پیر ذوالفقار نقشبندی عظیم رہنما

 


ایک سایہ شفقت اٹھ گیا 
ایک چراغ ہدایت بجھ گیا

ایک تعلیم یافتہ انجنیئر جن کے انڈر 35 فیکٹریاں تھیں۔

سال 1990ء کے آس پاس ان کی روزانہ ایک لاکھ تنخواہ تھی۔

یہاں تک رپورٹ ہوا ہے کہ وہ ٹیکس بھی ایمانداری سے دیتے تھے۔

(ریفرنس: بیانات پیر صاحب)

پھر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فقیری کی دنیا میں کیسے چلے گے؟

ایسا کیا تھا کہ پاک و ہند کے ہزاروں علماء ان کی تقلید میں چل دیے۔

پھر علامہ اقبال کا کون سا کلام ان کے دل میں اتر گیا تھا؟

وہ یکم اپریل 1953ء کو جھنگ کھرل خاندان میں پیدا ہوئے۔

گھر میں دین کا ماحول ملا اور ذکر و عبادت عام تھی۔

سال 1972ء میں انہوں نے BSC الیکٹریکل انجیئرنگ کی۔

مزید تعلیم UET Lahore سے حاصل کی تھی۔

چیف انجیئر بننے کے دوران وہ فٹبال،سوئمننگ کے کیپٹن بھی رہے۔

انہوں نے تعلیم و کھیلوں کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

(ریفرنس: آن لائن ویب: کمزور شواہد)

کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ لاہور یونیورسٹی تھا۔

جہاں انہوں نے مولانا سید زوار حسین رح اللہ سے ملاقات کی۔

وہیں انہوں نے مجدد الف ثانی کے مکتوبات بھی پڑھے۔

سال 2013/14 میں دنیا بھر کے بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست جاری کی گی۔ ان 500 Most Powerfulمسلم میں پیر صاحب کو بھی ان لسٹ کیا گیا۔

کتاب کے مطابق:

"شیخ صاحب نقشبندی مجددی صوفی سلسلہ کے شیخ ہیں۔

ان کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

ان کے بے شمار مریدین میں علماء بھی ہیں۔ 

پیشے کے لحاظ سے وہ الیکٹریکل انجینئر رہ چکے ہیں۔"

(صفحات نمبر: 133-134)

موجودہ ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 140 سے اوپر کتب لکھی ہیں۔

ان کی چند مشہور تصانیف درج زیل ہیں:

1): خطباتِ فقیر

2): باادب بانصیب

3): تمنائے دل

4): زادِ حرم

5): قرآن مجید کے ادبی اسرار و رموز

جب وہ پلاننگ اینڈ ڈولیپ منٹ کے ڈیپارٹمنٹ کو دیکھ رہے تھے۔ 

انہوں نے خود سے وعدہ کر رکھا تھا۔

جیسے ہی 40 سال کے ہوں گے۔

تو دنیا کی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لینی ہے۔

پھر بغیر کسی حیل و حجت کے اس وعدہ کووفا بھی کیا۔

اک بار اک کمشنر نے مدارس کے طلباء پہ سرزنش کی۔

ان کے مطابق یہ نکمے اور ناکارہ ہوتے ہیں۔

جس پہ پیر صاحب نے کہا: (مفہوم)

"دنیا جہان کے معاملات دیکھ کر جب اللہ اپنی ناراضگی دکھاتے۔

تب کوئی طالبعلم اللہ کا نام لیتا ہے تو رب ِکریم کو پیار آتا ہے۔

یوں ان طلباء کی وجہ سے آپ پہ کرم ہے۔

ان کی قدر کیجیے۔"

اک بیان میں کہتے ہیں کہ علامہ اقبال کا یہ رباعی انتہائی بامعنی ہے۔

(اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا فیورٹ بھی تھا):

؀ تو غنی از ہر دو عالم من فقیر

روز محشر عذر ہائے من پذیر

ور حسابم را تو بینی ناگزیر

از نگاہ مصطفے پنہاں بگیر

ان اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

اے اللّٰہ بے شک تُو تمام جہانوں سے غنی ہے۔

بے شک میں فقیر ہوں۔

بس تو قیامت والے دن میری ایک درخوست قبول کر لینا۔

 اگر وہاں میرا حساب لینا لازمی ہی ہو جائے۔

تو مجھے نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سامنے رسوا نہ کرنا۔

اور ان کی نظروں سے چھپا کر حساب لینا

اکثر تزکیہِ نفس، وظائف اور عبادات کی تلقین کیا کرتے تھے۔

آج 14 دسمبر 2025 کو پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔

نماز جنازہ 15 دسمبر سوموار دوپہر 2 بجے جھنگ میں ادا کیا جائے گا۔

آپ کو پیر صاحب سے کیسی نسبت ہے؟

اور ان کی کون سی بات نے انسپائرڈ کیا؟

اللہ پاک موصوف کی مغفرت فرمائے آمین ثم آمین 

والسلام 

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. Peer zulfiqar ALLAH k naik,saleh r muqarrb bndon mai hain.un ki aajzi,inksari,r nrm lehja seen pr aml pr aml krny ki trf maael krta tha.
    Allah un ki bkhshish frmay.ameen

    جواب دیںحذف کریں

Designed By SuFi LaB
...
...