بچوں کی تعلیم پر نظر رکھنا - والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری
آج ہمارے معاشرے میں ایک عام سوچ بن گئی ہے کہ بچے کو اچھے سکول میں داخل کرا دیا، مہنگی فیس دے دی، اچھا ٹیوٹر رکھ دیا یا مسجد میں قاری صاحب کے پاس بٹھا دیا تو بس ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی۔ لیکن ہمارے سلف صالحین کا مزاج اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ بچہ صرف کتاب سے نہیں سیکھتا، وہ استاد کے لہجے، اس کی باتوں، اس کے مزاج اور اس کی ترجیحات سے بھی سیکھتا ہے۔
اسی لیے وہ استاد کے انتخاب میں جتنی سختی کرتے تھے، اتنی ہی نظر اس پر بھی رکھتے تھے کہ وہ بچوں کو سکھا کیا رہا ہے۔
اولاد کو آگ سے بچانا صرف روٹی کپڑا نہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
*﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ﴾*
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔" (سورۃ التحریم: 6)
اس آیت کی تفسیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
*"عَلِّمُوهُمْ وَأَدِّبُوهُمْ"*
"انہیں علم سکھاؤ اور ادب سکھاؤ۔" (تفسیر الطبری: 23/491)
یعنی بچوں کو آگ سے بچانا صرف یہ نہیں کہ انہیں حرام سے روک دیا جائے، بلکہ انہیں وہ علم اور وہ ادب دینا ہے جو انہیں جہنم سے دور لے جائے۔ اور علم و ادب تب ہی آئے گا جب سکھانے والا خود باادب ہوگا۔
جب قرآن پڑھانے والے کو بھی ہٹا دیا گیا
امام ابو جعفر خطمی بیان کرتے ہیں:
*"أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبٍ كَانَ لَهُ مَوْلًى يُعَلِّمُ بَنِيهِ الْقُرْآنَ وَالْكِتَابَ، فَجَعَلَ يُذَاكِرُهُمُ النِّسَاءَ وَالدُّنْيَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا زِيَادُ، لَقَدْ ظَلَّلْتَ عَلَى بَنِيَّ قُبَّةَ الشَّيْطَانِ، اكْشِطُوهَا."*
"سیدنا عمیر بن حبیب رضی اللہ عنہ کا ایک آزاد کردہ غلام تھا جو ان کے بیٹوں کو قرآن اور لکھنا پڑھنا سکھاتا تھا۔ وہ ان سے عورتوں اور دنیا کی باتیں کرنے لگا، تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے زیاد! تم نے میرے بیٹوں پر شیطان کا خیمہ تان دیا ہے، اسے اکھاڑ پھینکو۔" (مصنف ابن ابی شیبہ: 38326)
غور کریں! استاد قرآن پڑھا رہا ہے، یہ کوئی عام مضمون نہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ بچوں کے ذہن میں عورتوں کی باتیں، دنیا کی لذتوں اور فضول قصوں کا زہر بھی ڈال رہا ہے۔ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے اسے برداشت نہیں کیا۔ انہوں نے کہا یہ تعلیم نہیں، یہ شیطان کا خیمہ ہے جو تم میرے بچوں کے معصوم ذہنوں پر لگا رہے ہو۔
آج ہمارا کیا حال ہے؟ ہم بچے کو ٹیوشن سینٹر میں چھوڑ آتے ہیں، ہمیں نہیں پتہ وہاں استاد کس قسم کی گفتگو کرتا ہے۔ ہم بچے کو یوٹیوب کے حوالے کر دیتے ہیں، وہاں کون سا خیمہ اس کے ذہن پر لگ رہا ہے، ہمیں خبر ہی نہیں۔
استاد پہلے اپنی اصلاح کرے
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھائی عتبہ بن ابی سفیان نے اپنے بچوں کے استاد ابو عبد الصمد کو بڑی قیمتی نصیحت کی۔ انہوں نے فرمایا:
*"لِيَكُنْ أَوَّلَ إِصْلَاحِكَ بَنِيَّ إِصْلَاحُكَ نَفْسَكَ، فَإِنَّ عُيُوبَهُمْ مَعْقُودَةٌ بِعَيْبِكَ، الْحَسَنُ عِنْدَهُمْ مَا صَنَعْتَ، وَالْقَبِيحُ عِنْدَهُمْ مَا اسْتَقْبَحْتَ... جَنِّبْهُمُ النِّسَاءَ، وَاشْغَلْهُمْ بِسِيَرِ الْحُكَمَاءِ."*
"میرے بیٹوں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کرنا، کیونکہ ان کے عیب تمہارے عیب سے بندھے ہوئے ہیں۔ ان کی نظر میں اچھا وہی ہوگا جو تم کرو گے، اور برا وہی جسے تم برا سمجھو گے... انہیں عورتوں کی باتوں سے دور رکھنا، اور داناؤں کی سیرتوں میں مشغول رکھنا۔" (النفقہ علی العیال: 341)
