جلوت میں عیسیٰ اور خلوت میں یحییٰ
ہنسنے اور رونے کا معیار
اللہ تعالیٰ نے انسانی چہرے کو عجیب اسرار کا مجموعہ بنایا ہے۔ اسی چھوٹے سے چہرے پر کبھی خو
شی کے پھول کھلتے ہیں تو کبھی غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ آنکھ ایک ہی ہے، کبھی وہی آنکھ خوشی سے چمک اٹھتی ہے اور کبھی اسی آنکھ سے غم کے آنسو بہہ نکلتے ہیں۔ ہونٹ ایک ہی ہیں، کبھی انہی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجتی ہے اور کبھی انہی پر آہ و بکا کا پہرہ ہوتا ہے۔
یہ ہنسنا اور رونا محض عادتیں نہیں، یہ انسان کے دل کی کھڑکیاں ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ دل کے اندر کیا ہے؟ امید ہے یا مایوسی؟ خوف ہے یا غفلت؟
دنیا نے ہنسنے اور رونے کے اپنے معیار بنا رکھے ہیں۔ دنیا کہتی ہے جس چیز سے تمہیں فائدہ پہنچے اس پر ہنسو، اور جس سے نقصان ہو اس پر روؤ۔ دنیا کی نظر میں ہنسی کامیابی کی علامت ہے اور رونا ناکامی کی۔
لیکن انبیاء کی دنیا کا معیار بالکل الگ تھا۔ وہاں ہنسی اور آنسو کا تعلق دولت یا غرض سے نہیں، دل سے تھا۔ وہاں ہنسی اللہ کی رحمت کی امید پر ہوتی تھی اور رونا اس کے قہر کے خوف سے۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں تھا کہ کتنا ہنسنا ہے، بلکہ یہ تھا کہ کہاں ہنسنا ہے اور کہاں رونا ہے؟ کس کے سامنے ہنسنا ہے اور کس کے سامنے رونا ہے؟
اس باریک فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں دو ہم عصر نبیوں،حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کی اس تاریخی ملاقات کی طرف لوٹنا پڑے گا، جس میں اللہ تعالیٰ نے خود ہنسنے اور رونے کا ابدی معیار مقرر فرما دیا۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی حضرت زکریا علیہ السلام کے فرزند تھے۔ قرآن نے آپ کو حصور اور سید کے لقب سے یاد کیا ہے اور فرمایا وآتیناہ الحکم صبیا یعنی ہم نے بچپن ہی میں آپ کو حکمت عطا کر دی۔ آپ بچپن سے ہی دنیا سے بے رغبت، جنگلوں میں رہنے والے اور اللہ کے خوف میں رونے والے تھے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے ہیں جو اللہ کے حکم کن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ آپ بنی اسرائیل کے لیے ایک عظیم نشانی بن کر آئے۔
ان دونوں حضرات کا آپس میں گہرا خاندانی رشتہ بھی ہے۔
اس حوالے سے مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام آپس میں خالہ زاد تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کی جو خالہ تھی، وہ حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی تھی۔ اس بنا پر حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم کے خالو تھے۔
دونوں ہم عصر تھے لیکن دونوں کے مزاج میں بڑا فرق تھا۔
ان کے مزاج کا فرق:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مزاج کثیر التبسم تھا، یعنی آپ اکثر مسکراتے رہتے تھے۔ آپ کا چہرہ رحمت اور امید کا مظہر تھا۔ آپ بیماروں کو شفا دیتے، دلوں کو تسلی دیتے اور لوگوں کو اللہ کی رحمت کی امید دلاتے تھے۔
اس کے برعکس حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مزاج کثیر البکاء تھا، یعنی آپ اکثر روتے رہتے تھے۔ کثرت گریہ سے آپ کے رخساروں پر آنسوؤں کے نشانات بن گئے تھے۔ آپ ہر وقت اللہ کے خوف اور آخرت کی فکر میں ڈوبے رہتے تھے۔
