پڑوسی کے ساتھ حُسنِ اخلاق - ایک بھولی ہوئی سنت
ہمارے معاشرے کا ایک یہ بھی المیہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز رکھتے ہوئے بھی اپنے پڑوسیوں سے بلکل ناواقف ہوتے ہیں
آج ہم مسجد میں سب کے ساتھ مسکرا کر ملتے ہیں، فیس بک پر ہزاروں دوست ہیں، لیکن اپنے ساتھ والے گھر میں رہنے والے پڑوسیوں کے حال احوال کی کوئی خیر خبر نہیں۔ یہ ہے آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ۔ اسلام نے پڑوسی کو جو مقام دیا ہے، شاید ہی کسی اور مذہب نے دیا ہو۔
قرآن میں پڑوسی کا حق:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*"وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ"* (النساء)
اس آیت میں اللہ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ پڑوسی کا بھی ذکر کیا۔ دو طرح کے پڑوسی بتائے، ایک رشتہ دار پڑوسی، اور ایک اجنبی پڑوسی، دونوں کا حق ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
*"مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ"* (بخاری و مسلم)
ترجمہ: جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کرتے رہے کہ مجھے لگا کہ شاید پڑوسی کو بھی وراثت میں حصہ دار بنا دیا جائے گا۔
مسلم بخاری کی یہ ایسی حدیث ہے جس سے پڑوسی کے حقوق بخوبی واضح ہو جاتے ہیں
پڑوسی کے ساتھ نرمی، اچھے اخلاق اور نیک برتاؤ رکھنا فرض کی مانند ہے۔
اپنے پڑوسی کے گھر گاہے بگاہے کھانا وغیرہ پہنچاتے رہنا چاہیے
خود پیٹ بھر کر کھانا اور پڑوسی کو بھوکا رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ پڑوسی کی خوشی غمی میں شرکت ضرور کریں تاکہ محبت، عقیدت اور بھائی چارے کی فضاء پیدا ہو، بیمار پرسی کرنا، جنازے میں جانا اور دکھ سکھ میں شریک ہونا۔
ہدیہ و تحفہ دینا، معمولی تحفہ بھی ہو تو پڑوسی کو بھیجنا محبت بڑھاتا ہے، یہاں تک کہ غیر مسلم پڑوسی کا بھی خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
ایک اور جگہ فرمایا:
- وہ شخص مومن نہیں جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔
یعنی اگر آپ کی وجہ سے آپ کا پڑوسی پریشان ہے، آپ اونچی آواز میں میوزک چلاتے ہیں، آپ اس کے راستے میں کوڑا پھینکتے ہیں، آپ اس کی غیبت کرتے ہیں، تو آپ کا ایمان ہی مکمل نہیں۔
حدیث کے معروف راوی ابوحمزہ "سکری"، سکری کا مطلب ہے چینی والا، یا میٹھا۔ تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کو سکری اس لیے کہا جاتا تھا کہ ان کی باتیں شہد سے زیادہ میٹھی تھیں، لہجہ دلکش اور انداز گفتگو اتنا دلنشیں تھا کہ سننے والا محو ہو جاتا تھا۔
وہ بغداد کے ایک محلے میں رہتے تھے۔ ایک وقت آیا کہ تنگدستی یا کسی ضرورت کی وجہ سے انہوں نے اپنا مکان بیچنے کا ارادہ کیا اور دوسرے محلے میں جانے کا سوچا۔ خریدار سے بات تقریباً طے ہو گئی، قیمت بھی لگ گئی۔
جب محلے والوں کو پتہ چلا کہ ابوحمزہ سکریؒ ہمارا محلہ چھوڑ کر جا رہے ہیں، تو پورا محلہ پریشان ہو گیا۔ محلے کے معززین کا ایک وفد ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: حضرت! آپ ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں۔
ابوحمزہ نے اپنا عذر بیان کیا۔ تو محلے والوں نے متفقہ طور پر ایک عجیب پیشکش کی، انہوں نے کہا:
"حضرت! آپ کے مکان کی جو قیمت لگی ہے، وہی قیمت ہم آپ کو اپنی طرف سے بطور ہدیہ دے دیتے ہیں، آپ اپنا مکان اپنے پاس ہی رکھیں، بس ہمیں اپنے جیسے پڑوسی سے محروم نہ کریں۔"
یعنی مکان کی قیمت کا ہدیہ! اتنا خلوص دیکھ کر ابوحمزہ سکریؒ نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور اسی محلے میں رہنے لگے۔
یہ کیوں ہوا؟
یہ حسن اخلاق اور حقوق العباد کا نتیجہ تھا
آج ہم کیا کرتے ہیں؟
آج ہماری حالت یہ ہے کہ اگر پڑوسی کی دیوار سے ہمارا پودا لگ جائے تو لڑائی۔ اگر اس کے بچے کی گیند ہمارے گھر آ جائے تو ہم واپس نہیں دیتے۔ ہم نے اپنے گھروں کے گرد اتنی اونچی دیواریں بنا لی ہیں کہ پڑوسی بھوکا ہے یا پیاسا، ہمیں خبر ہی نہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ"
وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر سو جائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
اخلاقی سبق
پڑوسی کا حق بہت بڑا ہے۔ اپنے پڑوسی کا خیال رکھیں۔ کبھی سالن بنا ہے تو ایک پیالہ اسے بھی بھیج دیں۔ یہ سنت ہے۔
اپنے پڑوسی کو اپنی زبان اور ہاتھ سے تکلیف نہ دیں۔ اونچی آواز، گانے، گالیاں، یہ سب پڑوسی کے حقوق کے خلاف ہیں۔
اگر آپ کا پڑوسی آپ کو تکلیف دیتا بھی ہے، تو صبر کریں اور اسے معاف کر دیں، جیسا کہ نبی ﷺ نے کیا۔ ہو سکتا ہے آپ کے صبر سے وہ ہدایت پا جائے۔
ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے کہ گھر چاہے چھوٹا ہو، لیکن دل بڑا رکھو اور پڑوسی کو اپنا بھائی سمجھو۔ یہی وہ بھولی ہوئی سنت ہے جسے ہمیں دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
ہمیں حسن اخلاق اور پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق محتاط رہنا چاہیے
اللہ پاک ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ کی تعلیمات پر من و عن عمل کرنے اور اس کو لوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین
لکھاری: یوسف ارحم

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں