میں نہیں لکھنا چاہتا تھا اس بارے میں مگر کسی اپنے کے ساتھ یہ سب زبردستی ہو تو چپ رہنا بنتا نہیں ہے
باتیں تھوڑی اوپن ہیں اسلئے معذرت۔ لیکن لکھنا ضروری ہے
واقعے کی تفصیل کو تو رہنے دیتے ہیں مگر صرف اتنا کہوں کہ اپنے بچوں کے دوستوں پر خاص نظر رکھیں کہ وہ کس سے مل رہے ہیں کتنی دیر اور کیوں
ان کے ہاتھ میں جو اپنے نے موبائل تھمایا ہے اس میں وہ کیا دیکھ رہے ہیں کتنی دیر دیکھتے ہیں
ان کر بدلتے انداز۔ رویے۔ لائف سٹائل۔ اور سوچ کے فرق
کو نوٹس میں لیں کہ یہ کہاں سے آرہا ہے اور کیوں ؟
اب واقعہ سنیں ۔
چار دوست جان پہچان والے لوگوں کے بچے ۔۔عمر پندرہ سے سترہ سال تک
یہ چار لڑکے دو بائیکس پر ایک معصوم گیارہ سال کے بچے کو شام کے اوقات میں جب وہ باہر کھیل رہا تھا۔ محلے کے لوگوں کے سامنے اٹھا کر لے جاتے ہیں اور کیوں ؟؟؟
کیونکہ وہ پیارا ہے ۔۔معصوم بھی ہے ۔۔ڈرپوک بھی ہے۔
اسلئے اسے کافی وقت سے ڈراتے رہے۔ اسے پکڑنے کی کوشش کرتے رہے مگر ہر بار اس بچے کی بھاگنے کی سپیڈ کام آئی۔ مگر اس دن بائیکس پر لے گئے۔ علاقے سے دور۔ مگر وہ بچہ پھر بھی ان سے چلتی بائیک پر لڑتا رہا۔ انکو مارتا رہا اور بائیک سے کودنے میں کامیاب ہوکر گلیوں سے ہوتا ہوا اپنے گھر پہنچا۔ ۔۔
جہاں سب اسے پہلے ہی ڈھونڈ کر پریشان ہورہے تھے
ساری بات بتائی
اور باتوں باتوں میں پتہ لگا کہ یہ چار لڑکے تو کئی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرکے ان کی ویڈو بنا چکے ہیں اور اب ان کو دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ کسی سے کہا تو اچھا نہیں ہوگا۔
میرا سوال ہے ان والدین سے جنہوں نے اپنے بچوں کو اتنا آزاد چھوڑ دیا ہے کہ وہ دوسرے بچوں کی عزت سے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں یہی نہیں بچوں کو مینٹلی ٹارچر بھی کر رہے ہیں ؟؟
اخر کیوں ؟ دس بارہ سال کے بچوں کو لڑکے ہوں یا لڑکیاں موبائل کی اتنی کیا خاص ضرورت تھے
کیونکہ یہ سب بچے سیکھتے وہیں سے ہیں جہاں ان کو ازادی دی جارہی ہے
موبائل ہاتھ میں تھما کر انجان بن جانے والے والدین کو شاید اندازہ بھی نہیں کہ ان کی بگڑی اولاد کس کس کو بگاڑ رہی ہے۔
پیسے اور موبائل کے ساتھ اب بائیکیں بھی اتنے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں تھما دی گئی ہے کہ جائیں کسی کی اغوا کریں۔ کسی کا ایکسیڈنٹ کریں
کسی کے ساتھ کچھ بھی کریں ۔مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔
ہم رشوت دے کر آپ کو چھڑوا لیں گے مگر آپ اپنی لائف فل انجوائے کریں اور ہمیں بھی کرنے دیں۔
پہلے ہمیں لگتا تھا کہ لڑکیاں محفوظ نہیں مگر اب لڑکے بھی نہیں ہیں
اب ہمارے لڑکے سڑکوں پر یا گراؤنڈ میں کرکٹ بھی نہیں کھیل سکیں گے
اب ہمیں دودھ دہی منگوانے کا بھی اسرا نہیں ان سے ۔۔
کیونکہ ہمیں تو یہ خوف رہے گا کہ بچہ باہر بھیجا تو کچھ بھی ہوسکتا ہے
ہمارے معاشرے کے مرد جو ویسے ہی سستی اور کاہلی کی وجہ سے تمغہ امتیاز لے چکے ہیں
اب ہم اس میں مزید کاہل اور سست لڑکوں کا اضافہ کریں گے کیونکہ یہ گھر میں رہیں گے