ایک قصہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ ان دونوں کی آپس میں ملاقات ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اے یحییٰ، کیا تم اللہ کی رحمت سے بالکل نا امید ہو گئے ہو کہ تمہارا رونا ختم ہی نہیں ہوتا۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا، اے عیسیٰ، کیا تم اللہ کے قہر اور اس کی خفیہ تدبیر سے بالکل مامون ہو گئے ہو کہ تمہیں ہر وقت ہنسی ہی آتی رہتی ہے۔
دونوں نبیوں کا سوال اپنی جگہ پر حق تھا۔ ایک اللہ کی رحمت کا نمائندہ تھا اور دوسرا اس کے خوف کا۔ اسی وقت اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے اللہ کا فیصلہ سنایا۔
فرشتے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
اے عیسیٰ، تم جلوت میں، یعنی لوگوں کے سامنے ایسے ہی مسکراتے رہو جیسے اب رہتے ہو، لیکن خلوت میں، یعنی تنہائی میں جب میرے سامنے آؤ تو بچے کی طرح گریہ و زاری کیا کرو۔
اور اے یحییٰ، تم خلوت میں تو ایسے ہی روتے رہو جیسے اب رہتے ہو، لیکن جلوت میں، لوگوں کے سامنے کچھ تبسم بھی کر لیا کرو تاکہ لوگ میری رحمت سے مایوس نہ ہو جائیں کہ جب نبی کا یہ حال ہے تو ہماری نجات کی کیا امید ہے۔
یہ روایت وعظ تفضیل الاعمال میں نقل ہوئی ہے۔
اصل معیار کیا نکلا:
اس واقعے سے ہمارے علماء نے ہنسنے اور رونے کا جو معیار نکالا ہے وہ بہت ہی خوبصورت اور متوازن ہے۔ اسے دین کی زبان میں خوف اور رجاء کے درمیان زندگی کہتے ہیں۔
ہمارا دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ لوگوں کے سامنے ہمیشہ عیسیٰ بن کر رہو۔ جب لوگوں میں جاؤ تو مسکراؤ، سلام میں پہل کرو، کسی غمزدہ کو تسلی دو، کسی مایوس کو اللہ کی رحمت کی امید دلاؤ۔ تمہاری مسکراہٹ کسی کا دل جوڑ سکتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ ہر وقت لوگوں کے سامنے رونا، شکوے کرنا اور مایوسی پھیلانا مومن کا طریقہ نہیں۔ لوگوں کے سامنے ایسا رویہ اختیار کرنا کہ لوگ تمہیں دیکھ کر اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں، یہ نبی کے مزاج کے خلاف ہے۔
لیکن جب تم تنہائی میں ہو، جب رات کا تیسرا پہر ہو، جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو سوائے اللہ کے، تو
وہاں یحییٰ بن جاؤ۔ وہاں اپنے گناہوں کو یاد کر کے روؤ۔ وہاں دنیا کی ہنسی ختم کر کے اللہ کے سامنے بچے کی طرح گڑگڑاؤ۔ جو آنسو تنہائی میں اللہ کے خوف سے نکلتا ہے، وہ جہنم کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ سات قسم کے لوگ عرش کے سائے میں ہوں گے، ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔
آج ہمارا معاملہ اس کے بالکل الٹ ہو چکا ہے۔ ہم محفل میں تو سب کے سامنے ہنستے ہیں، خوش نظر آتے ہیں، لیکن تنہائی میں اللہ کو بھول جاتے ہیں۔ اور بعض لوگ اس کے برعکس محفل میں ہر وقت روتے ہیں، مایوسی کی باتیں کرتے ہیں اور تنہائی میں ہنسی مذاق اور گناہوں میں لگے رہتے ہیں۔
یاد رکھو، کامیاب انسان وہ ہے جو جلوت میں تبسم اور خلوت میں گریہ کو اپنا معمول بنا لے۔ لوگوں کے لیے مسکراہٹ اور اپنے رب کے لیے آنسو۔ یہی وہ توازن ہے جس پر انبیاء کی زندگی قائم تھی۔ جس دل میں اللہ کی رحمت کی امید بھی ہو اور اس کے قہر کا خوف بھی، وہی دل اللہ کا پسندیدہ دل بن جاتا ہے۔
لکھاری یوسف ارحم

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں