ڈیمز کیا ہیں
ڈیمز وہ بند ہیں جو دریاؤں پر بنائے جاتے ہیں تاکہ پانی کو روک کر ذخیرہ کیا جا سکے۔ یہ پانی مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے، جیسے کہ آبپاشی، پینے کے پانی کی فراہمی، اور پن بجلی کی پیداوار۔
*پاکستان کے اہم ڈیمز*
پاکستان میں کئی اہم ڈیمز ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:
1. *تربیلا ڈیم*: یہ پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم ہے، جو دریائے سندھ پر بنایا گیا ہے۔
2. *منگلا ڈیم*: یہ دریائے جہلم پر بنایا گیا ہے اور پاکستان کا دوسرا بڑا ڈیم ہے۔
3. *وارسک ڈیم*: یہ دریائے کابل پر بنایا گیا ہے اور پشاور کے قریب واقع ہے۔
*ڈیمز کے فوائد*
1. *پن بجلی کی پیداوار*: ڈیمز سے پن بجلی کی پیداوار ہوتی ہے، جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔
2. *آبپاشی*: ڈیمز کا پانی آبپاشی کے لئے استعمال ہوتا ہے، جس سے زراعت کو فائدہ پہنچتا ہے۔
3. *سیاحت*: ڈیمز سیاحت کے لئے بھی اہم ہیں، کیونکہ وہ زیبائش اور تفریح کے لئے مناسب جگہیں فراہم کرتے ہیں۔
*ڈیمز کی تعمیر، ہماری کرہ ارض پر اثرات*
180 برسوں میں تقریباً سات ہزار ڈیموں کی تعمیر: دنیا بھر میں بننے والے بڑے ڈیمز نے ہماری زمین کے قطبین کو کیسے ہلایا؟
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سنہ 1835 سے سنہ 2011 کے درمیان دنیا بھر میں مختلف ممالک نے تقریباً سات ہزار ڈیم تعمیر کیے ہیں جن میں سے کچھ کا مقصد تو پینے کے پانی کی فراہمی ہے، کچھ کا بجلی پیدا کرنا اور کچھ قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں۔
ان ڈیمز کی تعمیر کا مقصد جو بھی ہو لیکن اُن سب کا ایک مشترکہ اصول پانی کو ذخیرہ کرنا ہے۔ تاہم ان بھاری بھر کم ڈیمز کی تعمیر کے باعث ہماری کرہ ارض یعنی زمین کے کچھ حصوں پر اضافی وزن پڑا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیقاتی گروپ کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بیسویں صدی کے دوران بنائے گئے ڈیمز کے باعث زمین کے قطبین (پولز) اپنے محور سے تقریباً ایک میٹر تک ہٹ چکے ہیں۔
یہ تحقیق امریکہ کی جیوفزیکل سوسائٹی (اے جی یو) کے جریدے میں رواں ماہ شائع ہوئی ہے۔
اس عمل کو ’ٹرو پولر وانڈر‘ یا ’حقیقی قطبی انحراف‘ کہا جاتا ہے۔
اور اگرچہ یہ اثر (زمین کے پولز کا اپنے محور سے ایک میٹر تک ہٹ جانا) بظاہر معمولی ہے لیکن یہ زمین کی طبیعی ساخت پر اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا بھر میں ڈیموں کی بڑے پیمانے پر تعمیر کا سمندری سطح پر بھی واضح اثر پڑا ہے۔
تحقیق کی سربراہ نتاشا ویلینسک نے امریکہ کی جیوفزیکل سوسائٹی (اے جی یو) کو بتایا کہ ’اس مطالعے کی دو اہم باتیں ہیں: پہلی یہ کہ یہ انسانی سرگرمی کے باعث زمین پر اثر ڈالنے کا ایک اور طریقہ ہے، اور دوسری یہ کہ اس کا ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے ہمارے طریقہ کار، خاص طور پر سمندر کی سطح سے متعلق اندازوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔‘
