زبان کی حفاظت، سلف صالحین کا طرزِ عمل





سلف صالحین فضول کلام ناپسند کرتے تھے

 حفظِ زبان کی اہمیت

زبان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس زبان کے ذریعے ہی انسان یا تو عزت و سرفرازی حاصل کرتا ہے یا ذلت و رسوائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسلام نے زبان کی حفاظت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اور ہر مسلمان کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے صرف بھلی، حق اور فائدہ مند بات ہی نکالے۔ سلف صالحین کا معمول تھا کہ وہ فضول اور لغو کلام سے سخت پرہیز کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہر بات کو فرشتہ لکھ رہے ہیں اور قیامت کے دن اس کا حساب لیا جائے گا۔

آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور بے فائدہ گفتگو عام ہو چکی ہے، ہمیں سلف صالحین کے طرزِ عمل کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔

سلف صالحین کا طرزِ عمل

سلف صالحین رحمہم اللہ نے اپنی زندگیاں خاموشی اور ذکرِ الہی میں گزاریں۔ وہ فضول بات کو وقت کا ضیاع اور دل کی سختی کا سبب سمجھتے تھے۔ کانوا یطولون الصمت یعنی سلف خاموشی کو طول دیتے اور کم کلام کرتے تھے۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر تمہیں بات کرنی ہو تو سوچو، اگر وہ خیر ہے تو بولو ورنہ خاموش ہو جاؤ۔

امام عطاء بن ابی رباح (114ھ) کا قول

امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ تابعین کے مشہور عالم اور فقیہ جو 114 ہجری میں وفات پاگئے۔ وہ اپنی خاموشی، زہد اور تقویٰ کے لیے مشہور تھے۔ کتاب الصمت لابن ابی الدنیا، صفحہ 81 میں روایت ہے کہ فرمایا: سلف صالحین فضول کلام ناپسند کرتے تھے، اور ان کے نزدیک تلاوتِ قرآن اور نیکی کا حکم دینے کے علاوہ ہر بات فضول شمار ہوتی تھی۔

وہ کہا کرتے تھے کہ فضول کلام دل کو سخت کر دیتا ہے، یادِ الہی سے غافل کر دیتا ہے۔ ان کا معمول تھا کہ وہ کئی دن خاموش رہتے، اور جب بولتے تو صرف علم کی بات، نصیحت یا قرآن کی تلاوت کرتے۔

قرآن کریم میں زبان کی حفاظت کی تعلیم

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زبان کے استعمال کے بارے میں تنبیہات دی ہیں۔ سورۃ ق میں ارشاد فرمایا: (سورۃ ق: 18) ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید یعنی انسان جو بھی کلام کرتا ہے اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے، فرشتہ اس کی نگرانی پر مامور ہے۔

سورۃ الحجرات میں ارشاد ہے: یا ایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن... (الحجرات: 12) یعنی گمان، غیبت اور فضول باتوں سے اجتناب کرو۔

سنت نبوی ﷺ میں زبان کی حفاظت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیرا او لیصمت (صحیح بخاری 6018، صحیح مسلم 47) یعنی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ یا تو بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔

ایک اور حدیث میں فرمایا: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (بخاری) یعنی کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

فضول کلام کے نقصانات

دل میں سختی اور غفلت پیدا ہوتی ہے۔
وقت ضائع ہوتا ہے اور قیامت میں حسرت کا باعث بنے گا۔
غیبت، جھوٹ، چغلی اور فتنہ کا دروازہ کھلتا ہے۔
ذکر و عبادت سے دل دور ہو جاتا ہے۔
اخلاقی زوال اور بے حیائی کی باتیں عام ہو جاتی ہیں۔

مفید کلام کیا ہے؟

مفید کلام وہ ہے جس میں خیر ہو، جو اللہ کو پسند ہو اور فائدہ مند ہو۔
زبان کو ذکر اللہ، استغفار اور درود شریف سے تر رکھیں۔
لغو محفل اور بیکار بحثوں سے خود کو دور رکھیں۔
خاموشی کو عبادت سمجھیں، جیسا کہ سلف صالحین کرتے تھے۔
.سوشل میڈیا پر بھی صرف حق اور بھلی بات کریں، ورنہ خاموش رہیں.

آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور بے فائدہ گفتگو عام ہو چکی ہے، ہمیں سلف صالحین کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔ ہماری زبان یا تو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن سکتی ہے صرف قرآن کی تلاوت، ذکر اور نیکی کی دعوت کے لیے استعمال کرو۔

جب تک انسان کو شعور نہ آئے اس وقت تک منہ کو صرف کھانے پینے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ درحقیقت یہ شعور ہی طے کرتا ہے کہ کب 
 بولنا ہے، کتنا بولنا ہے اور کہاں خاموشی اختیار کرنی ہے۔۔۔؟ المختصر یہ کہ کم گوئی میں ہر لحاظ سے خیر ہے 

اللہ ہمیں حفظِ زبان عطا فرمائے اور ہمیں سلف صالحین کے راستے پر چلائے۔ آمین۔

حوالہ جات:
قرآن کریم: سورۃ ق آیت 18، سورۃ الحجرات آیت 12، سورۃ لقمان آیت 19 | صحیح بخاری 6018، صحیح مسلم 47 | الصمت لابن ابی 
الدنیا، ص 81 - امام عطاء بن ابی رباح 114ھ

لکھاری یوسف ارحم 

تبصرے