حیاتِ شہید کا ایک واقعہ
خلیفہ ہارون رشید نے ایک مرتبہ محمد بطّال (بہادر) رومی سے ان کا وہ عجیب واقعہ دریافت کیا جو ان کو بلادِ روم میں پیش آیا تھا۔ تو محمد بطّال نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ گردن میں انجیل لٹکائے اور سر پر ٹوپی رکھے ہوئے سر نیچا کئے روم کی چراگاہوں میں چلا جا رہا تھا کہ اتنے میں پیچھے سے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آئی۔ اتنے میں دیکھا تو ایک ہتھیار بند سوار نیزہ ہاتھ میں لئے چلا آ رہا ہے جس نے میرے قریب آکر مجھے سلام کیا، اور میرے جواب کے بعد اس نے مجھ سے معلوم کیا کہ: کیا تم نے بطّال کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا بطّال تو میں ہی ہوں! یہ سن کر وہ اپنے گھوڑے سے اترا اور اس نے مجھ سے معانقہ کیا اور میرے پاؤں چومنے لگا۔ میں نے کہا تم یہ کیا کرتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا: میں آپ کی خدمت کرنے آیا ہوں! یہ سن کر میں نے اس کو دعا دی۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ اچانک چار سوار ہماری طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میرے اس ساتھی نے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے میں ان کی طرف پیش قدمی کروں۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ چنانچہ کچھ دیر کی لڑائی کے بعد ان چار سواروں نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا اور پھر میری طرف بڑھ کر مجھ پر حملہ آور ہوئے۔
میں نے کہا! اگر تم مجھ سے لڑنا چاہتے ہو تو مجھے اتنی مہلت دو کہ میں اپنے ساتھی کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اس کے گھوڑے پر سوار ہو جاؤں۔ انہوں نے اس کو منظور کر لیا۔
چنانچہ جب میں مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہو گیا اور انہوں نے میرا مقابلہ کرنا چاہا تو میں نے کہا: تم چار ہو اور میں اکیلا! انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم میں سے ایک ایک میرے مقابلہ میں آتا رہے۔ پس ان میں سے ایک سوار میرے مقابلہ میں آیا جس کو میں نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے وہ دوسرے آئے، ان کو بھی میں نے اسی طرح مقتل کر دیا۔ اب چوتھا باقی رہا، اس سے اس شدت سے جنگ ہوئی کہ ہم دونوں کے نیزے بھی ٹوٹ گئے۔ پھر ہم نے گھوڑوں سے اتر کر اپنی اپنی ڈھال اور تلواریں سنبھالیں، حتیٰ کہ دونوں کی ڈھالیں ٹوٹ گئیں اور تلواروں کے قبضے تک الگ ہو گئے جس سے وہ بھی زمین پر گر گئیں۔ پھر آپس میں کشتی ہونے لگی یہاں تک کہ شام ہو گئی اور آفتاب غروب ہو گیا اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے پر قابو نہ پا سکا۔
اس کے بعد میں نے اس کو مخاطب کر کے کہا کہ میرے دین میں جو فرض نماز تھی آج وہ مجھ سے قضا ہو گئی۔ وہ بولا کہ: علیٰ ہٰذا القیاس میری بھی یہی صورت ہے، کیونکہ وہ نصاریٰ کا پادری تھا۔ میں نے کہا: کیا یہ ممکن ہے کہ تم واپس ہو جاؤ اور ہم اپنی اپنی فوت شدہ نمازیں قضا کر کے رات میں آرام کر لیں اور پھر صبح مقابلہ ہو؟ وہ کہنے لگا: بڑی خوشی ہے۔
چنانچہ میں نے اپنی نمازیں ادا کیں اور اللہ کی توحید بیان کی، اس نے بھی جو کچھ اس کو کرنا تھا کیا۔ اور سوتے وقت وہ مجھ سے کہنے لگا کہ تم عربی النسل ہو، تم میں بے وفائی ہے۔ میرے کانوں میں دو جھانجھ ہیں، ان میں سے ایک کو تم اپنے کان میں لڑکا لو اور اپنا سر اس پر رکھ لو۔ جب تم کوئی حرکت کرو گے تو تمہارا جھانجھ بجے گا اور میں خبردار ہو جاؤں گا۔ میں نے اس کو منظور کر لیا اور اسی طرح ہم نے رات گزار دی۔
صبح کو علی الصباح توحیدِ الٰہی کے ساتھ میں نے اپنی فرض نماز ادا کی اور اس کے بعد ہم دونوں کشتی لڑے اور میں نے اس کو پچھاڑ لیا اور اس کے سینے پر سوار ہو کر چاہا کہ اس کو ذبح کر دوں، مگر اس نے مجھ سے معافی کی درخواست کی اور میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ پھر جب دوبارہ ہم کشتی لڑے تو میرا پاؤں پھسل گیا اور اس نے مجھ پر آ کر میرے سینے پر سوار ہو کر مجھے ذبح کرنا چاہا۔ تو میں نے کہا: میں تم کو معاف کر چکا ہوں، کیا تم مجھ کو معاف نہیں کرو گے؟ تو میرے اس کہنے پر اس نے بھی مجھے چھوڑ دیا۔
پھر جب تیسری دفعہ ہماری کشتی ہوئی تو میں مضمحل تو ہو ہی چکا تھا۔ اس نے مجھے پھر پچھاڑ لیا اور میرے سینے پر چڑھ کر مجھے ذبح کرنا چاہا۔ تو میں نے کہا کہ پہلے تو احسان میں ہم تم دونوں برابر ہو چکے، اب تم مجھ پر احسان کر دو۔ یہ سن کر وہ کہنے لگا: اچھا تیری مرضی! پھر چوتھی مرتبہ بھی کشتی میں اس نے مجھے گرا لیا اور کہنے لگا: میں نے اب پہچانا کہ تو بطّال ہے! بس میں تجھ کو ضرور ذبح کروں گا اور سرزمینِ روم کو تجھ سے نجات دلاؤں گا۔ میں نے اس سے کہا کہ: اگر میرے رب نے چاہا تو، تو مجھے ہرگز قتل نہیں کر سکے گا۔
یہ سن کر اس نے میرے قتل کے لئے خنجر اٹھایا اور کہنے لگا: تو اپنے رب سے کہہ کہ وہ اب مجھے روک لے! پس اے امیر المؤمنین! اتنے میں میں نے دیکھا کہ میرا وہ مقتول ساتھی کھڑا ہوا اور اس نے تلوار اٹھا کر اس کا سر اڑا دیا اور یہ آیتِ کریمہ تلاوت کی: "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ ... الخ"
ترجمہ: اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو تم مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں۔
حاصل: سچ ہے! شہید فی سبیل اللہ کا بڑا درجہ ہے۔ جنہوں نے اپنی جانیں اللہ کی راہ میں قربان کر دیں، اللہ ان کو غیر شعوری زندگی عطا فرماتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شہادت کا شوق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
*مؤلف: مولانا محمد ہارون معاویہ صاحب*

0 تبصرے