اشاعتیں

وجودِ کائنات کا حسن: عورت

تصویر
  عورت کا وجود کائناتِ انسانی کا حسن اور اس کی تکمیل کی ضمانت ہے۔ تاریخِ عالم گواہ ہے کہ ہر تہذیب اور ہر معاشرے نے عورت کے بارے میں اپنا ایک نقطۂ نظر پیش کیا، لیکن بدقسمتی سے اسلام سے قبل  تقریباً تمام تہذیبوں میں عورت کو کم تر، حقیر اور محض مرد کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کے جاہلی معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا اور اسے زندہ درگور کر دیا جاتا، رومی اور یونانی تہذیب میں اسے شیطان کا آلہ کار قرار دیا جاتا، جبکہ ہندو معاشرے میں شوہر کی چتا کے ساتھ اسے بھی جلا دیا جاتا۔ ایسے تاریک دور میں اسلام طلوعِ آفتاب بن کر آیا اور اس نے عورت کو وہ مقام و مرتبہ عطا کیا جس کی نظیر دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ اسلام نے عورت کو محض حقوق ہی نہیں دیے بلکہ اسے عزت، وقار، شرف اور تقدس کی چادر عطا کی۔ اسی حقیقت کو ہمارے دور کے جید محقق اور عالمِ دین شیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ (١٤٤٧ھ) نے بڑے جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔ شیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  "اسلام نے عورت پر عائد فرائض و واجبات کے مقابلہ میں اسے کہیں زیادہ حقوق سے نوازا...

"بوڑھے والدین - اللہ کی نعمت, بوجھ نہیں"

تصویر
آج کل ہر اسکول میں ایک نیا رجھان آیا ہے، گرینڈ پیرنٹس ڈےمنانے کا۔ ہم بڑے جوش و خروش سے اسٹیج سجاتے ہیں، بچوں سے نظمیں پڑھواتے ہیں، دادا دادی، نانا نانی کو کارڈ دیتے ہیں اور تالیوں میں ان کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو حقیقت اس اسٹیج سے بہت مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن ہاتھوں کو ہم آج اسٹیج پر پھول دے رہے ہیں، گھروں میں وہی ہاتھ اکثر تنہا رہ جاتے ہیں۔ جن کی باتوں کو ہم آج مائیک پر بڑی عقیدت سے سن رہے ہیں، گھروں میں انہی کی باتوں کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم نے بزرگوں کو دیواروں پر لگی تصویروں اور سال میں ایک دن کی تقریب تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ وہ بوجھ نہیں، ہمارے گھروں کی برکت اور رحمت ہیں۔۔ وہ گھر جہاں اپنے نہیں رہتے بات کچھ دن پہلے کی ہے، مجھے ایک جگہ جانے کا موقع ملا جسے لوگ اولڈ ایج ہوم کہتے ہیں۔ باہر سے وہ ایک عام عمارت لگتی تھی، لیکن اندر قدم رکھتے ہی مجھے لگا جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہوں۔ وہاں سب سے پہلے میری ملاقات وہاں کی نگران سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں رہنے والے بزرگ کیسے ہیں؟ تو وہ ایک لمبی سانس لے کر بولیں کہ یہاں ہر شخص کی اپنی ا...

بچوں کی تعلیم پر نظر رکھنا - والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری

تصویر
  آج ہمارے معاشرے میں ایک عام سوچ بن گئی ہے کہ بچے کو اچھے سکول میں داخل کرا دیا، مہنگی فیس دے دی، اچھا ٹیوٹر رکھ دیا یا مسجد میں قاری صاحب کے پاس بٹھا دیا تو بس ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی۔ لیکن ہمارے سلف صالحین کا مزاج اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ بچہ صرف کتاب سے نہیں سیکھتا، وہ استاد کے لہجے، اس کی باتوں، اس کے مزاج اور اس کی ترجیحات سے بھی سیکھتا ہے۔ اسی لیے وہ استاد کے انتخاب میں جتنی سختی کرتے تھے، اتنی ہی نظر اس پر بھی رکھتے تھے کہ وہ بچوں کو سکھا کیا رہا ہے۔ اولاد کو آگ سے بچانا صرف روٹی کپڑا نہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ﴾* "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔" (سورۃ التحریم: 6) اس آیت کی تفسیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: *"عَلِّمُوهُمْ وَأَدِّبُوهُمْ"* "انہیں علم سکھاؤ اور ادب سکھاؤ۔" (تفسیر الطبری: 23/491) یعنی بچوں کو آگ سے بچانا صرف یہ نہیں کہ انہیں حرام سے روک دیا جائے، بلکہ انہیں وہ علم اور وہ ادب دینا ہے جو انہیں جہنم سے دور ل...

کامیاب شادی کا قرآنی تعلیمات

تصویر
1. قرآن کے مطابق آپ کو کس سے شادی کرنی چاہیے؟ 14 خوبیاں جو ہر رشتے میں ہونی چاہئیں 2. شادی سے پہلے قرآن کی یہ 14 نصیحتیں ضرور یاد رکھیں، زندگی جنت بن جائے گی 3. رشتہ دیکھتے وقت کیا دیکھنا چاہیے؟ قرآن نے بہترین جیون ساتھی کی پہچان بتا دی 4. کامیاب شادی کا قرآنی فارمولا - ایسا شخص جس سے شادی کرنی چاہیے قرآن آپکو بتاتا ہے کہ آپکو کس سے شادی کرنی چاہیے؟ — ایک مکمل رہنمائی آج کے دور میں جب رشتے کے لیے سب سے پہلے ذات، برادری، نوکری، تنخواہ، خوبصورتی اور گھر دیکھا جاتا ہے، تو یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ ہمارا دین ہمیں شریکِ حیات کے انتخاب کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پاک نے شادی کو صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں، بلکہ سکون، محبت اور رحمت کا رشتہ قرار دیا ہے۔ اگر ہم قرآن کی روشنی میں اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کریں تو ہماری زندگی دنیا میں بھی جنت بن سکتی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں قرآن کن 14 خوبیوں والے شخص سے شادی کا درس دیتا ہے: 1. جو حسن سلوک اور مہربانی سے پیش آئے - سورۃ النساء قرآن فرماتا ہے: وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ - عورتوں کے ...

پڑوسی کے ساتھ حُسنِ اخلاق - ایک بھولی ہوئی سنت

تصویر
ہمارے معاشرے کا ایک یہ بھی المیہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز رکھتے ہوئے بھی اپنے پڑوسیوں سے بلکل ناواقف ہوتے ہیں آج ہم مسجد میں سب کے ساتھ مسکرا کر ملتے ہیں، فیس بک پر ہزاروں دوست ہیں، لیکن اپنے ساتھ والے گھر میں رہنے والے پڑوسیوں کے حال احوال کی کوئی خیر خبر نہیں۔ یہ ہے آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ۔ اسلام نے پڑوسی کو جو مقام دیا ہے، شاید ہی کسی اور مذہب نے دیا ہو۔ قرآن میں پڑوسی کا حق: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *"وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ"* (النساء) اس آیت میں اللہ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ پڑوسی کا بھی ذکر کیا۔ دو طرح کے پڑوسی بتائے، ایک رشتہ دار پڑوسی، اور ایک اجنبی پڑوسی، دونوں کا حق ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: *"مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ"* (بخاری و مسلم) ترجمہ: جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں...

بچے کی تربیت کا سنہری دور

تصویر
  عموماً ہمارے معاشرے میں دین و اسلام کی دوری اور شعور کی کمی کی وجہ سے بچوں کی تربیت کو بہت غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور بچوں کو جنم دینے کے بعد ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے وہ جس حالت میں یا جس سانچے میں ڈھلنا چاہیں اپنی مرضی سے ڈھل جاتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں جہالت اس قدر عروج پر ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال، بچوں کو نہلانا دھلانا، کھانا کھلانا اور دیگر معاملات کو تربیت سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ ان عوامل سے اپنے بچوں کو چرند پرند اور جانور بھی ایک احسن طریقے سے گزار دیتے ہیں  ،درحقیقت تربیت دین اسلام اور آخرت کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانیت حسنِ اَخلاق، سچ جھوٹ، حلال حرام اور ایک مثبت کردار کا نام ہے ڈاکٹر کہتے ہیں، انسانی دماغ کی 80 فیصد نشوونما 3 سے 6 سال کی عمر میں ہو جاتی ہے۔ اسلام بھی یہی کہتا ہے، بچپن میں جو نقش دل پر بنتا ہے، وہ پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔ یہ 3 سال آپ کے بچے کی پوری زندگی کا فیصلہ کر دیں گے، اگر آپ نے اس وقت محنت کر لی تو ساری زندگی آرام سے گزرے گی۔ اللہ فرماتا ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" (البقرہ:)  مائیں اپنے بچوں کو دو س...

مجازی خدا یا دوست، شوہر یا ہم سفر

تصویر
  (رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ گھر میں رویہ ، گھر کے کاموں میں مدد، سنت نبوی) آج ہمارے معاشرے میں مرد سمجھتا ہے کہ میری ذمہ داری صرف باہر کمانا ہے، گھر کا کام بیوی کا ہے۔ لیکن جس ہستی کو ہم اپنا نبی ﷺ مانتے ہیں، جس کی شفاعت کے بغیر جنت نہیں ملے گی، اس کا گھر میں رویہ کیا تھا؟ کیا وہ بھی ایسے ہی حکم چلاتے تھے؟ آئیے سنت کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء)  اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔  یہ صرف نصیحت نہیں، یہ اللہ کا حکم ہے۔ اور "معروف" کا مطلب ہے، وہ سلوک جو عقل، شریعت اور محبت کے مطابق بہترین ہو۔ دوسری جگہ فرمایا: "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً" (الروم)   اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت ڈال دی۔ بیوی سکون کی جگہ ہے، نوکرانی نہیں۔ نبی ﷺ کا گھر میں رویہ کیسا تھا؟ ام المومنین حضرت عائشہؓ ...

روحانی والدین، قوم کے معمار

تصویر
  یومِ اساتذہ: کیا ہم اپنے محسنوں کو بھول رہے ہیں؟ 5 اکتوبر، یومِ اساتذہ پر ہر طرف Happy Teachers Day کے پیغامات تو نظر آتے ہیں، لیکن اگر ہم دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو کیا آج استاد کو وہ عزت مل رہی ہے جس کا وہ حقدار ہے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا منظر بہت بدل گیا ہے۔ آج کل کا بچہ کلاس میں استاد کے سامنے ادب کرنا بھول گیا ہے۔ معمولی ڈانٹ پر بدتمیزی، جواب دیناعام ہو گیا ہے۔ اور دوسری طرف والدین کا رویہ، چھوٹی چھوٹی بات پر اسکول آ جانا، بغیر تحقیق کے بچے کی بات سن کر استاد کو بے عزت کر دینا، اور یہ سمجھنا کہ ہم نے فیس دے دی ہے تو استاد ہمارا ملازم ہے۔ وہ استاد جو کبھی روحانی باپ کہلاتا تھا، آج اسی معاشرے میں تنہا اور دل شکستہ کھڑا ہے۔ ہم نے بڑے بڑے عہدے تو حاصل کر لیے، لیکن وہ ہاتھ جنہوں نے ہمیں قلم پکڑنا سکھایا، ہم انہی کو بھول گئے۔ استاد صرف وہ نہیں جو بلیک بورڈ پر لکھتا ہے، استاد تو قوم کا معمار ہے۔ وہی ہے جو ہمیں پہلی بار قلم پکڑنا سکھاتا ہے، ہمیں زندگی کا ادب سکھاتا ہے۔ استاد دنیا کی وہ واحد ہستی ہے جو اپنے شاگرد کو خود سے آگے بڑھتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ وہ جلتا نہیں، بلک...

اخلاص کی طاقت، توکل اللّہ

تصویر
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ پاک ہمارے چھوٹے بڑے تمام گناہوں نیکیوں اور تمام معاملات سے ہر پل واقف ہے مگر اللہ رب العزت کو اپنے  گناہوں پر توبہ کرنے والا شخص اور تنہائی میں اللہ پاک سے باتیں کرنے والا شخص بہت زیادہ پسند ہے یہ بنی اسرائیل کے ایک زمانے کا سچا واقعہ ہے، جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔ کہتے ہیں بنی اسرائیل میں تین آدمی سفر پر نکلے۔ راستہ لمبا تھا، صحرا گرم تھا، سورج سر پر تھا۔ چلتے چلتے شام ہو گئی اور آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔ بارش ہونے لگی تو تینوں نے سوچا کہیں پناہ لینی چاہیے۔ قریب ہی ایک پہاڑ تھا، اس پہاڑ میں ایک بڑی غار تھی۔ تینوں اس غار میں داخل ہو گئے تاکہ بارش ختم ہو تو آگے نکلیں۔ وہ ابھی غار میں بیٹھے ہی تھے کہ پہاڑ کے اوپر سے ایک بہت بڑا پتھر لڑھکا اور آ کر غار کے منہ پر گر گیا۔ غار کا منہ بالکل بند ہو گیا۔ اندر اندھیرا چھا گیا۔ تینوں نے مل کر پتھر کو ہٹانے کی بہت کوشش کی، زور لگایا، دھکے دیے، لیکن پتھر اتنا بڑا تھا کہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اب تینوں کو یقین ہو گیا ...

