سفرِ جنت۔۔

 

تحریر: یوسف ارحم 


12 دسمبر میری زندگی کا وہ دن جس میں افسانہ لگنے والی وہ تمام خواہشیں وہ حسرتیں وہ تمنائیں وہ جذبات وہ رنگ وہ خوشبوئیں وہ معطر فضائیں وہ بہاریں وہ آبشاریں حقیقت بن گئیں۔۔۔ جب میں نے اس مبارک *در* کی طرف سفر شروع کیا جہاں پر کھوٹے سکے چل جاتے ہیں نکموں کو بھاگ لگ جاتے ہیں بگڑے حالات بن جاتے ہیں، جس کا نام سننے سے آنکھیں پرنم چمک اٹھتی ہیں جس در کی حاضری کے لیے شاہوں کے دل تڑپ اٹھتے ہیں۔۔

وہ در جہاں پر "شاہ" دربان ہونے کو ترجیح دیتے ہیں...

وہ *در* جہاں پر شاہ و گدا برابر ہوتے ہیں ۔۔۔

وہ *در* جہاں سے صباء خوشبوئیں لے کر گل و گلشن کو مہکاتی ہیں۔۔

وہ در جہاں دکھتے دلوں کو دوائیں ملتی ہیں۔۔۔ 

وہ در جس کے تصور سے روح کو تسکین مل جاتی ہے ۔۔۔

وہ در جس کا نام لینے سے زبان و دل سے محبتوں کے فوارے پھوٹنے لگتے ہیں۔

وہ در جس کا تذکرہ سن کر جسم پر ادب و احترام کی عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور زبان دل سے درود و سلام جاری ہو جاتا ہے اور نگاہیں جھک جاتی ہیں۔۔۔

مجھے کامل یقین ہے کہ آپ کو اس در کا پتہ چل گیا ہوگا دراصل وہ در ہے ہی ایسا جس پر دونوں جہانوں کی رعنائیاں سمٹ آتی ہیں ۔۔۔

مدینہ کا درِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ مقدس مقام ہے جس کو دیکھے بنا ہی نگاہ و دل اس کی خوبصورتی کے متعارف ہو جاتے ہیں ۔۔۔

اور ایسا کیونکر نا ہو وہاں پر سب سے خوبصورت، حسین و جمیل، معتبر اور مقدس ہستی نبی اکرم امام الانبیاء محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو مقیم ہیں وہ وجہ کائنات بھی ہیں ۔۔۔

اور بقائے کائنات بھی۔۔۔

یہ اس عظیم ہستی کی آرام گاہ ہے جہاں پر مقدر بنتے ہیں جہاں کھوٹے سکے بھی چل جاتے ہیں۔۔۔

 جہاں پر اندھیرے روشنیوں میں بدل جاتے ہیں۔۔۔

 جہاں کالا حبشی سیدنا بلال بن جاتا ہے۔۔۔۔ جہاں ابوبکر صداقت۔۔۔عمر۔۔۔ عمرِ فاروقِ اعظم عدالت۔۔۔ عثمان سخاوت اور علی شجاعت کا منبع بن کر ابھرتے ہیں۔۔۔۔

اِبنِ عساکر رحمتہ اللّہ علیہ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللّہ عنہُ سے روایت کی۔۔۔۔

"انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ سے کسی نے دریافت کِیا" کہ:

'' اللّہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو کلام سے سرفراز کِیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو رُوح القدس سے پیدا کِیا اور حضرت اِبراہیم علیہ السّلام کو خلیل بنایا اور حضرت آدم علیہ السّلام کو اصطفاء سے نوازا،تو آپ ﷺکو کون سی فضیلت عطا کی گئی؟ ''

اسی وقت حضرت جبرئیل علیہ السّلام نازل ہوئے اور عرض کِیا کہ:

'' آپ ﷺ کا ربّ فرماتا ہے اگر میں نے اِبراہیم علیہ السّلام کو خلیل بنایا تو میں نے آپ ﷺ کو اپنا حبیب بنایا اور اگر میں نے موسیٰ علیہ السّلام سے زمین پر کلام کِیا تو میں نے آپ ﷺ سے آسمان پر کلام کِیا اور اگر میں نے عیسیٰ کو رُوح القدس پیدا کِیا تو میں نے آپﷺ کے نام کو تمام مخلوق کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے پیدا کِیا اور آپﷺ آسمان میں وہاں تک پہنچے کہ آپﷺ سے پہلے کوئی مخلوق وہاں تک نہ پہنچی اور نہ کوئی آپﷺ کے بعد پہنچے گی۔اور اگر میں نے آدم کو صفی کِیا تو میں نے آپﷺ پر سلسلہ نبوّت کو ختم کِیا اور کوئی مخلوق ساری کائنات کی آپﷺ سے زیادہ مکرم میں نے پیدا نہیں کی اور آپﷺ کو حوضِ کوثر،شفاعت ناقہ،شمشیرِ تاج،عصا،حج،عمرہ اور ماہِ رمضان عطا فرمایا اور تمام شفاعت آپﷺ ہی کی ہے۔حتیٰ کہ روزِ قیامت میرے عرش کا سایہ آپ پر دراز ہو گا اور حمد کا تاج آپﷺ کے سر پر بندھا ہو گا اور آپﷺ کا نام میں نے اپنے ساتھ مِلایا تو جس جگہ بھی میرا ذِکر کِیا جائے گا میرے ساتھ آپ کا ذِکر ضرور ہو گا اور میں نے دنیا کو اور اس کے رہنے والوں کو اسی لیے پیدا کِیا ہے کہ میرے نزدیک جو آپﷺ کی قدر و منزلت ہے سب اس کو پہچانیں اور اگر آپﷺ نہ ہوتے تو میں دنیا کو پیدا نہ فرماتا۔ ''


حوالہ: نام کتاب = "الخصائصُ الکبریٰ" ( جِلد دوم ) صفحہ = 303

(مصنف = حضرت علامہ جلالُ الدّین عبدالرحمٰن سیُوطی رحمتہ اللّہ علیہ

مترجم = علامہ مُفتی سیّد غلام مُعین الدّین نعیمی رحمتہ اللّہ علیہ)


بے شک جن کا محبوب اللہ رب العزت کا محبوب بھی ہو تو اس محبوب کے شہر کی خاک بھی ماتھے پر لگا کر شمس و قمر کو ماند کر دینا کوئی حیرت کی بات نہیں۔۔۔۔

اور آخر میں یہی کہوں گا کہ 

وہ غلافِ کعبہ کا حُسن، وہ زم زم کا پانی، وہ مدینے کی گلیاں، وہ طیبہ کی ٹھنڈی ھوا، اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائے۔۔۔۔

*آمین، یا ربّ العالمین!* 🤲

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. سبحان اللہ۔ دل کو سکون میسر آیا اللہ تبارک وتعالی آپ کے سفر کو مبارک کرے۔ آمین

    جواب دیںحذف کریں

Designed By SuFi LaB
...
...