چھوٹی اور بڑی مکھی کے شہد میں فرق

 

شہد کی کوالٹی 

پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آپ کسی کو ایکسرے دیں تو سیدھا روشنی کی جانب اٹھا کر دیکھنے لگ جاتا ہے حالانکہ پتہ اس کو کوئی نہیں ہوتا. اسی طرح نا چھوٹی مکھی پہچانتا ہے اور نا بڑی مکھی، اور نا ایک ہزار میں سے دو بندے شہد میں فرق کر سکتے ہیں کہ کس مکھی کا ہے پر پوچھتے لازمی ہیں کہ یہ بڑی مکھی کا ہے یا چھوٹی مکھی کا؟

اسی طرح پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لوگ پھول اور

لوکیشن کی بجائے پوچھتے ہیں کہ یہ شہد کس مکھی کا ہے؟

سردی آتے ہی پاکستان میں انسان کم اور شہد فروش زیادہ ہو جاتے ہیں. ہر دوسرا بندہ خالص شہد بیچتا نظر آرہا ہے. جہاں مکھیاں ختم ہو رہی ہیں، وہاں شہد زیادہ ہونے لگا ہے. بالخصوص جنگلی شہد کے نام پر دھوکہ بیچا جاتا ہے. 5 6 چھتے دکھا دئے جاتے ہیں جن سے بمشکل 4 کلو شہد بھی نہیں نکلتا اور آپ کو منوں کے حساب سے دیا جاتا ہے.

آئیے، آج حقیقت سے روشناس ہو جائیں....... 

بڑی مکھی اور چھوٹی مکھی کے شہد میں غذائیتی فرق، حقیقت یا افواہ؟

 کیا بڑی مکھی اور چھوٹی مکھی کے شہد میں غذائیتی فرق ہوتا ہے؟

نہیں، اگر دونوں مکھیاں ایک ہی پھول کے رس (nectar) سے شہد بنائیں تو ان کے شہد میں غذائیتی اعتبار سے کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔ شہد کی غذائیت کا انحصار مکھیاں کتنی بڑی یا چھوٹی ہیں، اس پر نہیں بلکہ اس پھول پر ہوتا ہے جس سے وہ رس اکٹھا کرتی ہیں۔

شہد میں موجود قدرتی شکر (فرکٹوز، گلوکوز)، معدنیات، وٹامنز اور خوشبودار مرکبات کا تعلق پھول کے نیکٹر سے ہوتا ہے۔ اس لیے ایک ہی پھول کا رس ہو تو چاہے وہ چھوٹی مکھی (Apis florea یا Apis cerana) جمع کرے یا بڑی مکھی (Apis dorsata یا Apis mellifera) شہد کی بنیادی غذائیت تقریباً ایک جیسی رہتی ہے۔

 پھر چھوٹی اور بڑی مکھی کے شہد میں فرق کہاں سے آتا ہے؟

فرق صرف ظاہری خصوصیات میں ہو سکتا ہے، جیسے کہ ذائقہ، رنگ یا خوشبو۔

چھوٹی مکھیاں اکثر جنگلی علاقوں کے پھولوں سے رس لاتی ہیں، اس لیے ان کے شہد میں خوشبو یا ذائقہ نسبتاً تیز ہوتا ہے۔ بڑی مکھیاں جن کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، وہ جنگل سمیت عام طور پر کاشت شدہ فصلوں سے بھی رس اکٹھا کرتی ہیں، جس سے شہد کا ذائقہ ہلکا محسوس ہوتا ہے۔

یہ فرق صرف صرف sensory نوعیت کا ہے، غذائیتی لحاظ سے نہیں۔ یعنی صحت کے فائدے، وٹامنز یا معدنی اجزاء میں نمایاں فرق یا کوئی فرق نہیں ہوتا۔

 یہ خیال کہاں سے پھیلا کہ چھوٹی مکھی کا شہد زیادہ فائدہ مند ہے؟

یہ تصور زیادہ تر من گھڑت اور تجارتی بنیادوں پر پھیلایا گیا ہے۔

بعض لوگ اور دکاندار "جنگلی چھوٹی مکھی کا شہد" کے نام پر زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ اس میں زیادہ طاقت یا فائدہ ہے۔

درحقیقت یہ ایک مارکیٹنگ چال ہے۔ سائنسی لحاظ سے کوئی بھی مستند تحقیق ایسی نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ چھوٹی مکھی کا شہد بڑی مکھی کے شہد سے زیادہ غذائیتی یا طبی لحاظ سے بہتر ہے۔

پاکستان میں اس غلط فہمی سے صارفین کو کیسے نقصان پہنچایا جا رہا ہے؟

پاکستان میں بعض بیچنے والے "چھوٹی مکھی کے شہد" کے نام پر صارفین کو زیادہ قیمت پر عام شہد فروخت کرتے ہیں۔

کچھ لوگ مصنوعی طور پر شہد کا رنگ یا خوشبو بدل کر اسے "جنگلی" یا "دوائیوں والا" شہد قرار دیتے ہیں۔

یہ طریقہ دراصل صارفین کے اعتماد سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ شہد کی اصل پہچان اس کے پھول کے ماخذ اور خالص ہونے سے ہوتی ہے، نہ کہ مکھی کے سائز یا نام سے۔

 صارفین کے لیے کیا مشورہ ہے؟

صارفین کو چاہیے کہ وہ خریداری سے پہلے چند باتوں پر ضرور غور کریں:

1. پھول یا علاقے کا ماخذ پوچھیں. معلوم کریں کہ شہد کس پودے یا علاقے سے حاصل کیا گیا ہے۔

2. بڑھا چڑھا کر کیے گئے دعووں پر یقین نہ کریں "دوائیوں والا شہد"، "پہاڑی شہد" یا "چھوٹی مکھی والا شہد" جیسے الفاظ اکثر خریدار کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

3. قابلِ اعتماد ماخذ سے خریدیں. ایسے بیچنے والے سے شہد خریدیں جو اپنی ساکھ اور تجربے سے پہچانا جاتا ہو، اور جس کے پاس سائنسی بنیاد پر تصدیق شدہ شہد موجود ہو۔

مختصراً، یہ کہنا درست نہیں کہ چھوٹی مکھی کا شہد بڑی مکھی کے شہد سے زیادہ غذائیتی یا مفید ہوتا ہے۔ اگر دونوں ایک ہی پھول کے رس سے شہد تیار کریں تو ان کی غذائی ساخت میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں پایا جاتا۔ یہ محض ایک تجارتی افواہ ہے جس سے فائدہ اٹھا کر غیر ذمہ دار لوگ صارفین کو لوٹتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ شہد کی اصل خوبی اس کے منبعِ رس (flower source) میں چھپی ہے، نہ کہ مکھی کے سائز میں۔

آپ صرف بڑی مکھی کا شہد مانگنا شروع کریں، قیمتیں خود نیچھے آجائیں گی.


والسلام 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...