خاموش قاتل، موبائل فون بچوں کی ذہانت کا قاتل

تصویر
  آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ موبائل ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے ہاتھ میں ایک ایسا زہر دے دیا ہے جو آہستہ آہستہ ان کا دماغ، آنکھیں، دین اور دنیا سب ختم کر رہا ہے۔ ماں خوش ہے، بچہ چپ ہے، لیکن حقیقت میں بچہ برباد ہو رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرہ: 195) -  اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ آج ہم اپنے ہاتھوں سے بچوں کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ -  تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری)  باپ سے اس کے بچے کے موبائل کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ موبائل بچے کی ذہانت کیسے ختم کرتا ہے؟ 1. دماغ کا مر جانا سائنس کہتی ہے، 0 سے 10 سال تک بچے کے دماغ کی نشوونما ہوتی ہے۔ موبائل کی تیز روشنی اور تیزی سے بدلتے کارٹون بچے کے دماغ کو سست کر دیتے ہیں۔ اس کی یادداشت کمزور ہو جاتی ہے، وہ کسی چیز پر توجہ نہیں دے پاتا۔ قرآن یاد کرنا تو دور، اسکول کا سبق بھی یاد نہیں رہتا۔  اللہ نے فرمایا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْ...

حسن اخلاق ؛حُسنِ اخلاق کیا ہے؟ - نبی ﷺ نے بہترین مسلمان کی پہچان کیا بتائی؟

تصویر
یوں تو ہمارے لیڈر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی کا ہر لمحہ مبارک اور قابلِ رسک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا دل موہ لیتی ہے، آپ کا ہر عمل انسانیت کے لیے بہترین سرمایہ ہے  المختصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو عظمت و حکمت سے بھرا پڑا ہے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنِ اَخلاق پر بہت زور دیا دوسرے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا نچوڑ حسنِ اَخلاق ہے اسلام میں تمام تر عبادات کا اپنا مقام ہے، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج اسلام کے بنیادی ستون ہیں، لیکن اگر ان عبادات کے ساتھ حُسنِ اخلاق نہ ہو تو یہ عبادات بھی بے جان جسم کی طرح ہیں۔ حُسنِ اخلاق دراصل اسلام کی روح ہے۔ لفظ "حُسنِ اخلاق" کا مطلب ہے اچھے اخلاق، یعنی انسان کا کردار، اس کی بات چیت، اس کا لین دین، غصے میں اس کا رویہ، خوشی میں اس کا برتاؤ، یہ سب مل کر اس کے اخلاق کہلاتے ہیں۔ قرآن میں حُسنِ اخلاق کا مقام: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے محبوب نبی ﷺ کے اخلاق کی گواہی ان الفاظ میں دی: *"وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ"* (سورہ القلم: 4) ترجمہ: اور بے شک آپ اخلاق کے بہت ب...

نیکیوں کو کھا جانے والی آگ؛ غصہ

تصویر
غصے پر قابو، عہدِ نبوی سے واقعات غصہ ایک ایسی آگ ہے جو پہلے غصہ کرنے والے کو ہی جلاتی ہے۔ ہر گھر کی لڑائی، ہر طلاق، ہر قتل کے پیچھے غصے کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے غصے کو سب سے بڑا دشمن کہا ہے۔ قرآن میں غصہ پینے والوں کی تعریف: اللہ تعالیٰ نے جنت کے وارثوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ" (آل عمران: 134) ترجمہ: جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یعنی غصہ آنا برا نہیں، غصے کو پی جانا کمال ہے۔ نبی ﷺ نے غصے کے بارے میں کیا فرمایا؟ ایک صحابی نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"لَا تَغْضَبْ" - غصہ نہ کرو۔ اس صحابی نے بار بار پوچھ آپ ہر بار یہی فرماتے رہے، غصہ نہ کرو۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ"   جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے خاموش ہو جانا چاہیے۔ اور فرمایا، غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے، اور آگ پانی سے بجھتی ہے، ا...