نہ یہ کام کے رہیں گے نہ کاج کے۔
ان کے ابو صبح سے رات اپنے روزگار میں مصروف رہیں گے اور مائیں ۔۔ڈبل جاب کریں گی۔ اتنے بڑے بڑے لڑکوں کو بھی اپنے ہاتھ سے سکول اور ٹیوشن چھوڑنے جائیں گی لینے جائیں گی۔
کیونکہ باہر خطرہ ہے
لڑکوں کی تو کہانی چھوڑیں۔
خطرہ یہاں سب کو ہی ہے
کچھ وقت سے مختلف گروپس میں دیکھ رہی ہوں مائیں پریشان ہیں سکول میں لڑکیاں ایک دوسرے کو پرائیوٹ پارٹس پر ہاتھ لگاتی ہیں
اور اس میں ان کو مزہ آتا ہے
یہ باتیں وہ ڈائری میں لکھتی ہیں اور ڈائری ماں کے ہاتھ لگتی ہے تو پوسٹ کردیتی ہیں پریشانی میں۔ بچیاں ایک دوسرے کے حوالے سے اتنی پوسیزیو ہیں کہ کسی اور سے دوستی ہو جائے تو جلنے لگے جاتی ہیں
اور رونے یہاں تک کہ خودکشی کے خیالات بھی۔
یہ سب نارمل نہیں ۔
یہ کھلا اشارہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کی طرف سے انتہائی لاپرواہ ہیں
اور انہیں اپنی اولاد کے دل و دماغ کا ہی نہیں پتہ چل رہا۔ کہ اس میں چل کیا رہا ہے۔
یہ اشارہ ہے کہ ہم پستی کی طرف جارہے ہیں
ہم نے بچوں کو اکیلا چھوڑ کر۔ ۔اچھا نہیں کیا
جینٹل پیرینٹنگ کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کی طرف سے لاپرواہی برتی جائے
ٹھیک ہے سوشل میڈیا کا دور ہے ڈیجیٹل دور کے بچوں کے لئے یہ برقی آلہ ضروری ہے تو احتیاط بھی کریں
بچوں کی سکرین پر نظر رکھیں
اپنے ہی جی میل اکاؤنٹ سے بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائیں
اپنے مین اکاؤنٹ سے
تمام اکاؤنٹس پر نظر رکھیں
پرائویسی سیٹینگ کرکے خود کرکے دیں اور ہر کچھ دن بعد سیٹنگز چیک کریں کہ بچوں نے کوئی ہوشیاری تو نہیں کی۔
کیونکہ اجکل کے بچے ماں باپ کو بے وقوف سمجھتے ہیں
یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں کیونکہ ہم پرانی نسل ہیں ۔
مگر اس نسل کو بتائیں کہ ماں ماں ہوتی اور باپ باپ ہی ہوتا ہے چاہے بچہ کتنا ہی آدمی کا باپ بن جائے
ان کو بتائیں کہ آپ وہ ماں باپ نہیں جن کو کمپیوٹر اور انگریزی
کی الف بے نہیں پتہ تھی۔
جن کو موبائل چلانا نہیں آتا تھا
اگر آپ کو اب بھی نہیں آتا تو سیکھ لیں آنے بچوں کے لئے۔ فضول وی لاگو نہ دیکھیں بلکہ سائیبر سیفٹی سیکھیں
۔۔جو بچے نیٹ فلیکس دیکھتے ہیں ان کو واچ ہسٹری تو لازمی چیک کریں
اور ہر ہفتے ایک بڑا سا ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ کر تمام بچوں کی ایک ساتھ ہی کلاس لگالیں
جہاں روکنا ہے وہاں لازمی روکیں ۔۔سختی کریں ۔۔انکے ٹینٹرمز میں نہ پھنسیں پلیز۔
بے شک آپ کو ان سے لاکھ محبت ہو۔ مگر محبت میں بھی آگ میں تو نہیں دکھیل سکتے۔
بچوں کے دوستوں پر۔ بچوں کے بدلتے روئیے۔ لائف سٹائل اور لہجے پر نظر رکھیں۔ جہاں سے چینج آرہا ہے وہاں نوٹس لیں ۔
اور پلیز ۔۔۔یہ بچوں کے الگ موبائل کے فیشن کو ختم کریں اگر آپ کنٹرول نہیں کرسکتے ۔۔
ورنہ آپ کو کچھ وقت بعد جگہ جگہ قوم لوط نظر آنے گی ۔اور ہم ۔۔۔عذابوں کے لئے تیار بیٹھے ہوں گے۔
اللہ پاک ہمیں سمجھ اور شعور والی آزادی عطا فرمائے آمین
والسلام

1 تبصرے
Good post
جواب دیںحذف کریں