینا سب سے بڑا انتقام ہے- نیلسن منڈیلا کا سبق آموز واقعہ

تصویر
  الحمداللہ: ہم مسلمانوں کی تاریخ ایسے معاف کر دینے والے واقعات سے بھری پڑی ہے ہمارے آبا و اجداد بلا کے بہادر، دلیر، رحم دل اور معاف کر دینے والے لوگ تھے۔ہمارے سب سے بڑے لیڈر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو معاف فرما کر عفو و درگزر کی ایسی مثال قائم کر دی ہے جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گی۔ نیلسن منڈیلا کو دنیا ماڈیبا کے نام سے یاد کرتی ہے، جس کا مطلب ہے بڑے والد۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 27 سال جیل میں گزارے۔ جب وہ جیل سے رہا ہوئے تو ان کے پاس دنیا کی ہر طاقت تھی کہ وہ اپنے دشمنوں سے بدلہ لے سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایک ایسا راستہ چنا جس نے انہیں عام انسان سے عظیم انسان بنا دیا۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ منڈیلا جیل سے رہائی کے بعد پہلی بار اپنے گھر جا رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب میں جیل کی دیواروں سے باہر نکلا تو میں نے کھلا آسمان، آزاد ہوا اور پرندوں کو دیکھا۔ میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔ میں گاڑی کی طرف بڑھا تو اچانک میں رک گیا۔ میں واپس جیل کے اندر گیا۔ وہاں وہ تمام جیل وارڈن موجود تھے جنہوں نے سالوں تک مجھ پر ظلم کیا تھا۔ میں ایک ایک کے ...