یہ ایک سنہری اصول ہے۔ بچہ وہ نہیں سنتا جو آپ کہتے ہیں، بچہ وہ کرتا ہے جو آپ کرتے ہیں۔ اگر استاد خود سگریٹ پیتا ہے، گالی دیتا ہے، موبائل پر فحش چیزیں دیکھتا ہے، تو وہ لاکھ نصیحت کرے بچے پر اثر نہیں ہوگا۔ بچے کی نظر میں اچھا وہی ہوگا جو استاد خود کرے گا۔
اس لیے فرمایا کہ انہیں حکیموں اور داناؤں کی سیرتوں میں مشغول رکھو۔ آج ہم بچوں کو کس کی سیرت سنا رہے ہیں؟ ٹک ٹاکر کی؟ فلم سٹار کی؟ جبکہ انہیں صحابہ، علماء اور سچے ہیروز کی کہانیاں سنانی چاہئیں۔
استاد کیسا ہونا چاہیے؟ فقہاء کا معیار
علامہ ابن عرفہ مالکی رحمہ اللہ (803ھ) معلم کے انتخاب کے بارے میں ایک بہت باریک نکتہ بیان کرتے ہیں:
*"وَيَكْتَفِي فِي إِبَاحَةِ انْتِصَابِهِ بِسِتْرِ الْحَالِ لِلْمُتَزَوِّجِ، وَيَسْأَلُ عَنْ غَيْرِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ عَنْهُ إِلَّا الْعَفَافَ أُبِيحَ لَهُ، وَيَمْنَعُ مَنْ يُتَحَدَّثُ عَنْهُ بِسُوءٍ مُطْلَقًا، وَبِهَذَا جَرَى الْعَمَلُ، وَهُوَ الْحَقُّ."*
"شادی شدہ معلم کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس کا ظاہری حال اچھا ہو۔ غیر شادی شدہ کے بارے میں چھان بین کی جائے، اگر اس کے بارے میں پاکدامنی کے سوا کچھ نہ سنا جائے تو اسے اجازت ہے۔ اور جس کے بارے میں کوئی بری بات مشہور ہو، اسے بالکل روک دیا جائے۔ اسی پر عمل رہا ہے اور یہی حق ہے۔" (المختصر الفقہی: 8/208)
اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے فقہاء استاد کے کردار کے بارے میں کتنے حساس تھے۔ آج ہم ڈگری دیکھتے ہیں، انگلش بولنا دیکھتے ہیں، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی خلوت کیسی ہے، اس کی نظریں کیسی ہیں۔
آج کا سب سے بڑا استاد - موبائل
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کے دور میں شیطان کا خیمہ ایک شخص تھا جو زبان سے غلط باتیں کرتا تھا۔ آج شیطان کا خیمہ ہر بچے کی جیب میں ہے۔ موبائل، یوٹیوب، گیمز اور سوشل میڈیا اس دور کے سب سے بڑے استاد بن گئے ہیں۔
بچہ وہاں سے کیا سیکھ رہا ہے؟ گالیاں، فحاشی، ناچ گانا، پیسے کا لالچ، اور والدین کی نافرمانی۔ اور ہم مطمئن ہیں کہ بچہ گھر میں ہے، باہر نہیں گیا۔ حالانکہ وہ گھر بیٹھے سب سے بری صحبت میں ہے۔
والدین کے لیے عملی نصیحتیں:
*1. نگرانی کریں، جاسوسی نہیں:* بچے کو اعتماد میں لیں۔ روزانہ نرمی سے پوچھیں، آج استاد نے کیا پڑھایا؟ آج کیا نئی بات سیکھی؟
*2. استاد سے تعلق رکھیں:* مہینے میں ایک بار سکول جا کر یا قاری صاحب سے مل کر پوچھیں کہ بچے کا اخلاق کیسا ہے، صرف نمبر نہ پوچھیں۔
*3. سکرین کا متبادل دیں:* بچے سے موبائل چھیننا حل نہیں، اسے اس سے بہتر متبادل دینا حل ہے۔ اچھی کتابیں، اچھے قصے، کھیل کا وقت۔
*4. خود رول ماڈل بنیں:* آپ جو چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ بنے، پہلے خود ویسے بن کر دکھائیں۔
یاد رکھیں، بچپن میں ذہن پر جو سایہ پڑ جائے، وہ ساری عمر ساتھ رہتا ہے۔ اگر آج ہم نے شیطان کا خیمہ نہ اکھاڑا، تو کل یہی خیمہ ہمارے بڑھاپے پر آنسو بن کر برسے گا۔
خدارا اپنے بچوں کی پہلے خود تربیت کریں اس کے بعد اساتذہ کے حوالے کریں اور آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو موبائل کے رحم و کرم پر کسی صورت بھی نہ چھوڑیں ورنہ آپ کے آنے والی نسلوں کا وہ نقصان ہوگا جس کا ازالہ آپ رہتی دنیا تک نہیں کر پائیں گے
اللہ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی توفیق دے۔ آمین۔
لکھاری: یوسف ارحم

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں