کینیڈا کی سردی میں انسانیت کی تپش: ایک خاموش انقلاب
کینیڈا بھر میں مہربانی اور ہمدردی ہمیشہ شور مچا کر نہیں آتی، کبھی کبھی یہ خون جما دینے والی سردی میں خاموشی سے کسی کا انتظار کرتی ہے۔
ہر سال جب کینیڈا میں درجہ حرارت گرتا ہے اور برفباری اپنے پنجے گاڑ لیتی ہے، تو یہاں کے شہروں اور قصبوں میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس مہم کے لیے نہ کوئی پریس ریلیز جاری ہوتی ہے، نہ فنڈ ریزنگ کے بینر لگتے ہیں اور نہ ہی تعریفیں سمیٹنے کے لیے تقریریں کی جاتی ہیں۔ بس عام سے لوگ کڑاکے کی سردی میں باہر نکلتے ہیں اور اپنے پیچھے "گرمی" چھوڑ جاتے ہیں۔
کسی باڑ پر لٹکا ہوا ایک کوٹ، پارک کے بینچ پر رکھا ہوا ایک مفلر، یا درخت کی شاخ میں پھنسائے گئے دستانے۔ نہ دینے والے کا نام، نہ کوئی شرط، اور نہ ہی کوئی سوال۔ بس جیب یا آستین میں چھپا ایک چھوٹا سا ہاتھ سے لکھا ہوا رقعہ: "اگر آپ کو سردی لگ رہی ہے، تو براہِ کرم اسے لے لیں۔"
ونی پیگ (Winnipeg) سے لے کر ریجینا (Regina) تک، لوگوں نے اس انسانی جبلت کو ایک غیر رسمی مہم میں بدل دیا ہے۔ لوگ وہ کوٹ عطیہ کر دیتے ہیں جن کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی، کچھ لوگ مفلر بنتے ہیں یا تھوک کے حساب سے دستانے خریدتے ہیں۔ وہ ان چیزوں کو کسی عمارت کے اندر تالوں میں رکھنے کے بجائے کھلی جگہوں پر چھوڑ دیتے ہیں جہاں ضرورت مند کو اپنی غربت کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ریجینا کے وکٹوریہ پارک میں، سردیوں کی صبح اکثر کسی معجزے سے کم نہیں ہوتی۔ راتوں رات وہاں سینکڑوں ہاتھ سے بنے ہوئے رنگ برنگے مفلر نمودار ہو جاتے ہیں جو دھند اور کہر کے درمیان انسانیت کا رنگ بھر دیتے ہیں۔ وہاں کوئی پہرہ نہیں دیتا، کوئی حساب نہیں رکھتا۔ گزرنے والا ہر ضرورت مند اسے اٹھا سکتا ہے۔
کیملوپس (Kamloops) میں ایک رضاکار خاتون اپنی تمام شامیں ٹوپیاں اور مفلر بننے میں گزارتی ہے۔ وہ اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ نہیں کرتی۔ جب برفباری کی پیشگوئی ہوتی ہے، تو وہ چپکے سے نکلتی ہے اور درختوں کی نیچی شاخوں پر انہیں لٹکا دیتی ہے اس احتیاط کے ساتھ کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے۔
اوٹاوا اور ونی پیگ جیسے شہروں میں "اسکارف بمبنگ" (Scarf Bombing) اب ایک روایت بن چکی ہے۔ بس اسٹاپس، کھمبے اور درخت اون کی گرمائش سے ڈھک دیے جاتے ہیں۔ صبح تک کچھ غائب ہو جاتے ہیں، دوپہر تک نئے آ جاتے ہیں۔
کوئی نہیں پوچھتا کہ اس کا حقدار کون ہے، کوئی بینک بیلنس چیک نہیں کرتا۔ کیونکہ سردی بھی کسی سے سوال نہیں کرتی۔
جان بچانے والا عمل: کینیڈا کی سردی میں 'فراسٹ بائٹ' (جسم کا جم جانا) چند منٹوں میں ہو سکتا ہے۔ بے گھر افراد یا وہ لوگ جو گرم کپڑے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، ان کے لیے یہ کوٹ زندگی اور موت کے درمیان ایک ڈھال ثابت ہوتے ہیں۔
عزتِ نفس کی حفاظت: خیراتی اداروں کے سامنے لائن میں لگنا یا اپنی ضرورت مندی ظاہر کرنا بعض اوقات انسان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ خاموش طریقہ کار ضرورت مند کو بغیر کسی شرمندگی کے مدد فراہم کرتا ہے۔
کمیونٹی کا اتحاد: یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ایک معاشرہ صرف حکومت یا اداروں پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ عام شہری ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی ذمہ داری خود اٹھاتے ہیں۔
یہ مہربانی کی ایسی شکل ہے جو نمود و نمائش سے پاک ہے۔
کینیڈا کی سڑکوں پر لٹکے یہ کوٹ اور مفلر صرف کپڑے نہیں، بلکہ ایک پیغام ہیں کہ: 'آپ اکیلے نہیں ہیں'۔ کسی نمائش کے بغیر، کسی تعریف کی تمنا کیے بغیر، اجنبیوں کی جانب سے اجنبیوں کے لیے ایک خوبصورت تحفہ۔ کاش یہ احساس ہم سب کے دلوں میں زندہ ہو جائے۔

3 تبصرے
بھت زبردست اللّٰہ ھمارے ملک پاکستان کے شہریوں کے دل بھی ایسے کر دیں آمین
جواب دیںحذف کریںAmeen
جواب دیںحذف کریںسر دعا کریں اللہ تعالی ان کو اسلام کی دعوت سے مالامال کردے ورنہ یہ جہنم کا ایندھن ہیں اس کی کفر میں دنیا کی رعایت ہے آخرت میں نہیں
جواب دیںحذف کریں