بچوں کو ذمے داری سکھائیں

 


اپنے بچوں کو ذمے دار بنانے کے طریقے

بچوں کو ذمے دار بنانا ایک اہم ذمہ داری ہے جو والدین کو نبھانی چاہئے۔ ذیل میں کچھ طریقے دیئے گئے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے بچوں کو ذمے دار بنا سکتے ہیں:

1. *ذمہ داریاں سونپنا*: بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ذمہ داریاں دیں، جیسے کہ اپنے کمرے کو صاف کرنا، پالتو جانور کی دیکھ بھال کرنا، یا چھوٹے بھائی بہن کی دیکھ بھال کرنا۔

2. *مثال بننا*: بچے اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں، اس لئے آپ کو خود ذمے دار بننا چاہئے تاکہ بچے آپ سے سیکھ سکیں۔

3. *تاریخیں مقرر کرنا*: بچوں کو کاموں کی تاریخیں مقرر کریں اور ان سے پوچھیں کہ وہ کب تک کام مکمل کر لیں گے۔

4. *انعام دینا*: جب بچے ذمہ داری سے کام کریں تو ان کو انعام دیں، جیسے کہ چاکلیٹ، کھلونا، یا پکنک پر لے جانا۔

5. *نقصانات سے سیکھنا*: جب بچے غلطی کریں تو ان کو سمجھائیں کہ ان کی غلطی سے کیا نقصان ہوا ہے اور ان کو مستقبل میں احتیاط کرنے کی نصیحت کریں۔

6. *قابل حصول مقاصد مقرر کرنا*: بچوں کے لئے قابل حصول مقاصد مقرر کریں اور ان کو ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں۔

7. *ان کی بات سنیں*: بچوں کی بات سنیں اور ان کے احساسات کو سمجھیں، اس سے ان کو ذمے دار اور خود مختار بننے میں مدد ملتی ہے۔

والدین متوجہ ہوں

لڑکا دس سال کا ہوجائے تو اسے والد کے حوالے کردیں عورتوں کی محفلوں سے الگ کردیں....!!

گاڑی کا ٹائر بدلا جا رہا ہے تو اسے سکھاؤ، 

مارکیٹ سے سامان لانا ہے تو اسے لے کر جائیں 

اور بتائیں کہ جاؤ فلاں فلاں چیزیں لو 

اور ساتھ ساتھ سمجھاتے رہو۔

 دس سال کے بچے کو پتا ہونا چاہیے کہ 

آلو پیاز کی قیمت کیا ہے ؟

قریبی دکان کہاں پر ہے،

فلاں کا گھر کونسا ہے،

کونسا مکینک اچھا کام کرتا ہے،

گھر آئے مرد مہمانوں کا کیسے استقبال کرنا ہے۔

اس کے ساتھ اپنے کپڑے استری کرنا،

اپنا بستر بنانا،

ضرورت کے وقت اپنے لئے کھانا گرم کرنا،

اپنا سبق وقت پر یاد کرنا،

وقت پر سونا وقت پر جاگنا،

یہ صرف کرنی کی باتیں نہیں ہیں اس پر عمل کرنا ہے۔

دس سال کا بچہ اب ایک عشرہ آگے آچکا ہےاب اسے کچھ نیا کرنے کو دل کرتا ہے اب اس کے لئے صرف ماں باپ کا پیار کافی نہیں ہوتا ہے۔

اس عمر میں مخلوط تقریبوں میں لے جانے سے احتیاط کریں اور کوشش کریں کہ جب خواتین کا کوئی پروگرام ہو تو بچے کو کسی اور دلچسپ سے کام میں مصروف کردو اور یہ سب کچھ پیار محبت سے کروانا ہے کہ بچے کو احساس ہو کہ یہ سب میرے خود کے لئے بہتر ہے نہ کہ اسے نوکروں کی طرح حکم دو۔

اگر آپ اسے درست کاموں میں مصروف نہیں کریں گے تو وہ خود اپنے لئے کچھ دلچسپیاں تلاش کرے گا نئے دوست بنائے گا اور ایسی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرے گا جو والدین اس کے لئے بالکل پسند نہیں کریں گے۔

بچے کی تربیت کریں گے تو کل وہ آپ کو سود سمیت لوٹائے گا اور اگر صرف کھانے پینے پر دھیان دوگے تو پھر چیختے چلاتے رہ جاو گے کہ ہم نے تم پر خرچ کیا ہے پڑھایا لکھایا ہے لیکن ان پر اثر نہیں ہوگا اس لئے ان کو وقت دیں نیندیں قربان کریں۔

یہ کام مشکل ہے، بالکل آسان نہیں ہے لیکن یہ کرنا ہے اگر آپ کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اور والدین کے رتبے پر فائز کیا ہے تو جان مت چھڑائیں، اس عہدے کا پاس رکھیں۔

اچھی تربیت کرنے سے ہی یہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور ممکنہ طور پر پرہیزگاروں کی رہنما بن سکتی ہے۔

والسلام 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...