نیلسن مینڈیلا کی حکمتِ عملی


 جنوبی افریقا کے سابق اور پہلے جمہوری منتخب صدر نیلسن روہیلا منڈیلا 18 جولائی 1918ء کو ترانسکی میں پیدا ہوئے صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کے سخت مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان کو مختلف جرائم جیسے توڑ پھوڑ، سول نافرمانی، نقض امن اور دوسرے جرائم کی پاداش میں قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران میں لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال جیل میں قید رہے منڈیلا کو جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔ 11 فروری 1990ء کو جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے پر تشدد تحریک کو خیر باد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔

نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پزیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو “ماڈیبا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندان کے لیے اعزازی خطاب ہے۔

نیلسن منڈیلا مئی 1994ء کو ایوان صدر میں داخل ہوئے تو انھوں نے پہلا آرڈر دیا 

ایوان صدر اور آفس میں موجود تمام گورے افسر اپنے پرانے عہدوں پر کام کریں گے‘ کسی گورے کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا‘

 دوسرا آرڈر سیکیورٹی گارڈز سے متعلق تھا۔

اس نے حکم دیا میری سیکیورٹی کی ذمے داری انہی گورے افسروں کے پاس رہے گی جو انگریز صدر کی حفاظت کرتے تھے‘ 

 تیسرا آرڈر تھا 

’’میں اپنے مہمانوں کو خود چائے بنا کر دوں گا‘ کوئی ویٹر مجھے اور میرے مہمانوں کو سرو نہیں کرے گا‘‘ 

چوتھا آرڈر تھا 

میں اپنے ذاتی گھر میں رہوں گا اور شام کے وقت نائٹ اسٹاف کے سوا کوئی میری ڈیوٹی نہیں دے گا‘ 

 پانچواں آرڈر تھا 

ملک میں موجود تمام گورے جنوبی افریقہ کے شہری ہیں اور جو انھیں تنگ کرے گا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی‘ 

چھٹا آرڈر تھا 

آج سے میرا کوئی سیاسی اور ذاتی مخالف نہیں ہوگا‘ میں اپنے تمام مخالفوں کے پاس گارڈز کے بغیر جاؤں گا‘ 

 ساتواں آرڈر تھا 

ملک کی سرکاری میٹنگ میں میرے خاندان اور میرے دوستوں میں سے کوئی شخص شامل نہیں ہوگا 

اور آٹھواں حکم تھا

 میں اس ملک کا ایک عام شہری ہوں چنانچہ میرے ساتھ وہ قانونی سلوک کیا جائے جو عام شہری کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہ آٹھ احکامات تھے جنھیں جاری ہونے میں دس منٹ لگے اور بدترین بحران کے شکار جنوبی افریقہ کا مستقبل پہلے ہی دن طے ہو گیا‘ 

1994ء تک ساؤتھ افریقہ دنیا کا خطرناک ترین ملک تھا مگرنیلسن منڈیلا کے اقتدار سنبھالنے کے محض ایک سال بعد 1995ء میں ساؤتھ افریقہ میں رگبی کا ورلڈ کپ اور 2003ء میں کرکٹ کا ورلڈ کپ منعقد ہوا اور یہ آج دنیا کے ترقی یافتہ اور مضبوط ممالک میں شمار ہوتا ہے

نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے بانی تھے مگر یہ 5 سال کی صدارت کے بعد 2004ء میں سیاست سے ریٹائر ہو گئے اور 2014 میں اپنی وفات تک معمولی درجے کے چھوٹے سے گھر میں رہے

یہ درست ہے منڈیلا کے ابتدائی آٹھ احکامات سے جنوبی افریقہ میں نہ دیوار چین بنی‘نا یہ برطانیہ بنا‘ نا ہی یہ واشنگٹن بنا اور نہ ہی ان احکامات سے ان کا ریلوے‘ اسٹیل مل‘ ائیر لائین‘ واپڈا اور معیشت ٹھیک ہوئی مگر ان آٹھ احکامات نے جنوبی افریقہ کو قوم بنا دیا اور چار سال بعد جنوبی افریقہ کے 80 فیصد مسائل حل ہوگئے ۔"

سیاستدان اگلے لیکشن کا سوچتا ہے جبکہ

 لیڈر اگلی نسل کا سوچتا ہے 

اللہ پاک میرے ملک پاکستان اور دین و اسلام کے اندرونی بیرونی دشمنوں غداروں کو نست و نابود فرما اور ہمیں دین اور اسلام کا درس دینے والا اور دین اسلام کے احکامات پہ عمل کرنے والا سچا حکمران عطا فرما آمین 

والسلام 

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. He was a borne leader, succeeded because there was Apartheid rule & he after aggressive effort learned that peaceful approach is best since majority was of his own people & was easy for him to unite them and & he was recognized as a true leader. Here in Pakistan the SYSTEM IS CURUPT FROM A TO Z WHAT TO TALK ABOUT LEADER ONLY NATURAL CALAMITY OR ACCOUNTABILITY OF ONLY CJ & JUDGES OF ALL HIGH COURT & LOER COURTS & SUPREME COURT AT WAR FOOTING. EVEN THOUGH WE ARE MUSLIM WE R FORGETTING WHAT ALLAH WILL DO ON DOOMSDAY KNOWN AS DAY OF JUDGMENT, ONLY DO THE JUSTICE THATS ALL SO NIB THE EVAL IN THE BUD NATION WILL COME UP ALL BY ITSELF.Mansoor Iqbal

    جواب دیںحذف کریں

Designed By SuFi LaB
...
...