نیکیوں کو کھا جانے والی آگ؛ غصہ




غصے پر قابو، عہدِ نبوی سے واقعات

غصہ ایک ایسی آگ ہے جو پہلے غصہ کرنے والے کو ہی جلاتی ہے۔ ہر گھر کی لڑائی، ہر طلاق، ہر قتل کے پیچھے غصے کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے غصے کو سب سے بڑا دشمن کہا ہے۔


قرآن میں غصہ پینے والوں کی تعریف:


اللہ تعالیٰ نے جنت کے وارثوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ"

(آل عمران: 134)

ترجمہ: جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔


یعنی غصہ آنا برا نہیں، غصے کو پی جانا کمال ہے۔


نبی ﷺ نے غصے کے بارے میں کیا فرمایا؟


ایک صحابی نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"لَا تَغْضَبْ" - غصہ نہ کرو۔ اس صحابی نے بار بار پوچھ آپ ہر بار یہی فرماتے رہے، غصہ نہ کرو۔


ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:

"إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ" 

 جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے خاموش ہو جانا چاہیے۔


اور فرمایا، غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے، اور آگ پانی سے بجھتی ہے، اس لیے جب تمہیں غصہ آئے تو وضو کر لو۔

اللہ اکبر اللہ اکبر میں قربان جاؤں ہمارے لیڈر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے ہمیں غصہ پی جانے کا کتنا بہترین اور کارگر نسخہ دیا کہ جب بھی کسی انسان کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً وضو کرے درحقیقت جب انسان وضو کرکے خود کو پاک کرلیتا ہے تو شیطان کی لگائی ہوئی آگ بجھ جاتی ہے اور دل میں نیکی کا جذبہ بڑھ جاتا ہے اور برائی جاتی رہتی ہے کیونکہ غصہ بھی ایک شیطانی وار ہے۔ دوسری بات جب مسلمان پاک ہو جاتا ہے تو نیکی کا جذبہ پروان چڑھنے لگتا ہے اور برائی کے جذبات اور اثرات جاتے رہتے ہیں

عہدِ نبوی کے 3 حیران کن واقعات:

چادر کھینچنے والا برو؛


ایک  بدو (دیہاتی) نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے آپ ﷺ کی چادر کو اتنے زور سے کھینچا کہ آپ ﷺ کی مبارک گردن پر نشان پڑ گیا۔ صحابہ غصے سے تلواریں نکالنے لگے، لیکن نبی ﷺ مسکرائے۔


بدو نے کہا، اے محمد! مجھے اللہ کے مال میں سے دو، یہ تمہارا مال نہیں ہے۔

نبی ﷺ نے غصہ کرنے کے بجائے فرمایا، اسے اور دے دو۔ اور آپ نے اسے اتنا دیا کہ وہ خوش ہو کر مسلمان ہو گیا۔ اگر آپ غصہ کرتے تو ایک دل اسلام سے دور ہو جاتا۔

طائف میں پتھر کھانے کے باوجود دعا

جب آپ ﷺ طائف گئے تو وہاں کے لوگوں نے آپ پر پتھر برسائے، آپ کا جسم خون سے بھر گیا۔ فرشتے آئے اور کہا، یا رسول اللہ، اجازت دیں ہم ان دو پہاڑوں کے درمیان ان کو پیس دیں۔


اس حال میں بھی، لہولہان حالت میں بھی آپ نے غصے کا اظہار نہیں کیا، بلکہ فرمایا: *"اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ"* - اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے، یہ جانتے نہیں۔


یہ ہے غصے پر قابو کا سب سے بڑا مقام۔

 حضرت عمرؓ کا غصہ اور نبی ﷺ کی تربیت


ایک یہودی نے آ کر نبی ﷺ سے اپنا قرض بہت سختی سے مانگا، اور آپ ﷺ کی چادر کھینچ لی۔ حضرت عمرؓ کو بہت غصہ آیا اور تلوار نکال لی۔


نبی ﷺ نے حضرت عمرؓ کو کہا، عمر! تمہیں چاہیے تھا کہ تم مجھے کہتے کہ قرض اچھی طرح ادا کرو، اور اسے کہتے کہ نرمی سے مانگو۔ غصہ مسئلے کا حل نہیں۔


پھر آپ ﷺ نے مسکرا کر اس یہودی کا قرض بھی ادا کیا اور اضافی بھی دیا(کیونکہ اسے ڈرایا گیا تھا)۔ یہودی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اخلاق دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔

اخلاقی سبق:


ان واقعات سے ہمیں 3 بڑے سبق ملتے ہیں:

خاموشی غصے کا بہترین علاج ہے۔ 

جب غصہ آئے تو زبان بند کر لیں، جگہ بدل لیں، وضو کر لیں۔ جو بات غصے میں کہی جائے گی وہ ساری زندگی کا پچھتاوا بن جائے گی۔


غصہ پینے والا سب سے طاقتور ہے: 

لوگ سمجھتے ہیں غصہ نکالنے والا طاقتور ہے، لیکن حدیث کہتی ہے کہ غصہ پی جانے والا اصل پہلوان ہے۔

نرمی سے دل جیتے جاتے ہیں:

 نبی ﷺ نے غصے سے کبھی کسی کا دل نہیں جیتا، ہمیشہ نرمی اور مسکراہٹ سے جیتا۔ آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے، ہماری بیوی، ہمارے ملازم ہماری عزت کریں، تو غصہ چھوڑ کر نرمی اختیار کرنی ہوگی۔


یاد رکھیں، غصے کا ایک منٹ آپ کی زندگی کی محبتوں کو برباد کر سکتا ہے، اور غصے پر قابو کا ایک منٹ آپ کو جنت کا وارث بنا سکتا ہے۔

بے مثال تحاریر کے دوستو: آئیں آج ہم صدقِ دل سے عہد کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر من و عن عمل کریں گے اور آئندہ حسنِ اَخلاق اور غصے پر قابو رکھیں گے تاکہ معاشرے میں ایک محبت، چاہت اور یگانگت کی فضا قائم ہو سکے 

ایسی ہی سبق آموز تحاریر کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہا کریں اور اگر کوئی تحریر پسند آئے تو اپنے عزیز و اقارب کو شیئر کریں


لکھاری: یوسف ارحم 

تبصرے