اشاعتیں

بچے کی تربیت کا سنہری دور

تصویر
  عموماً ہمارے معاشرے میں دین و اسلام کی دوری اور شعور کی کمی کی وجہ سے بچوں کی تربیت کو بہت غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور بچوں کو جنم دینے کے بعد ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے وہ جس حالت میں یا جس سانچے میں ڈھلنا چاہیں اپنی مرضی سے ڈھل جاتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں جہالت اس قدر عروج پر ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال، بچوں کو نہلانا دھلانا، کھانا کھلانا اور دیگر معاملات کو تربیت سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ ان عوامل سے اپنے بچوں کو چرند پرند اور جانور بھی ایک احسن طریقے سے گزار دیتے ہیں  ،درحقیقت تربیت دین اسلام اور آخرت کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانیت حسنِ اَخلاق، سچ جھوٹ، حلال حرام اور ایک مثبت کردار کا نام ہے ڈاکٹر کہتے ہیں، انسانی دماغ کی 80 فیصد نشوونما 3 سے 6 سال کی عمر میں ہو جاتی ہے۔ اسلام بھی یہی کہتا ہے، بچپن میں جو نقش دل پر بنتا ہے، وہ پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔ یہ 3 سال آپ کے بچے کی پوری زندگی کا فیصلہ کر دیں گے، اگر آپ نے اس وقت محنت کر لی تو ساری زندگی آرام سے گزرے گی۔ اللہ فرماتا ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" (البقرہ:)  مائیں اپنے بچوں کو دو س...

مجازی خدا یا دوست، شوہر یا ہم سفر

تصویر
  (رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ گھر میں رویہ ، گھر کے کاموں میں مدد، سنت نبوی) آج ہمارے معاشرے میں مرد سمجھتا ہے کہ میری ذمہ داری صرف باہر کمانا ہے، گھر کا کام بیوی کا ہے۔ لیکن جس ہستی کو ہم اپنا نبی ﷺ مانتے ہیں، جس کی شفاعت کے بغیر جنت نہیں ملے گی، اس کا گھر میں رویہ کیا تھا؟ کیا وہ بھی ایسے ہی حکم چلاتے تھے؟ آئیے سنت کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء)  اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔  یہ صرف نصیحت نہیں، یہ اللہ کا حکم ہے۔ اور "معروف" کا مطلب ہے، وہ سلوک جو عقل، شریعت اور محبت کے مطابق بہترین ہو۔ دوسری جگہ فرمایا: "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً" (الروم)   اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت ڈال دی۔ بیوی سکون کی جگہ ہے، نوکرانی نہیں۔ نبی ﷺ کا گھر میں رویہ کیسا تھا؟ ام المومنین حضرت عائشہؓ ...

روحانی والدین، قوم کے معمار

تصویر
  یومِ اساتذہ: کیا ہم اپنے محسنوں کو بھول رہے ہیں؟ 5 اکتوبر، یومِ اساتذہ پر ہر طرف Happy Teachers Day کے پیغامات تو نظر آتے ہیں، لیکن اگر ہم دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو کیا آج استاد کو وہ عزت مل رہی ہے جس کا وہ حقدار ہے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا منظر بہت بدل گیا ہے۔ آج کل کا بچہ کلاس میں استاد کے سامنے ادب کرنا بھول گیا ہے۔ معمولی ڈانٹ پر بدتمیزی، جواب دیناعام ہو گیا ہے۔ اور دوسری طرف والدین کا رویہ، چھوٹی چھوٹی بات پر اسکول آ جانا، بغیر تحقیق کے بچے کی بات سن کر استاد کو بے عزت کر دینا، اور یہ سمجھنا کہ ہم نے فیس دے دی ہے تو استاد ہمارا ملازم ہے۔ وہ استاد جو کبھی روحانی باپ کہلاتا تھا، آج اسی معاشرے میں تنہا اور دل شکستہ کھڑا ہے۔ ہم نے بڑے بڑے عہدے تو حاصل کر لیے، لیکن وہ ہاتھ جنہوں نے ہمیں قلم پکڑنا سکھایا، ہم انہی کو بھول گئے۔ استاد صرف وہ نہیں جو بلیک بورڈ پر لکھتا ہے، استاد تو قوم کا معمار ہے۔ وہی ہے جو ہمیں پہلی بار قلم پکڑنا سکھاتا ہے، ہمیں زندگی کا ادب سکھاتا ہے۔ استاد دنیا کی وہ واحد ہستی ہے جو اپنے شاگرد کو خود سے آگے بڑھتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ وہ جلتا نہیں، بلک...

اخلاص کی طاقت، توکل اللّہ

تصویر
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ پاک ہمارے چھوٹے بڑے تمام گناہوں نیکیوں اور تمام معاملات سے ہر پل واقف ہے مگر اللہ رب العزت کو اپنے  گناہوں پر توبہ کرنے والا شخص اور تنہائی میں اللہ پاک سے باتیں کرنے والا شخص بہت زیادہ پسند ہے یہ بنی اسرائیل کے ایک زمانے کا سچا واقعہ ہے، جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔ کہتے ہیں بنی اسرائیل میں تین آدمی سفر پر نکلے۔ راستہ لمبا تھا، صحرا گرم تھا، سورج سر پر تھا۔ چلتے چلتے شام ہو گئی اور آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔ بارش ہونے لگی تو تینوں نے سوچا کہیں پناہ لینی چاہیے۔ قریب ہی ایک پہاڑ تھا، اس پہاڑ میں ایک بڑی غار تھی۔ تینوں اس غار میں داخل ہو گئے تاکہ بارش ختم ہو تو آگے نکلیں۔ وہ ابھی غار میں بیٹھے ہی تھے کہ پہاڑ کے اوپر سے ایک بہت بڑا پتھر لڑھکا اور آ کر غار کے منہ پر گر گیا۔ غار کا منہ بالکل بند ہو گیا۔ اندر اندھیرا چھا گیا۔ تینوں نے مل کر پتھر کو ہٹانے کی بہت کوشش کی، زور لگایا، دھکے دیے، لیکن پتھر اتنا بڑا تھا کہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اب تینوں کو یقین ہو گیا ...

خاموش قاتل، موبائل فون بچوں کی ذہانت کا قاتل

تصویر
  آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ موبائل ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے ہاتھ میں ایک ایسا زہر دے دیا ہے جو آہستہ آہستہ ان کا دماغ، آنکھیں، دین اور دنیا سب ختم کر رہا ہے۔ ماں خوش ہے، بچہ چپ ہے، لیکن حقیقت میں بچہ برباد ہو رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرہ: 195) -  اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ آج ہم اپنے ہاتھوں سے بچوں کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ -  تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری)  باپ سے اس کے بچے کے موبائل کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ موبائل بچے کی ذہانت کیسے ختم کرتا ہے؟ 1. دماغ کا مر جانا سائنس کہتی ہے، 0 سے 10 سال تک بچے کے دماغ کی نشوونما ہوتی ہے۔ موبائل کی تیز روشنی اور تیزی سے بدلتے کارٹون بچے کے دماغ کو سست کر دیتے ہیں۔ اس کی یادداشت کمزور ہو جاتی ہے، وہ کسی چیز پر توجہ نہیں دے پاتا۔ قرآن یاد کرنا تو دور، اسکول کا سبق بھی یاد نہیں رہتا۔  اللہ نے فرمایا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْ...

حسن اخلاق ؛حُسنِ اخلاق کیا ہے؟ - نبی ﷺ نے بہترین مسلمان کی پہچان کیا بتائی؟

تصویر
یوں تو ہمارے لیڈر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی کا ہر لمحہ مبارک اور قابلِ رسک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا دل موہ لیتی ہے، آپ کا ہر عمل انسانیت کے لیے بہترین سرمایہ ہے  المختصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو عظمت و حکمت سے بھرا پڑا ہے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنِ اَخلاق پر بہت زور دیا دوسرے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا نچوڑ حسنِ اَخلاق ہے اسلام میں تمام تر عبادات کا اپنا مقام ہے، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج اسلام کے بنیادی ستون ہیں، لیکن اگر ان عبادات کے ساتھ حُسنِ اخلاق نہ ہو تو یہ عبادات بھی بے جان جسم کی طرح ہیں۔ حُسنِ اخلاق دراصل اسلام کی روح ہے۔ لفظ "حُسنِ اخلاق" کا مطلب ہے اچھے اخلاق، یعنی انسان کا کردار، اس کی بات چیت، اس کا لین دین، غصے میں اس کا رویہ، خوشی میں اس کا برتاؤ، یہ سب مل کر اس کے اخلاق کہلاتے ہیں۔ قرآن میں حُسنِ اخلاق کا مقام: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے محبوب نبی ﷺ کے اخلاق کی گواہی ان الفاظ میں دی: *"وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ"* (سورہ القلم: 4) ترجمہ: اور بے شک آپ اخلاق کے بہت ب...

نیکیوں کو کھا جانے والی آگ؛ غصہ

تصویر
غصے پر قابو، عہدِ نبوی سے واقعات غصہ ایک ایسی آگ ہے جو پہلے غصہ کرنے والے کو ہی جلاتی ہے۔ ہر گھر کی لڑائی، ہر طلاق، ہر قتل کے پیچھے غصے کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے غصے کو سب سے بڑا دشمن کہا ہے۔ قرآن میں غصہ پینے والوں کی تعریف: اللہ تعالیٰ نے جنت کے وارثوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ" (آل عمران: 134) ترجمہ: جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یعنی غصہ آنا برا نہیں، غصے کو پی جانا کمال ہے۔ نبی ﷺ نے غصے کے بارے میں کیا فرمایا؟ ایک صحابی نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"لَا تَغْضَبْ" - غصہ نہ کرو۔ اس صحابی نے بار بار پوچھ آپ ہر بار یہی فرماتے رہے، غصہ نہ کرو۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ"   جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے خاموش ہو جانا چاہیے۔ اور فرمایا، غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے، اور آگ پانی سے بجھتی ہے، ا...