بچوں کو کیسے فرمابردار بنائیں۔۔؟

 



*بچے کہنا کیوں نہیں مانتے*...!

👈🏻  *اس لیے کہ*

*آپ کو اپنی بات منوانے کا طریقہ نہیں آتا*..!!

ہمارے استاد کہتے ہیں

*ٹریننگ بچوں کی نہیں تمہاری ہونی چاہیئے*

میں نے کہا استاد پھر بتائیے

بچے کیسے ہماری بات مان لیں...؟

✔️ وقت پر پڑھائی کریں

✔️ کھانا  ٹھیک سے کھائیں

✔️  اپنے سامان کپڑے، کھلونے سمیٹ کر رکھیں

✔️  اپنا کمرہ صاف رکھیں

✔️  وقت پر ہوم ورک کر لیں

✔️  بڑوں کے ساتھ  تمیز سے پیش آئیں

✔️  بچے آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کریں

*وغیرہ وغیرہ وغیرہ*...!!!

استاد محترم نے جواب دیا

بچے ہر بات مان لیں گے

*بس انہیں زبان سے کہنا چھوڑ دو*..!

اور اپنی *برین پاور* سے کام لو

ابھی 

تم سارا سارا دن رات صبح شام ہفتوں ان کے ساتھ

جھک جھک کرتے ہو

اور صرف ایک *منفی لائن* بار بار دھراتے ہو

🥀 تم ایسا کیوں نہیں کرتے..!

🥀 تم پڑھائی کیوں نہیں کرتے.!

🥀 تم کھانا کیوں نہیں کھاتے.!

🥀  تم اتنا لڑتے کیوں ہو.!

🥀  تم اتنے گندے کیوں رہتے ہو.!

🥀 تم آپس میں لڑتے کیوں ہو.!

🥀 *تم نے میرا دماغ کھا لیا ہے*.!

تم

تم

تم

♨️ *آپ نے بچوں سے شکوہ کر کر کے*

*ان تک منفی انرجی پہنچا کر انہیں تھکا دیا ہے*..!

🧠 ان کے دل دماغ میں *منفی سوچوں* کا انبار لگ گیا ہے

وہاں کسی اچھے کام کی پازیٹو سوچ کو رکھنے کی جگہ ہی نہیں ہے

اور تم نے خود ایسا کیا ہے

اب

آپ ان سے

ان ہی کے بھلے کی فائدہ کی کوئی بات

کہتے ہو

وہ اس کا الٹ کرتے ہیں

وجہ آپ خود ہو

*آپ انہیں زبان سے ھدایات دینا بند کر دو*

اب ایک *نیا تجربہ* کرو 

*اور چوبیس گھنٹے میں دو بار* 

رات کو جب بچے سوئے ہوں

اور صبح انہیں جگاتے وقت 

ان کے قریب بستر پر بیٹھ کر

کان کے پاس سرگوشی کے انداز میں

✔️ ان کے اچھے کاموں کی تعریف کرو

✔️ انہیں ایپریشیٹ کرو

✔️ انہیں حوصلہ دو

✔️  ان سے کہو:

🌷 *تم بہت سمجھدار ہو*

🌷 *تم بہت ذہین ہو*

🌷 *تم بہت ذمہ دار ہو*

🌷  *تم بہت تمیز دار ہو* 

غرض یہ کہ

آپ ان میں جو جو خوبی دیکھنا چاہتے ہو

اور ان کی جو بھی کی خراب عادات تبدیل کرنا چاہتے ہو

ان کے لاشعوری ر ذہن میں محفوظ کر دو

*یاد رکھو*! 

*جو بات لاشعور میں محفوظ ہوگئی*

*وہ زندگی بھر اسے یاد رکھیں گے*

*اور اس پر عمل پیرا ہونگے*

رات  کو بچوں کے سونے کے فوری بعد اور صبح

انہیں جگاتے وقت ان کے *سب کانشز مائنڈ* سے

گفتگو کرو

زیادہ بہتر ہے یہ گفتگو زبان کی بجائے

اپنی مائنڈ سے کی جائے

پھر دن اور رات

میں اپنی عبادات کے بعد کچھ وقت *مراقبہ*

بھی کیجئے

👈🏻 اس *مراقبہ* کے دوران اپنے بچوں کو

اپنے رشتوں کو، دوست احباب اہل خانہ کو

ان سب کو جنہیں آپ بہت اچھا دیکھنا چاہتے ہیں

*اپنی مثبت سوچ، پازیٹو انرجی*

*ان تک پہنچاؤ*

پھر دیکھو

چند روز میں

مشکل سے مشکل بچہ

یا کوئی بھی اور رشتہ کس طرح

تمہاری بات مانتا ہے

🤚🏻 ایک اور بات

🤚🏻🤚🏻  بہت ہی اہم بات

بچوں اور دیگر رشتہ داروں سے 

❌ گلے شکوہ کرنا چھوڑ دو 

نہ ان سے کوئی شکوہ کرو

نہ ان کے بارے میں کسی اور سے گلے شکوے کرو

یہ گلہ، شکوہ، طعنہ، طنز یہی وہ

*بیڈ انرجی* ہے

جو آج کل بچوں کو، رشتوں کو

تعلقات کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے

*ابھی دیر نہیں ہوئی*..!

آج سے اپنے سمجھانے کے انداز کو بدل کر

زبان کی بجائے مائنڈ سے شروع کر کے دیکھو.

بچوں کے بات نہ ماننے یا ضدی ہونے کی کئی نفسیاتی اور جسمانی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

1. توجہ حاصل کرنے کی خواہش:

بعض اوقات بچے صرف والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نافرمانی کرتے ہیں۔ اگر انہیں مثبت کاموں پر توجہ نہ ملے، تو وہ منفی رویہ اپنا کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

2. آزادی اور خود مختاری کا احساس:

جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں، وہ اپنی مرضی چلانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں، اس لیے وہ بڑوں کی باتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

3. غیر واضح ہدایات:

کبھی کبھی والدین کی ہدایات بہت پیچیدہ یا لمبی ہوتی ہیں جو بچوں کو سمجھ نہیں آتیں۔ اگر بچہ بات سمجھ ہی نہیں پائے گا، تو اس پر عمل کرنا اس کے لیے مشکل ہوگا۔

4. تھکن، بھوک یا نیند کی کمی:

اگر بچہ جسمانی طور پر تھکا ہوا ہو، اسے بھوک لگی ہو یا اس کی نیند پوری نہ ہو، تو وہ چڑچڑا ہو جاتا ہے اور بات ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔

5. والدین کا اپنا رویہ:

بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر والدین آپس میں یا دوسروں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرتے ہیں، تو بچے بھی وہی رویہ اپناتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت زیادہ روک ٹوک بھی بچوں کو باغی بنا دیتی ہے۔

6. جذبات کا اظہار نہ کر پانا:

چھوٹے بچے اکثر اپنے غصے، اداسی یا خوف کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، جس کا اظہار وہ ضدی پن یا چیخنے چلانے کی صورت میں کرتے ہیں۔

حل کے لیے چند مشورے:

بچوں کو پیار سے سمجھائیں اور ان کی بات توجہ سے سنیں۔

انہیں حکم دینے کے بجائے آپشنز دیں (مثلاً: "آپ پہلے ہوم ورک کریں گے یا کھانا کھائیں گے؟")۔

اچھے رویے پر ان کی تعریف کریں۔

ان کے سامنے خود بھی نظم و ضب

ط کا مظاہرہ کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

Designed By SuFi LaB
...
...