تنہائی کی موت(ایک اور سانحہ)

 



میری انا نے مجھ کو لب بام........مات دی 

میں چل کرپاس پہنچا نہ ساحل قریب آیا 


ایک اور سانحہ منظر عام پر آ گیا ہے 

بڑھاپے میں ایک اور شخص کو تنہائی کے زہر نے ڈس لیا 

یہ تصویر چکوال شہر کے محلہ زمرد ٹاؤن کے 

رہائشی خورشید بابر کی ہے جن کی عمر چونسٹھ برس تھی۔ خورشید بابر ایئر فورس سے ریٹائرڈ تھے۔ 

قدرت نے انہیں چار بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ 

بیٹیاں چکوال ہی میں شادی شدہ ہیں جبکہ بیٹا 

روزگار کی خاطر بیرونِ ملک مقیم ہے۔ 


گزشتہ پندرہ برس سے خورشید بابر اور ان کی اہلیہ کے درمیان ناراضگی چل رہی تھی اور ناراضگی ایسی تھی کہ پچھلے پندرہ سال سے آپس میں بول چال بند تھی۔ گراؤنڈ فلور پر بیوی اکیلی رہتی تھیں اور فرسٹ فلور پر خورشید بابر اکیلے رہتے تھے۔ گھر کے مین گیٹ کے ساتھ چھوٹا دروازہ لگا ہوا ہے جو پہلی منزل کی سیڑھیوں کے آگے ہے۔ خورشید بابر اسی چھوٹے دروازے سے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں آتے تھے۔ 

پولیس کے ایک افسر نے "تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی دنوں سے خورشید بابر کا ایک داماد ان سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس داماد نے خورشید بابر کے ایک نواسے کو انہیں دیکھنے کے لیے بھیجا۔ نواسہ کل شام جب اپنے نانا کو دیکھنے گیا تو سیڑھیوں کے ساتھ لگا دروازہ اندر سے بند تھا۔ 

وہ پڑوسیوں کے گھر کی چھت سے اپنے نانا کے گھر کی پہلی منزل پر پہنچا۔ پہلی منزل کو بدبو نے لپیٹ رکھا تھا۔ بچے نے شور مچایا۔ پولیس کو بلایا گیا۔ پولیس کے ایک افسر کے مطابق خورشید بابر کے کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ جب وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو پنکھا چل رہا تھا جبکہ کمرے کی لائٹ بھی جل رہی تھی۔ خورشید بابر کی مسخ شدہ لاش چارپائی پر پڑی تھی۔ جسم پر قمیض نہیں تھی۔ پیٹ سوجا ہوا تھا۔ لاش کو دیکھ کر لگتا تھا کہ خورشید بابر چارپائی پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اسی حالت میں پیچھے گرے اور فوت ہو گئے۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا تھے۔ پولیس کے ایک افسر نے چونکا دینے والا انکشاف یہ کیا کہ خورشید بابر کی لاش لگ بھگ پندرہ دن پرانی تھی۔ 

کراچی میں اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ملی تھی ، جو سات آٹھ ماہ پرانی تھی۔ پھر کراچی سے مشہور اداکارہ عائشہ خان کی لاش بھی سات آٹھ دن پرانی ملی۔ فروری میں چکوال کے گاؤں گھگھ میں جبین بی بی کی لاش بھی ملی تھی ، جو سات آٹھ دن پرانی تھی۔


معاشرہ بے حسی ، بیگانگی اور لاپرواہی کی دلدل میں کس سرعت کے ساتھ دھنستا جا رہا ہے ، اس کا اندازہ ہمیں مندرجہ بالا واقعات سے ہو جانا چاہیے۔ تنہائی کا زہر تو بھرے گھر میں ذرا سی مختلف سوچ رکھنے والے کو چاٹ جاتا ہے ، بڑھاپے میں تو یہ زہر اور بھی مہلک بن جاتا ہے اوپر سے معاشرتی قدغنوں کا بوجھ پچھلی عمر میں لوگوں کو اپنے لیے کوئی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔  

خورشید بابر اور ان کی اہلیہ پندرہ سال تک ایک دوسرے سے ناراض تھے لیکن علیحدگی بھی نہیں تھی۔ یہ ایک مثال وہ ہے جو سامنے آئی ہے، اس طرح کی کہانیاں اب ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔

میرا مشاہدہ ہے کہ شوبز انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کی زندگی کا اختتام بہت دکھ بھرا بہت بھیانک ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی جوانی، خوبصورتی اور شہرت کے چرچے ہر طرف ہوتے ہیں۔ ہر محفل میں ان کا ذکر ہوتا ہے، اور لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن جب ان کی زندگی کے آخری لمحات آتے ہیں، تو اکثر تنہائی، بیماری اور کرب ان کا مقدر بن جاتے ہیں۔

یہ حقیقت ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ شہرت، حسن اور دولت سب عارضی چیزیں ہیں۔ اصل دولت تقویٰ، نیکی اور اللہ کی رضا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں میں عاجزی پیدا کریں، اور زندگی کے اس سفر میں خدا کو یاد رکھیں۔

جو فنکار آج زندہ ہیں، ان کے لیے بھی یہی پیغام ہے کہ وقت رہتے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں اور اس دنیا کی چکاچوند سے دل نہ لگائیں۔ کیونکہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔

تنہائی کی موت کی وجوہات اور حل۔۔۔۔۔۔

تنہائی کی موت ایک ایسی کیفیت ہے جس میں لوگ اپنے آپ میں گم ہو جاتے ہیں اور معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارتے ہیں۔ یہ ایک بری کیفیت ہے جو ہمارے معاشرے میں بڑھتی جا رہی ہے، اور اس کے کئی وجوہات ہو سکتے ہیں، جیسے کہ:

تنہائی کا احساس: جب لوگ اپنے پیاروں سے دور ہوتے ہیں یا ان کا ساتھ نہیں ملتا، تو وہ تنہائی کے احساس سے گزرتے ہیں۔

- ذہنی صحت کے مسائل: ڈپریشن، اینگزائٹی اور دوسرے ذہنی صحت کے مسائل بھی تنہائی کے احساس کو بڑھا سکتے ہیں۔

- معاشرتی تنہائی: جب لوگ اپنے معاشرے سے کٹ جاتے ہیں اور ان کے پاس دوست یا خاندان نہیں ہوتے، تو وہ تنہائی کی کیفیت میں پہنچ جاتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل کرنے کے لیے، ہمیں کئی اقدامات اٹھانے ہوں گے، جیسے کہ:

- معاشرتی تعلقات بنانا: ہمیں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ تعلقات بنانے اور انہیں وقت دینے کی ضرورت ہے۔

- ذہنی صحت کی مدد: ہمیں اپنے ذہنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور کسی بھی مسئلے کے وقت میں ماہر کی مدد لینی چاہیے۔

- اجتماعی سرگرمیاں: ہمیں اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے اور نئے لوگوں سے ملنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اگر آپ تنہائی کی کیفیت میں ہیں، تو آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ اس میں اکیلے نہیں ہیں۔ آپ اپنے خاندان اور دوستوں سے بات کر سکتے ہیں یا کسی مشیر کی مدد لے سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...