اگرچہ ڈیموں کی تعمیر کا عمل کم از کم گذشتہ تین ہزار سال سے جاری ہے لیکن یہ حالیہ تحقیق اُن جدید ڈیموں پر مرکوز ہے جو گذشتہ تقریباً 180 برسوں کے دوران بنائے گئے ہیں۔
تحقیق میں دنیا بھر میں تعمیر کیے گئے 6,862 بڑے ڈیموں اور اُن میں پانی ذخیرہ کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ویلینسک کے مطابق ’یہ نہیں کہا جا رہا کہ قطبین کے ایک میٹر ہٹنے سے برفانی دور (آئس ایج) دوبارہ آ جائے گا، بلکہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ زمین کے مخصوص حصوں پر اضافی وزن کی موجودگی نے زمین کی گردش پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔‘
*تحقیق کیسے کی گئی؟*
دنیا بھر میں ڈیموں کے متعلق جمع کیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر تحقیق کار دو سوالوں کا جواب جاننا چاہتے تھے۔ ایک یہ کہ قطبی انحراف پر اِن ڈیموں کا کتنا اثر پڑا اور دوسرا یہ کہ آبی ذخائر سمندر کی سطح کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں؟
انھوں نے ڈیموں میں جمع کیے گئے پانی کی مقدار، ڈیموں کی تعمیر کے مقامات کے ساتھ دیگر کئی عوامل کا جائزہ لیا۔
سائنسدانوں کے مطابق اگر زمین کی بیرونی تہہ پر اضافی وزن رکھا جائے تو زمین کی اندرونی تہہ، جہاں مقناطیسی میدان (میگنیٹک فیلڈ) واقع ہے، اس کے مقابلے میں الگ انداز میں گردش کرے گی۔ اسی تضاد کی وجہ سے زمین کے قطبین اور اس کے گردش کے محور میں فرق پیدا ہوتا ہے۔
لیکن یہ تبدیلی مستقل طور پر نہیں ہوئی ہے۔
اے جی یو میں شائع شدہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری تحقیق کے دوران پہلے دور یعنی 1835 سے 1954 تک زیادہ تر ڈیم زمین کے شمالی نصف کرے میں بنائے گئے ہیں۔‘
اس سے شمالی قطب میں تقریباً 20.5 سینٹی میٹر کی انحرافی حرکت پیدا ہوئی۔
ویلیسنک نے بتایا کہ ’1954 کے بعد سے ڈیموں کی تعمیر کا جغرافیائی رجحان تبدیل ہوا اور اضافی وزن دنیا کے دوسرے علاقوں میں پھیل گیا۔‘
نتیجتاً قطبین میں مزید 57 سینٹی میٹر کی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
تحقیق کے مطابق سنہ 1835 سے سنہ 2011 تک ڈیموں کی تعمیر کے باعث قطبین کا مجموعی انحراف 113 سینٹی میٹر رہا۔
*سمندروں پر اثرات*
محققین نے یہ بھی جانچنے کی کوشش کی کہ ڈیموں نے سمندر کی سطح پر کیا اثرات مرتب کیے۔
ویلینسک کے مطابق ’نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ ماہرین کو سمندر کی سطح میں اضافے کے اندازے لگاتے وقت ان آبی ذخائر کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔‘
تحقیق کے مطابق بیسویں صدی میں سمندر کی سطح میں اوسطاً 12 سے 17 سینٹی میٹر اضافہ ہوا، لیکن ڈیموں نے اس کا چوتھائی حصہ روکے رکھا۔
ویلینسک نے مزید کہا: ’یہ ایک اہم مقدار ہے، کیونکہ سمندر کی سطح کا اضافہ دنیا کے تمام حصوں میں یکساں نہیں ہوتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ڈیموں اور آبی ذخائر کے مقام کے مطابق سمندر کی سطح میں اضافے کی جیومیٹری مختلف ہو سکتی ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جسے ہمیں مدنظر رکھنا چاہیے، کیونکہ اس کے اثرات خاصے نمایاں ہو سکتے ہیں۔‘

0 تبصرے