اللہ کی انمول تخلیق اور انسانی ساخت میں پوشیدہ حکمتیں

تصویر
 میں نے تاریخ کی ایک کتاب میں بہت ہی مفید واقعہ پڑھا میں نے  سوچا کہ آپ دوستوں کی سامنے وہ پیش کروں تاکہ اس واقعے سے جو سیکھا اس علم سے بے مثال تحاریر کے تمام ممبران مستفید ہو سکیں یقین کریں یہ مفید اور شاہکار اللہ کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں نے تقریباََ 2018 میں یہ آرٹیکل پڑھا تھا مگر مجھے آج تک کسی تحریر نے اتنا متاثر نہیں کیا جتنا اس تحریر نے متاثر کیا اور مجھ پر اپنا وہ نقش چھوڑا جو اب تک ثبت ہے  میں نے جب اس کا مطالعہ مکمل کیا تو میں حیرت کے اس مقام پر تھا جس کو الفاظ میں بیان کرنا میرے بس کی بات نہیں۔ ہم اس قدر ناشکرے اور اللہ کے احسانات کو بھولنے والے بھلکڑ ہیں کہ کبھی اپنے اس خاکی جسم اور اس کے اندر جو نظام اللہ نے تخلیق کیے ہیں ان پر بھی کبھی غور کرنے کی کوشش نہیں کی، چلیں چھوڑیں اپنی کیفیت تو بیان ہوتی رہے گی آئیے اس تحریر کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں امام جعفر صادق رضی اللّہ عنہ کے دور میں ایک بہت بڑی نامی گرامی شخصیت گزری ہے جس کو لوگ طبیب ہندی کے نام سے جانتے ہیں اور اس کے علم اور اس کی طبی مہارت کےماننے والے تھے ایک دن ایسا ہوا کہ منصور کا دربار لگا...

غصہ اور تکبر (سنٹرل جیل کی ایک سچی کہانی)

تصویر
  یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ مجرم برے لوگ ہی بنتے ہیں بعض دفعہ حالات و واقعات اور جذبات ایسا گل کھلا دیتے ہیں کہ بڑے اچھے اور نامی گرامی لوگ بھی مجرم بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں آئیے آپ کو ایسی ایک کہانی سناتے ہیں یہ کہانی کسی کتاب کی نہیں، سنٹرل جیل کی ایک سچی داستان ہے۔ جہاں میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے میری زندگی کا نظریہ ہی بدل دیا۔ جیل میں مجھے راؤ اکبر صاحب کے اطمینان، ان کے سکون اور ان کی شخصیت نے حیران کر دیا تھا۔ وہ شخص چند دن بعد پھانسی پانے والا تھا۔ صدرِ مملکت نے اس کی رحم کی اپیل تک مسترد کر دی تھی۔ پوری جیل مغموم تھی، ہر آنکھ اداس تھی، مگر اس کے چہرے پر ایک گہرا اطمینان اور عجیب سا سکون تھا۔ جیل کے تمام قیدی، یہاں تک کہ سرکاری اور غیر سرکاری عملہ بھی اس کی بے انتہا عزت کرتا تھا۔ وہ جیل کی مدر ٹریسا تھا۔ ہر ایک کے دکھ درد کا ساتھی۔ وہ ایک خوشحال آدمی تھا، اس کے لواحقین، عزیز و اقارب، بہن بھائی اور دوست احباب سب کھاتے پیتے اور بااثر لوگ تھے۔ جیل میں وہ جس کو بھی پریشان دیکھتا، اس کے لیے ایک رقعہ لکھ دیتا اور اس غریب کا مسئلہ حل ہو جاتا۔ وہ انتہائی سمجھ دار، وضع دار ...

معاف کر دینا سب سے بڑا انتقام ہے- نیلسن منڈیلا کا سبق آموز واقعہ

تصویر
  الحمداللہ: ہم مسلمانوں کی تاریخ ایسے معاف کر دینے والے واقعات سے بھری پڑی ہے ہمارے آبا و اجداد بلا کے بہادر، دلیر، رحم دل اور معاف کر دینے والے لوگ تھے۔ہمارے سب سے بڑے لیڈر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو معاف فرما کر عفو و درگزر کی ایسی مثال قائم کر دی ہے جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گی۔ نیلسن منڈیلا کو دنیا ماڈیبا کے نام سے یاد کرتی ہے، جس کا مطلب ہے بڑے والد۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 27 سال جیل میں گزارے۔ جب وہ جیل سے رہا ہوئے تو ان کے پاس دنیا کی ہر طاقت تھی کہ وہ اپنے دشمنوں سے بدلہ لے سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایک ایسا راستہ چنا جس نے انہیں عام انسان سے عظیم انسان بنا دیا۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ منڈیلا جیل سے رہائی کے بعد پہلی بار اپنے گھر جا رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب میں جیل کی دیواروں سے باہر نکلا تو میں نے کھلا آسمان، آزاد ہوا اور پرندوں کو دیکھا۔ میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔ میں گاڑی کی طرف بڑھا تو اچانک میں رک گیا۔ میں واپس جیل کے اندر گیا۔ وہاں وہ تمام جیل وارڈن موجود تھے جنہوں نے سالوں تک مجھ پر ظلم کیا تھا۔ میں ایک ایک کے ...