پنجابی کا بَکسُوا، انگریزی کی سیفٹی پِن — ہم سب کی عزتوں کا رکھوالا
بندۂ ناچیز نے لفظِ بکسوا کو بکسوے ہی کی شکل میں لکھنے کی ایک ’’موجدانہ‘‘ سی کوشش کی ہے۔
مشہور ضرب المثل ہے کہ ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔‘‘ لگتا ہے کسی زمانے میں کسی سیانے کا بھی کسی خطرناک صورتِ حال سے ضرور پالا پڑا ہوگا۔ بٹن کے دھاگے نے بے وفائی کی ہوگی یا پتلون کی زپ کے دانت ٹوٹے ہوں گے، سو اُس نے آس پاس پڑی کوئی نوکیلی چیز یا لوہے کی باریک تار موڑ کر اپنی لاچاری کو چارہ گری میں بدلنے کا تجربہ کیا ہوگا، اور اسی تجربے کے نتیجے میں بکسوا صاحب معرضِ وجود میں آئے ہوں گے۔
بظاہر تو بکسوا ایک نحیف اور معمولی سی شے ہے، مگر کڑے وقت میں اپنی اہمیت ضرور جتاتا اور اپنی وفا خوب نباہتا ہے۔ کبھی بٹن کا قائم مقام بن جاتا ہے، کبھی زپ کا عارضی علاج، تو کبھی ساڑھی کے پلو کا ٹانکا۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ہم سب کی عزتوں کا رکھوالا اور برے وقت کا سچا ساتھی ہے۔
خصوصاً خواتین کے پرس میں تو یہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ خواتین بھی اس سے ایک آدھ نہیں، بلکہ کئی کام لے لیتی ہیں۔ پرس یا بیگ کی زپ خراب ہو جائے، یا زیور کی ہُک ٹوٹ جائے، بکسوا صاحب فوراً خدمت میں حاضر!
شوہروں کی طرح بیچارہ بکسوا بھی خواتین کے قابو ہی میں رہتا ہے۔😄 البتہ اسے جب زیادہ تنگ کیا جائے تو یہ دندی بھی وڈ لیتا ہے، یعنی چبھ جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اس مخلص اور وفاشعار دوست کے ساتھ ذرا پیار اور احتیاط سے پیش آیا کریں۔ 🥰
انتخاب:بے مثال تحاریر

2 تبصرے
مزاحیہ تحریر
جواب دیںحذف کریںبہت شکریہ
جواب دیںحذف کریں