ایک شخص اپنا قصہ بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ میں سفر پر نکلا تو راستہ بھٹک کر ایک جنگل میں جان نکلا۔ اچانک میری نظر ایک جھونپڑی پر پڑی تو میں وہاں چلا آیا۔ جھونپڑی میں ایک عورت تھی، اس نے مجھے دیکھ کر پوچھا: ”کون ہو تم؟“
میں نے کہا: ”ایک مسافر مہمان ہوں۔“
یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی، کہنے لگی: ”اللہ تعالیٰ آپ کا آنا مبارک کرے، آیئے تشریف رکھیے!“
میں گھوڑے سے اتر آیا۔ اس نے میرے سامنے کھانا پیش کیا۔ میں عورت کی مہمان نوازی سے بہت خوش ہوا۔ ابھی میں کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ اتنے میں اس کا شوہر آ پہنچا۔ اس نے غصیلی نگاہوں سے مجھے گھورا اور کڑک لہجے میں کہا:
”کون ہو تم؟“
میں نے کہا: ”ایک مسافر مہمان ہوں۔“
یہ سن کر وہ ناک بھوں چڑھا کر کہنے لگا:
”مہمان ہو تو یہاں کیا لینے آئے ہو؟ ہمارا کسی مہمان سے کیا کام!“
میں اس کی یہ بد مزاجی برداشت نہ کر سکا۔ اسی وقت گھوڑے پر سوار ہوا اور چل دیا۔
مجھے اس جنگل بیابان کی خاک چھانتے ہوئے دوسرا دن ہو چلا تھا۔ آج پھر مجھے اس ویرانے میں ایک جھونپڑی نظر آئی۔ میں قسمت آزمائی کرنے چلا آیا۔ دیکھا تو یہاں بھی ایک عورت تھی۔ اس نے پہلے تو مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا، پھر بولی:
”کون ہو تم؟“
میں نے جواب دیا: ”ایک مسافر مہمان ہوں۔“
وہ جل بھن کر کہنے لگی:
”ہونہ! مہمان ہو تو یہاں ہمارے پاس کیا لینے آئے ہو؟ جاؤ اپنا راستہ!“
ابھی وہ اپنی جلی کٹی سنا رہی تھی کہ اس کا شوہر آ گیا۔ اس نے ایک نظر مجھ کو دیکھا اور پھر اپنی بیوی سے مخاطب ہوا:
”کون ہے یہ؟“
بیوی نے بڑا سا منہ بنا کر کہا: ”کوئی مسافر مہمان ہے۔“
یہ سن کر اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ وہ آگے بڑھ کر مجھ سے گلے ملا، کہنے لگا:
”آپ کی آمد مبارک! آپ ہمارے لیے اللہ کی رحمت بن کر آئے ہیں۔“
پھر اس نے مجھے عزت و احترام سے بٹھایا، نہایت ہی عمدہ کھانا لے کر آیا۔ میں کھانا کھا ہی رہا تھا کہ مجھے گزشتہ روز کا واقعہ یاد آ گیا اور بے اختیار میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی۔ اس شخص نے مجھے مسکراتے دیکھا تو پوچھا:
”آپ کیوں مسکرا رہے ہو؟“
میں نے اس کے سامنے گزشتہ روز کا واقعہ بیان کیا اور دونوں میاں بیوی کے متضاد سلوک کا ذکر بھی کیا۔ یہ سن کر وہ شخص ہنس دیا۔ بولا:
”وہ عورت جس سے گزشتہ روز آپ کا واسطہ پڑا تھا وہ میری بہن ہے، اور اس کا شوہر جس کی بد اخلاقی کی آپ شکایت کر رہے ہیں وہ میری اس بیوی کا بھائی ہے۔ یقیناً ہر شخص پر اس کے خاندانی مزاج کا اثر ہوتا ہے۔“
(المتطرف، ص: ۱۸۸)
*اخلاق و تربیت*
اخلاق و تربیت انسانی زندگی کے دو اہم پہلو ہیں جو انسان کے کردار اور شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ اخلاق وہ اصول و ضوابط ہیں جو انسان کے برتاؤ اور رویے کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ تربیت وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے اخلاق کو بہتر بناتا ہے اور اپنی شخصیت کو نکھارتا ہے۔
*اخلاق کے عناصر*
1. *صداقت*: سچائی اور راست بازی کو اپنانا۔
2. *امانت*: دوسروں کی امانت اور حقوق کا خیال رکھنا۔
3. *رحم*: دوسروں کے ساتھ شفقت اور مروت کا برتاؤ کرنا۔
4. *عدل*: انصاف اور برابری کو قائم رکھنا۔
5. *احسان*: دوسروں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنا۔
*تربیت کے مراحل*
1. *خود شناسی*: اپنے آپ کو پہچاننا اور اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا۔
2. *خود اصلاح*: اپنی خامیوں کو دور کرنا اور اپنے اخلاق کو بہتر بنانا۔
3. *تعلیم و تعلم*: علم حاصل کرنا اور اپنی شخصیت کو نکھارنا۔
4. *عمل*: اپنے علم کو عمل میں لانا اور اپنی زندگی کو بہتر بنانا۔
*تربیت کے فوائد*
1. *شخصیت کی تشکیل*: تربیت انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور اسے ایک بہتر انسان بناتی ہے۔
2. *اخلاق کی بہتری*: تربیت انسان کے اخلاق کو بہتر بناتی ہے اور اسے ایک نیک انسان بناتی ہے۔
3. *اجتماعی فائدہ*: تربیت یافتہ انسان اپنے معاشرے کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
اس لئے، اخلاق و تربیت دونوں ہی انسانی زندگی کے لئے بہت ضروری ہیں اور ان دونوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
*بارك الله بكم جميعا*

2 تبصرے
ماشاءاللہ بہت خوب۔ تربیت کے حوالے سے بے مثال تحاریر میں خوبصورت اضافہ۔
جواب دیںحذف کریںماشاءاللہ بہت خوب ۔ پر اثر تحریر۔ خوبصورت اضافہ
جواب دیںحذف کریں