سلطان محمود غزنوی کا عدل


*عادل حکمران ایسے ہوتے ہیں.....!* 😘

ایک رات سلطان محمود غزنوی سو رہا تھا کہ یکا یک اس کی آنکھ کھل گئی۔ پھر لاکھ چاہا کہ دوبارہ نیند آ جائے، مگر نیند کوسوں دور نکل چکی تھی۔ بستر پر تڑپتا اور کروٹیں بدلتا رہا۔ جب کسی طرح آنکھ نہ لگی تو خدا ترس بادشاہ کو خیال آیا کہ شاید کوئی مظلوم فریاد لے کر آیا ہے، یا کوئی فقیر بھوکا ہے، اس لئے نیند چھن گئی ہے۔ غلام کو حکم دیا کہ باہر جا کر دیکھو کون ہے۔

غلام نے باہر جا کر دیکھا تو کوئی نہ تھا۔ واپس آکر کہا:
"جہاں پناہ! کوئی شخص نہیں"۔

محمود نے پھر سونے کی کوشش کی، مگر نیند نہ آئی۔ وہی بے چینی اور گھبراہٹ بڑھ گئی۔ غلاموں کو دوبارہ کہا:
"اچھی طرح دیکھ آؤ، کون دادخواہ آیا ہے"۔

غلام دوڑ کر گئے، ادھر اُدھر خوب تلاش کیا، پھر واپس آکر بولے:
"حضور! کوئی نہیں ہے"۔

سلطان کو شبہ ہوا کہ شاید غلام تلاش کرنے سے جی چراتے ہیں۔ غصے میں خود اٹھ کھڑا ہوا اور تلوار ہاتھ میں لے کر باہر آیا۔ بہت تلاش کی مگر کوئی نظر نہ آیا۔ قریب ہی ایک مسجد تھی۔ اس کے دروازے پر آکر اندر جھانکا تو آہستہ آہستہ رونے کی آواز آئی۔ قریب پہنچ کر دیکھا تو ایک شخص فرش پر پڑا ہوا تھا۔ اس کا منہ زمین سے لگا ہوا تھا، آنکھوں سے آنسو جاری تھے، آہیں بھر رہا تھا اور چپکے چپکے کہہ رہا تھا:

**
اے کہ از غم ندیده خواری
از غمِ ما کجا خبر داری
خُفتہ ماندی چو بختِ ما ہر شب
تو چه دانی ز رنجِ بیداری
**

پھر کہنے لگا:
"سلطان کا دروازہ بند ہے تو کیا، سبحان کا دروازہ تو کھلا ہے۔ اگر محمود ولی سو رہا ہے تو حرج نہیں، معبودِ ازلی تو جاگ رہا ہے"۔

یہ سن کر سلطان اس کے قریب پہنچا اور بولا:
"محمود کی شکایت کیوں کرتا ہے؟ وہ تو ساری رات تیری تلاش میں بے چین ہے۔ بتا! تکلیف کیا ہے؟ کس نے ستایا ہے؟"

وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا:
"حضور! ایک درباری کے ہاتھوں ستایا ہوا ہوں، مگر اس کا نام نہیں جانتا۔ اس نے میری عزت خاک میں ملا دی۔ آدھی رات کو مستی کے عالم میں میرے گھر آتا ہے اور میری شریکِ زندگی کی عصمت کو داغدار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آپ نے اس تلوار کی آب سے اس داغ کو نہ دھویا تو کل قیامت کے دن میرا ہاتھ ہوگا اور آپ کا گریبان!"

یہ سن کر سلطان پر مذہبی اور شاہی غیرت طاری ہوگئی۔ پسینہ آ گیا۔ کانپتی ہوئی آواز میں بولا:
"بتا! کیا اس وقت بھی وہ ملعون وہیں ہوگا؟"

اس شخص نے جواب دیا:
"اب تو بہت رات گزر چکی ہے، شاید چلا گیا ہو، مگر ڈر ہے کہ پھر آئے گا"۔

سلطان نے کہا:
"اچھا، اس وقت تو جاؤ، مگر جس وقت وہ آئے مجھے فوراً اطلاع دینا"۔

وہ شخص دعا دے کر چلا ہی تھا کہ سلطان نے اسے پھر بلایا، اور پہرے داروں سے کہا:
"دیکھو! یہ جس وقت بھی آئے—چاہے میں سو رہا ہوں یا جاگ رہا—فوراً میرے پاس پہنچا دینا"۔

اگلی رات وہ شخص شاہی محل کے دروازے پر پہنچا۔ پہرے داروں نے اسے دیکھتے ہی سلطان تک پہنچا دیا۔ سلطان جاگ رہا تھا۔ ہتھیار لے کر اٹھ کھڑا ہوا اور بولا:
"چلو! رات کو شکار کرنے والی لومڑی تک مجھے لے چلو"۔

وہ شخص آگے آگے، سلطان پیچھے پیچھے۔ گھر پہنچ کر اس نے وہ جگہ بتائی جہاں وہ ظالم شخص خزانے کا سانپ بن کر سو رہا تھا۔ سلطان نے تلوار کا ایسا بھرپور وار کیا کہ پورا فرش انصاف کے خون سے سرخ ہو گیا۔

اس کے بعد سلطان نے مظلوم کو بلا کر فرمایا:
"اب تو محمود سے خوش ہے؟"

پھر مصلیٰ منگوایا، دو رکعت شکرانہ کی نماز پڑھی، اور اس شخص سے کہا:
"گھر میں کچھ کھانے کو ہو تو لاؤ"۔

اس نے عرض کیا:
"ایک چیونٹی سلطان کی کیا خاطر کرے؟ جو کچھ ہے، حاضر کرتا ہوں"۔

وہ سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے لے آیا۔ سلطان نے رغبت سے کھائے اور فرمایا:

"معاف کرنا، میں نے تمہیں کھانے کی تکلیف دی، لیکن سنو! جس روز تم ملے تھے، میں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک اس خبیث کے سر کو اس کے شانے سے جدا کر کے تمہارے گھر کو پاک نہ کر دوں گا، رزق کو اپنے اوپر حرام رکھوں گا۔"

پھر فرمایا:

"تم حیران تھے کہ میں نے دو رکعت شکرانہ کیوں پڑھی، تو سنو! مجھے اندیشہ تھا کہ شاید وہ بدکردار میرا کوئی بیٹا ہو۔ درباریوں میں اتنی جرأت نہیں ہو سکتی۔ غرور کا نشہ عام طور پر بادشاہوں کی اولاد میں زیادہ ہوتا ہے۔ میں اسی خوف کے ساتھ آیا کہ شاید اپنے ہی بیٹے کو قتل کرنا پڑے۔ جب دیکھا کہ کوئی غیر ہے تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا"۔
(بحوالہ: بزمِ رفتہ کی سچی کہانیاں)

حاصل:
بیشک بادشاہ تو وہ ہیں جو ایسا عدل کریں۔ اللہ کرے ہمارے حکمران بھی اس واقعے سے سبق حاصل کریں۔ آمین یا رب العالمین۔

تحریر پسند آئے ہو تو تبصرہ ضرور کریں کیونکہ اس سے ہماری حوصلہ افزائی ہوگی🙏🏻* 

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...